BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 July, 2004, 21:47 GMT 02:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رات گزرے گی کس خرابی سے
ٹونی بلیئر
اس مسکراہٹ کے پیچھے انتہائی گمبھیر مسائل کا بوجھ موجود ہے
برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے لیے 10 جولائی سے شروع ہونے والا ہفتہ بڑے کانٹے کا تھا۔

پہلے تو بی بی سی کی ایک خبر پر سب کے کان کھڑے ہوئے کہ وزیر اعظم نے جون کے شروع میں تقریباً یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ بس بہت ہو چکا اب استعفٰی دے دینا چاہیے لیکن کچھ قریبی ساتھیوں کے سمجھانے پر وہ ذرا ٹھنڈے ہوئے۔

ملک بھر میں افواہیں پھیلنے لگیں کہ وزیر خزانہ گورڈن براؤن کے ساتھیوں نے یہ بات بی بی سی کے کانوں میں ڈالی ہوگی تا کہ ٹونی بلیئر کے بارے میں یہ تاثر قائم ہو کہ ان کے قدم لڑکھڑانے لگے ہیں اور وہ ذرا سے دھچکے سے بھی ڈھیر ہوسکتے ہیں۔ بعد میں اس خبر کی تردید میں بہت سے بیانات آئے۔

پیر کا دن قدرے غنیمت گزرا کیونکہ اس روز وزیر خزانہ گورڈن براؤن نے اپنا مالیاتی جائزہ پیش کیا جس میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے کثیر رقومات کے وعدے کیے گئے تھے لیکن اس بات کو بھی اخبار نویسوں نے ایک نئے ڈھنگ سے پیش کیا اور کہا کہ گورڈن براؤن جو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر آنکھ لگائے بیٹھے ہیں اصل میں انہوں نے یہ جائزہ عوام کے دل موہنے کے لیے پیش کیا ہے۔

چلیے یہاں تک تو بات ٹھیک تھی لیکن آج بدھ کو بٹلر رپورٹ آنے والی ہے۔ جس میں یہ بتایا جائے گا کہ وزیر اعظم نے عراق پر حملے کے لیے وسیع تباہی کے ہتھیاروں کا جو جواز پیش کیا تھا کیا اس کے بارے میں انٹیلیجنس کی ٹھوس رپورٹیں موجود تھیں اور آیا وزیر اعظم کے دفتر نے ان معلومات سے درست نتائج اخذ کرنے کی کوشش کی تھی۔

رپورٹ کی ایک کاپی ڈاؤننگ سٹریٹ کو منگل کی دوپہر کو ہی مل چکی ہے اور بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے دفتر کا پورا عملہ اس کے ایک ایک لفظ اور عبارت کو غور سے دیکھ رہا ہے، سطر سطر کے نیچے سرخ لکیریں لگائی جارہی ہیں تاکہ وزیر اعظم پر بدھ کو جب سوالوں کی بوچھاڑ ہو تو وہ اپنا بچاؤ کرسکیں۔ بقول شخصے وزیر اعظم پر’رات گزرے گی کس خرابی سے‘۔

بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کی دو سیٹوں کے لیے ضمنی انتخاب ہونے والے ہیں جن سے یہ اندازہ ہوگا کہ لیبر پارٹی پر حزب مخالف کنزرویٹو پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کا دباؤ کتنا ہے۔

سیاست کے اس لمبے ،طولانی ہفتے کے آخر میں جو بات وزیر اعظم کے لیے سب سے اہم ہوگی وہ بٹلر رپورٹ کے الفاظ ہونگے۔انہی الفاظ پر اس کا انحصار ہوگا۔ پارلیمانی سال جو عنقریب ختم ہونے والا ہے ان کے لیے کیسا ثابت ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد