BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2008, 22:00 GMT 03:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما کی کامیابی پر زبردست جوش و خروش، عالمی رہنماؤں کا خیر مقدم
کل سامنے آنے والے چیلنجز ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں: اوباما

عالمی رہنماؤں نے سینیٹر باراک اوباما کے پہلے سیاہ فام امریکی صدر منتخب ہونے کا خیر مقدم کیا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے منگل کو ہونے والے امریکی انتخابات کو تاریخ ساز انتخابات قرار دیا اور کہا کہ وہ اور سینیٹر باراک اوباما میں کئی اقدار مشترک ہیں۔


چین کے صدر ہو جنتاؤ نے امید ظاہر کی ہے کہ سینیٹر باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے سے چین اور امریکہ کے مابین روابط کو فروغ حاصل ہو گا۔

فرانس کے صدر نکولس سرکوزی نے کہا ہے کہ باراک اوباما کے صدر منتخب ہونے سے امید کی ایک توانا کِِرن دیکھنے میں آئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کیمون نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ مسٹر باراک اوباما کی کامیابی سے اشتراک عمل کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا۔

امریکہ کے موجودہ صدر جارج بش نے کہا ہے کہ مسٹر باراک اوباما کو عبوری دور میں ان کا مکمل تعاون حاصل ہو گا۔

باراک اوبامہ
باراک اوبامہ نے ہر رنگ و نسل کے امریکیوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ملک کو موجودہ سنگین مسائل سے نکالنے میں ان کا ساتھ دیں
وائٹ ہاؤس میں اخبار نویسوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منگل کے روز نئی تاریخ رقم کی گئی ہے۔ انہوں نے نومنتخب صدر کو ان کی ’متاثر کن فتح‘ پر مبارک باد دی اور کہا کہ یہ ملکی سطح پر ایک مکمل اتحاد اور یکجہتی کی مظہر ہے۔

باراک اوباما کے والد کے آبائی ملک کینیا کے صدر موائے کِباکی نے ان کی کامیابی کی خوشی میں جمعرات کے روز قومی تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

نو منتخب امریکی صدر جنوری میں اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

دوسری طرف سینیٹر باراک اوباما نے اپنی ٹیم کے ارکان کو متعارف کرانا شروع کر دیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے ڈیموکریٹک ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ الینوائے سے کانگریس کے رکن رحم عمانوئیل وہائٹ ہاؤس کا چیف آف سٹاف بننے کی پیش کش کی ہے۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سابق صدر بِل کلنٹن کے دور حکومت میں مشیر کا عہدے رکھنے والے رکن کانگریس نے یہ پیش کش قبول کی ہے یا نہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی نے صدارتی انتخاب جیتنے کے ساتھ ساتھ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں بھی اپنی پوزیشن مستحکم کر لی ہے۔

ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں اور سینٹ کی سو میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی اکثریت کو 60 ووٹوں تک بڑھا لے گی۔

صدر بش
صدر جارج بش نے کہا ہے کہ مسٹر باراک اوباما کو عبوری دور میں ان کا مکمل تعاون حاصل ہو گا
بی بی سی کے نامہ نگار جسٹن ویب کا کہنا ہے کہ امریکی رائے دہندگان کی باراک اوباما کی کامیابی کو یقینی بنا کر دو بنیادی معاملات پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے -- پہلا یہ کہ وہ موجودہ صورتِ حال سے سخت ناخوش ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اپنے ملک کے نسل پرست ماضی پر ہمیشہ کے لیے دروازے بند کر رہے ہیں۔

سینیٹر باراک اوباما کی کامیابی کو امریکہ میں سیاہ اور سفید فاموں کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔

مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں ’بریڈلی افیکٹ‘ کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ یعنی یہ خطرہ بے بنیاد ثابت ہوا کہ کچھ سفید فام ووٹر جو انتخابی جائزوں میں اوباما کی حمایت کی بات کر رہے تھے، وہ بالآخر سفیدفام امیدوار کو ووٹ دیں گے۔

تبدیلی کا نقارہ

گزشتہ روز باراک اوباما نے ایک بہت بڑے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’طویل عرصے بعد ہی سہی لیکن آج امریکہ میں تبدیلی آ گئی ہے۔‘

امریکی صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنے خاندان اور نو منتخب نائب صدر جو بائڈن کے ہمراہ شکاگو کے گرینڈ پارک میں ہزاروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا یہ سفر بڑے عرصے سے جاری تھا اور آج رات امریکہ میں تبدیلی کی وہ گھڑی آ پہنچی ہے۔

اپنے خطاب میں سینیٹر اوباما نے کہا: ’اگر کسی کو ذرا بھی شبہ ہے کہ امریکہ میں ہر چیز ممکن نہیں ہے، جس کو یہ حیرانی ہے کہ آج کل کے دور میں بھی ہمارے آباؤ اجداد کا خواب زندہ ہے، جس کو ہماری جمہوریت کی طاقت پر شک ہے، آج کی رات اس کے لیے جواب ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ جان مکین نے انہیں ’انتہائی فراخدلانہ‘ انداز میں کال کیا ہے۔

جوش و خروش
صدارتی انتخابات میں باراک اوباما کی کامیابی پر دنیا بھر میں زبردست جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے
انہوں نے جان مکین کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ ایک بہادر اور مخلص رہنما ہیں۔‘

’انہوں نے امریکہ کے لیے ایسی قربانیاں دی ہیں جن کے متعلق ہم میں سے اکثر سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔‘

انہوں نے اپنے خاندان کے لیے محبت بھرے الفاظ ادا کیے اور اپنی بیٹیوں سے کہا: ’ساشا اور ملیا، میں تم سے اتنا پیار کرتا ہوں کہ تم سوچ بھی نہیں سکتیں۔ اور اب تمہیں نیا پپی (کتے کا بچہ) ملے گا جو ہمارے ساتھ وائٹ ہاؤس جائے گا۔‘

اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے کہا کہ ’آج کی رات جب ہم جشن منا رہے ہیں، ہمیں معلوم ہے کہ کل ہمارے سامنے آنے والے چیلنجز ہمارے دور کے سب سے بڑے چیلنجز ہیں ۔ دو جنگیں، سخت خطرے میں دنیا، اور صدی کا سب سے بڑا اقتصادی بحران۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ہمارے سامنے لمبی سڑک ہو گی۔ ہماری چڑھائی عمودی ہو گی۔ لیکن امریکہ ۔ میں کبھی بھی اس سے زیادہ پر امید نہیں تھا جتنا آج کی رات ہوں کہ ہم وہاں (منزل پر) پہنچیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ بحثیت صدر ان کا انتخاب وہ تبدیلی نہیں جس کا انتخابی مہم میں ذکر کیا جاتا رہا ہے، بلکہ اس تبدیلی کا آغاز ہے۔ انہوں نے ہر رنگ و نسل کے امریکیوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر ملک کو موجودہ سنگین مسائل سے نکالنے میں ان کا ساتھ دیں۔

اسی بارے میں
مکین کی حمایت میں ڈک چینی
02 November, 2008 | آس پاس
مکین کےحملوں سے ناراض
25 October, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد