معیشت کے بیان پر تنازع: ’دانستہ پالیسی کے تحت افراتفری پیدا کی جا رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ذیشان ظفر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں ان دنوں فوج اور سول حکومت کے درمیان تناؤ کی ایک وجہ ملک کی معاشی صورتحال بنی ہوئی ہے جس کا آغاز بّری فوج کے سربراہ کے ایک سیمینار میں معیشت پر بیان سے ہوا۔
معیشت پر بیانات کے تبادلے میں نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ سنیچر کو اس معاملے پر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل آصف غفور کو ایک پریس کانفرنس میں اس پر بات کرنا پڑی۔
بظاہر تو اس پریس کانفرنس کا موضوع اور تھا لیکن تاثر یہ ملتا ہے کہ اس کا مقصد وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کے اُس بیان کا جواب دینا تھا جس میں انھوں نے فوج کی طرف سے معیشت کے بارے میں بیان پر خفگی کا اظہار کیا تھا۔
فوج کے ترجمان نے یہ باور کراتے ہوئے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں مسلح افواج کی طرف سے کہتے ہیں، کہا کہ انھیں وزیر داخلہ کے بیان پر بحیثیت عام شہری اور فوجی افسوس ہوا۔
میجر جنرل آصف غفور وزیر داخلہ کے بیان کا جواب دینے کے لیے پوری طرح سے تیار ہو کر آئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے نہ صرف اپنے انٹرویو کی ریکارڈنگ ذرائع ابلاع کے نمائندوں کو سنوائی جس میں انھوں نے ملکی معیشت پر اظہار خیال کیا تھا بلکہ فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے خطاب کے بھی سیاق و سباق کی وضاحت کی۔
فوج کے ترجمان نے اس پریس کانفرنس میں ملکی معیشت پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے گذشتہ سال کی ٹیکس وصولیوں کے بھی اعداد و شمار رکھ دیے۔ ان اعداد و شمار کو پیش کر کے واضح طور پر انھوں نے کہا کہ ان کو بہتر کیا جانا بہت ضروری ہے۔
ملک میں وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد سیاسی بے چینی پائی جاتی ہے۔ ملک کے وزیر خزانہ اپنے خلاف بدعنوانی اور کرپشن کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔
اس ماحول میں سول حکومت اور فوج کے تعلقات میں بدمزگی کے بارے میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ فوج نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ملک کے اقتصادی اور معاشی حالات کا مستحکم ہونا بڑا ضروری ہے۔
'لیکن اس قسم کی بیان بازی اور خاص کر عوام میں جا کر ایسا کرنا ایک نیا رجحان ہے اور یہ عکاسی کرتا ہے کہ ریاست کے دونوں اداروں میں کس قسم کی کشیدگی اور تعلقات ہیں اور یہ صورتحال بہت افسوس ناک اور خطرناک ہے۔'
طلعت مسعود نے کہا کہ اگر کسی رائے کا اظہار کیا جانا ہے تو اس کے لیے نیشنل سکیورٹی کونسل سمیت مختلف فورم موجود ہیں تاکہ کسی بات پر اتفاق رائے قائم ہو سکے۔
'اس کے بجائے عوام میں جا کر اس قسم کے بیانات دینے سے ریاست کمزور ہو رہی ہے اور ہمارا ملک ایک مذاق بن گیا ہے۔'
تاہم تجزیہ کار ڈاکٹر مہدی حسن نے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک میں کسی بحران کی صورتحال ہو تو ہر پاکستانی اور ادارے کو اس پر بات کرنے کا حق حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
انھوں نے کہا کہ جنرل باجوہ اور فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ملک کی معاشی صورتحال پر فوج کا موقف دیا ہے اور اس میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے۔
ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق 'فوج کا مقصد ہرگز نہیں کہ وہ پالیسیز پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں بلکہ وہ صرف اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اس وقت ملک کو درپیش مسائل میں ایک اہم مسئلہ معیشت کا ہے اور موجودہ حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔'
ڈاکٹر مہدی حسن نے سول حکومت اور فوج کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 'اس وقت کشیدگی ضرور موجود ہے کیونکہ موجودہ حکومت بھی نواز شریف کی حکومت کا ہی تسلسل ہے جس میں ہمارے وزیراعظم نواز شریف سے رائے لیتے ہیں اور ان کی پالیسی پر چلتے ہیں۔'
'سابق حکمران خاندان کی جانب سے جس طرح سے سپریم کورٹ پر براہ راست اور فوج پر بلواسطہ تنقید کر رہے ہیں وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور وہ بلواسطہ یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ فوج کے دباؤ میں یا کہنے پر دیا گیا گیا ہے۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود نے ڈاکٹر مہدی حسن کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مسلم لیگ نون کی قیادت جنھجلاہٹ کا شکار ہے اور اس طرح کے بیانات دے رہی ہے تاکہ افراتفری پیدا ہو۔
’مجھے لگتا ہے کہ ایک دانستہ پالیسی کے تحت اس قسم کے بیانات دیے جائیں تاکہ افراتفری پیدا ہو اور یہ تاثر دیا جائے گا کہ مسائل ہماری وجہ سے نہیں بلکہ ریاستی اداروں سپریم کورٹ یا فوج کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے کہا کہ دونوں جانب سے اس قسم کے بیانات سے نقصان ہو رہا ہے اور عوام بھی پریشان ہیں کہ معاملات خطرناک رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
'اس سے کیا حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کیونکہ اس میں کسی ادارے کی بلادستی نہیں بنتی ہے جس میں اگر ملک کمزور ہو جائے لیکن ایک ادارہ یا دوسرا ادارہ مضبوط ہو جائے تو اس کا فائدہ کیا ہے۔'











