ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو: آئی ایس پی آر

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی حالیہ پیشی کے موقعے پر رینجرز کی تعیناتی کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات مقامی سطح پر غلط فہمی کا نتیجہ تھے اور اس معاملے میں اداروں میں تصادم کی کوئی صورتحال نہیں۔
جمعرات کو راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاست کے ساتھ کام کرتے ہیں اور مقامی سطح پر پیدا ہونے والی غلط فہمی کے نتیجے میں پیش آنے والے اس واقعے کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا گیا۔
میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ رینجرز 2014 سے اسلام آباد میں تعینات ہیں اور ’جب ایک فورس بلا لی جاتی ہے تو اس کی تعیناتی کے بارے میں مقامی طور پر رابطہ کاری ہوتی ہے‘۔
احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کی پہلی پیشی کے موقعے پر وہاں امن و امان کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس کے بعد اسلام آباد کی پولیس، انتظامیہ اور دیگر سٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت ہوئی تھی۔
’اس دوران اسلام آباد پولیس کی جانب سے ریجنرز کی تعیناتی کے لیے خط بھی لکھا گیا تھا جس کی نقل رینجرز کو بھی بھیجی گئی تھی۔‘
اسی سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال پر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ حکومتِ پاکستان نے احتساب عدالت میں رینجرز کی تعیناتی کے معاملے پر ڈی جی رینجرز سے وضاحت طلب کی ہے۔
پاکستان کے وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے گذشتہ روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں رینجرز کی تعیناتی کے معاملے کی انتظامی تحقیقات مکمل ہو گئی ہیں جن سے یہ بات واضح ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کی جانب سے رینجرز اہلکاروں کو طلب نہیں کیا گیا تھا۔
پریس کانفرنس کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ جے آئی ٹی کے بعد جو معاملہ چل رہا ہے فوج کو اس بارے میں علم ہے تاہم اس خیال پر بات کرنا ہی فضول ہے کہ فوج اس سارے معاملے کے پیچھے ہے یا ملک میں مارشل لا لگانا چاہتی ہے۔
ملی مسلم لیگ کے سیاست میں شرکت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سیاسی عمل میں شرکت ہر پاکستانی کا حق ہے۔
فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کا یہ بھی کہنا تھا کور کمانڈرز کی خصوصی کانفرنس کے بعد اعلامیہ اس لیے جاری نہیں کیا گیا کیونکہ 'خاموشی اپنے آپ میں اظہار کا ایک طریقہ ہے‘۔
میجر جنرل آصف غفور کا یہ بھی کہنا تھا کہ دشمن قوتیں پاکستان کو کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتیں اور اس سلسلے میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں پر الزام تراشی بھی کی جاتی ہے لیکن عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ الزام تراشیاں کس پس منظر میں کی جا رہی ہیں اور ایسا کرنے سے ان کے سامنے صورتحال واضح ہو جائے گی۔








