حکومت سازی کا عمل شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سینیٹر باراک اوباما نے صدارتی انتخابات میں تاریخ ساز کامیابی کے بعد وائٹ ہاؤس کے لیے اپنی ٹیم تشکیل دینا شروع کر دی ہے۔ نو منتخب صدر باراک اوباما بیس جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔ اطلاعات کے مطابق باراک اوباما نے الینوائے سے کانگریس کے رکن رحم ایمانوئیل وائٹ ہاؤس کا چیف آف سٹاف بننے کی پیش کش کی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سابق صدر بِل کلنٹن کے دور حکومت میں مشیر کا عہدے رکھنے والے رکن کانگریس نے یہ پیش کش قبول کی ہے یا نہیں۔ ہمارے نامہ نگار کے مطابق رحم ایمانوئیل واشنگٹن میں انتظامی امور کا خاصا ادراک رکھتے ہیں اور ان کو ریپبلکنز کی طرف سے متنازع حد تک سیاسی شحضیت ہونے کی بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر وہ یہ عہدہ قبول کر لیتے ہیں تو وہ نئی انتظامیہ اندرونی مینیجمنٹ کے ذمہ دار ہوں گے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے چیف آف سٹاف کی حیثیت سے ان کی تعیناتی مسٹر اوبامہ کے وعہدے کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات کو ختم کرنے کے بجائے انہیں مزید ہوا دے گی۔
اس سلسلے میں سابق سیکریٹری خزانہ لیری سمرز اور نیویارک فیڈرل ریزرو کے موجودہ سربراہ ٹیموتھی گیٹنر کو ممکنہ امیدوار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے صدارتی انتخاب جیتنے کے ساتھ ساتھ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔ ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں اور سینٹ کی سو میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی اکثریت کو 60 ووٹوں تک بڑھا لے گی۔ امید ہے کہ نو منتخب صدر جلد ہی نئے سیکریٹری خزانہ کے نام کا اعلان کریں گے۔ واشنگٹن میں یہ قیاس آرائیاں بھی کی جاری ہیں کہ باراک اوبامہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کو اپنے عہدے پر کام جارے رکھنے کی پیش کش کریں گے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کی نامہ نگار جین او برائن کا کہنا ہے کہ مسٹر رابرٹ گیٹس کو دونوں جماعتوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور ان کی اپنے موجودہ عہدے پر بدستور موجودگی نئی انتظامیہ پر قومی اتفاقِ رائے کو ظاہر کرے گی۔ عالمی رہنماؤں نے سینیٹر باراک اوباما کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر منتخب ہونے کا خیر مقدم کیا ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے منگل کو ہونے والے امریکی انتخابات کو تاریخ ساز انتخابات قرار دیا اور کہا کہ وہ اور سینیٹر باراک اوباما میں کئی اقدار مشترک ہیں۔ چین کے صدر ہو جنتاؤ نے امید ظاہر کی ہے کہ سینیٹر باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے سے چین اور امریکہ کے مابین روابط کو فروغ حاصل ہو گا۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مسٹر باراک اوباما کی کامیابی سے اشتراک عمل کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔ امریکہ کے موجودہ صدر جارج بش نے کہا ہے کہ مسٹر باراک اوباما کو عبوری دور میں ان کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔ وائٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منگل کے روز نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ انہوں نے نومنتخب صدر کو ان کی ’متاثر کن فتح‘ پر مبارک باد دی اور کہا کہ یہ ملکی سطح پر ایک مکمل اتحاد اور یکجہتی کی مظہر ہے۔ باراک اوباما کے والد کے آبائی ملک کینیا کے صدر موائے کِباکی نے ان کی کامیابی کی خوشی میں جمعرات کے روز قومی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ امریکی رائے دہندگان کی باراک اوباما کی کامیابی کو یقینی بنا کر دو بنیادی معاملات پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے -- پہلا یہ کہ وہ موجودہ صورتِ حال سے سخت ناخوش ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے ملک کے نسل پرست ماضی پر ہمیشہ کے لیے دروازے بند کر رہے ہیں۔ سینیٹر باراک اوباما کی کامیابی کو امریکہ میں سیاہ اور سفید فاموں کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں ’بریڈلی افیکٹ‘ کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ یعنی یہ خطرہ بے بنیاد ثابت ہوا کہ کچھ سفید فام ووٹر جو انتخابی جائزوں میں اوباما کی حمایت کی بات کر رہے تھے، وہ بالآخر سفیدفام امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ تبدیلی کا نقارہ گزشتہ روز باراک اوباما نے ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’طویل عرصے بعد ہی سہی لیکن آج امریکہ میں تبدیلی آ گئی ہے۔‘ امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے خاندان اور نو منتخب نائب صدر جو بائڈن کے ہمراہ شکاگو کے گرینڈ پارک میں ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا یہ سفر بڑے عرصے سے جاری تھا اور آج رات امریکہ میں تبدیلی کی وہ گھڑی آ پہنچی ہے۔ اپنے خطاب میں سینیٹر اوباما نے کہا: ’اگر کسی کو ذرا بھی شبہ ہے کہ امریکہ میں ہر چیز ممکن نہیں ہے، جس کو یہ حیرانی ہے کہ آج کل کے دور میں بھی ہمارے آباؤ اجداد کا خواب زندہ ہے، جس کو ہماری جمہوریت کی طاقت پر شک ہے، آج کی رات اس کے لیے جواب ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جان مکین نے انہیں ’انتہائی فراخدلانہ‘ انداز میں کال کیا ہے۔
’انہوں نے امریکہ کے لیے ایسی قربانیاں دی ہیں جن کے متعلق ہم میں سے اکثر سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔‘ انہوں نے اپنے خاندان کے لیے محبت بھرے الفاظ ادا کیے اور اپنی بیٹیوں سے کہا: ’ساشا اور ملیا، میں تم سے اتنا پیار کرتا ہوں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔ اور اب تمہیں نیا پپی (کتے کا بچہ) ملے گا جو ہمارے ساتھ وائٹ ہاؤس جائے گا۔‘ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ ’آج کی رات جب ہم جشن منا رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ کل ہمارے سامنے آنے والے چیلنجز ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں ۔ دو جنگیں، سخت خطرے میں دنیا، اور صدی کا سب سے بڑا اقتصادی بحران۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے لمبی سڑک ہو گی۔ ہماری چڑھائی عمودی ہو گی۔ لیکن امریکہ ۔ میں کبھی بھی اس سے زیادہ پر امید نہیں تھا جتنا آج کی رات ہوں کہ ہم وہاں (منزل پر) پہنچیں گے۔‘ انہوں نے کہا کہ بحثیت صدر ان کا انتخاب وہ تبدیلی نہیں جس کا انتخابی مہم میں ذکر کیا جاتا رہا ہے، بلکہ اس تبدیلی کا آغاز ہے۔ انہوں نے ہر رنگ و نسل کے امریکیوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ملک کو موجودہ سنگین مسائل سے نکالنے میں ان کا ساتھ دیں۔ | اسی بارے میں باراک اوبامہ کی نانی انتقال کر گئیں03 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||