باراک اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے تاریخ ساز صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما ملک کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوگئے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے باراک اوباما کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی۔ اوباما کی کامیابی کو امریکہ میں سیاہ اور سفید فاموں کے درمیان تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔ صدر منتخب ہونے کے لیے اوباما کو دو سو ستر ووٹ درکار تھے جو انہوں نے بہ آسانی حاصل کر لیے۔ زیادہ تر ریاستوں میں ابھی ووٹوں کی گنتتی جاری ہے لیکن رجحانات کی بنیاد پر اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ جان مکین پر وہائٹ ہاؤس کے راستے بند ہوگئے ہیں۔ جان مکین کے لیے ضروری تھا کہ اپنے امکانات زندہ رکھنے کے لیے وہ پینسلوینیا اور اوہایو میں کامیابی حاصل کریں لیکن دونوں ریاستوں نے اپنا فیصلہ اوباما کے حق میں سنایا۔ مبصرین کے مطابق اس انتخاب میں ’بریڈلی افیکٹ‘ کا کوئی اثر دیکھنے میں نہیں آیا۔ یعنی یہ خطرہ بے بنیاد ثابت ہوا کہ کچھ سفید فام ووٹر جو انتخابی جائزوں میں اوباما کی حمایت کی بات کر رہے تھے، وہ بالآخر سفیدفام امیدوار کو ووٹ دیں گے۔ نامہ نگاروں کے مطابق جان مکین کو خدشہ تھا کہ وہ آئیووا اور نیو میکسیکو میں ہار جائیں حالانکہ ان دونوں ہی ریاستوں نے گزشتہ انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کا ساتھ دیا تھا۔ لہذا وہ یہ کمی پینسلوینیا میں پوری کرنا چاہتے تھے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان پر بھی اپنی گرفت مضبوط کر لی ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں اور سینٹ کی سو میں سے 35 نشستوں پر انتخاب ہوا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی اکثریت کو 60 ووٹوں تک بڑھا لے گی۔ منگل کی صبح جب ملک بھر میں ووٹنگ شروع ہوئی تو پولنگ سٹیشنوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں قائم ہوگئیں۔ رائے دہندگان کے جائزوں کے مطابق دس میں سے چھ ووٹروں کے لیے معاشی بحران اہم ترین انتخابی موضوع تھا۔ کچھ علاقوں سے ووٹنگ کے دوران معمولی دشواریوں اور تکنیکی خرابیوں کی بھی اطلاعات آئیں لیکن ان پر جلدی ہی قابو پا لیا گیا۔ پولنگ سے قبل انتخابی جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو جان مکین پر تقریباً دس پوائنٹس کی سبقت حاصل تھی لیکن جان مکین کا اصرار تھا کہ وہ جیت سکتے ہیں۔ نامہ نگار جیمس کماراسوامی کے مطابق باراک اوباما کو سبقت ضرور حاصل تھی لیکن ان کی کامیابای کا دارومدار کافی حد تک اس بات پر تھا کہ سفید فام ووٹروں نے اپنا فیصلہ کرتے وقت کس حد تک ان کی جلد کے رنگ کو نظر انداز کیا۔
امریکی تاریخ کی اس طویل ترین اور سب سے مہنگی انتخابی مہم نے ووٹروں میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا ہے اور ماہرین کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں جان ایف کینیڈی کے انتخاب کے بعد سے ایسا انتخابی ماحول پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد باراک اوباما نے کہا کہ’ انتخابی سفر تو اب ختم ہو جائےگا، لیکن اپنی بیٹیوں کے ساتھ ووٹ ڈالنا، یہ میرے لیے ایک اہم بات تھی۔‘ کولوراڈو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جان مکین نے کہا کہ ’ ہوا کا رخ ہمارے ساتھ ہے۔۔۔ ہم یہ انتخاب جیت رہے ہیں۔‘ ’باہر نکلیں اور ووٹ دیں۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے اپنے حامیوں سے یہاں تک کہا کہ ضرورت پڑے تو اپنے پڑوسیوں کو گھسیٹ کر پولنگ سٹیشنوں تک لیجائیں۔ | اسی بارے میں باراک اوبامہ کی نانی انتقال کر گئیں03 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||