’جمہوریت کو خطرہ فوج سے نہیں جمہوری تقاضے پورے نہ ہونے سے ہے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ملک میں ٹیکنوکریٹ حکومت کے بنائے جانے کی تمام افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری نظام کو پاکستان فوج سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔
آصف غفور نے راولپنڈی میں ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو پاکستانی فوج سے کوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر خطرہ ہے تو جمہوریت کے تقاضے پورے نہ کرنے سے ہے۔
پاکستان کی حکومت اور فوج کے درمیان ملک کی معیشت کی صحت کے حوالے سے بیانات کے تبادلے کے تناظر میں کی جانے والی اس پریس کانفرنس میں انھوں نے مزید کہا کہ جمہوری نظام کے استحکام اور ہر قسم کے استحکام کے لیے حکومت کا چلنا ضروری ہے اور حکومت کا کام کرنا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'آرمی چیف بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور کوئی ایسا کام نہیں ہو گا جو پاکستان کے آئین اور قانون سے بالاتر ہو گا۔'
وزیر داخلہ احسن اقبال کے بیان کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے عزت مآب کے الفاظ سے اپنا جملہ شروع کرتے ہوئے کہا کہ: 'میں نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جو آئین کی حدود و قیود سے باہر ہو۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مذکورہ انٹرویو کی ریکارڈنگ بھی سنوائی اور کہا کہ انھوں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ پاکستان کی معیشت بدحالی کا شکار ہے اور غیر مستحکم ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ وزیر داخلہ احسن اقبال نے فوج کی طرف سے ملک کی معیشت پر بیان کے رد عمل میں کہا کہ تھا کہ فوج کو ملکی سطح پر اظہارِ خیال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اس پر مزید وضاحت سے جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کے بیان پر انھیں عام شہری اور ایک فوجی ہونے کی حیثیت سے مایوسی ہوئی۔
انھوں نے کہا کہ ہم سب نے بہت کام کیا ہے۔ کوئی ادارہ اکیلے کام ہی نہیں کر سکتا اور سب نے مل کر کام کرنا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
'میں نے یہ کہا تھا کہ ملک کی معیشت پر بھی بہت کام کیا گیا ہے۔ آپ یہ دیکھیں کہ جب سکیورٹی اچھی نہیں ہو گی تو معیشت اچھی نہیں ہو گی اور معیشت اچھی نہیں ہو گی تو سکیورٹی پر اثر پڑے گا۔ ‘
آصف غفور نے اس بات کی یادہانی کرائی کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں فوج کے ادارے کی طرف سے کہتے ہیں اور وہ ان کی ذاتی رائے نہیں ہوتی۔
اس یادہانی کے ساتھ ہی انھوں نے گذشتہ سال حکومت کی طرف سے ٹیکس وصولیوں کے اعداد شمار پیش کیے اور کہا کہ گذشتہ سال حکومت صرف پانچ فیصد براہ راست ٹیکس وصول کر پائی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ مشترکہ آپریشن یا جوائنٹ آپریشن کا فوجی اصطلاح میں کہا جاتا ہے کہ پاکستانی فوج اور دوسرے ملک کی فوج بھی پاکستان میں مل کر آپریشن کرے۔
'اس کا تصور نہ تو ماضی میں نہ تھا اور نہ ہی اب ہے فل سٹاپ۔'
میجر جنرل آصف غفور نے حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی سے بازیاب کرائے گئے امریکی جوڑے کے حوالے سے کہا کہ اس آپریشن سے یہ بات واضح ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون کریں اور اعتماد رکھیں تو پاکستان ہر وہ کام کرے گا جو پاکستان کے مفاد میں ہے خطے کے مفاد میں ہے اور انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے مفاد میں ہے۔'
انھوں نے مزید کہا 'ہم نے اپنے ملک میں بہت کچھ کر لیا ہے۔ اور اگر اب کچھ کرنا ہے تو اپنے ملک میں ضرور کریں گے اور اپنے اداروں کے ساتھ کریں گے۔ لیکن اگر آپ کسی اور ملک کے تناظر میں بات کرتے ہیں تو اب ڈو مور کی گنجائش نہیں ہے۔'








