لبنان: آفتوں اوراقلیتیوں کا دیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے موجودہ خونریز بحران کی فوری وجوہات چاہے جو بھی ہوں لیکن یہ حقیت ہے کہ پچھلے پچاسی سال سے جب کہ پہلی عالم گیر جنگ کے بعد شکست خوردہ سلطنت عثمانیہ کے عرب علاقوں کی برطانیہ اور فرانس کے درمیان تقسیم کے نتیجہ میں لبنان ایک علیحدہ ملک کے روپ میں دنیا کے نقشہ پر ابھرا تھا یہ متواتر ایسی طویل خانہ جنگیوں، تباہ کن بیرونی حملوں اور قتل و غارت گری کے بھنور میں گھرا رہا ہے کہ اس کی نظیر دنیا کے کسی اور خطہ میں مشکل سے ملتی ہے۔ گو نام اس ملک کا ’دودھیا‘ یعنی دودھ ایسا سفید ملک ہے اور قومی نشان اس کا بلند قامت سرو کا درخت ہے لیکن دودھیا رنگ پے در پے خانہ جنگیوں میں جاں بحق ہونے والے تین لاکھ سے زیادہ افراد کے خون سے سرخ ہوچکا ہے اور بلند قامت سرو کا درخت عوام کے مصائب سے سر نگوں ہے۔ پہلی عالم گیر جنگ سے پہلے لبنان کا علاقہ سلطنت عثمانیہ کی عرب ولایتوں میں شامل تھا اور یہ وسیع ترشام کا حصہ تھا۔ جنگ کے بعد جب فاتح برطانیہ اور فرانس کے درمیان عرب علاقوں کے حصے بخرے ہوئے تو برطانیہ نے تیل سے مالامال حجاز، بصرہ، کرکوک اور بغداد کے ساتھ فلسطین کی ترک ولایتوں کو اپنی تحویل میں رکھا اور فرانس کے حصے میں شام کا علاقہ آیا۔ شام میں لبنان کے علاقہ میں مارونی عیسائیوں کی بڑی تعداد آباد تھی۔ اس فرقہ کی رومن کتھولک فرقہ سے قربت کی بناء پر فرانس کا لبنان کے ان عیسائیوں سے ایک خاص تعلق خاطر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فرانس نے لبنان کی ایک علیحدہ مملکت کے قیام کے لئے عیسائیوں کے مطالبہ کو شہہ دی اور آخر کار سن انیس سو بیس میں اچانک لبنان کو ایک آزاد ملک قرارد دے دیا۔ پرچم بھی اس کا فرانس نے اپنے ترنگے کے رنگوں ایسا وضع کیا اور اس پر سرو کے درخت کا نشان جو قدیم زمانہ سے لبنان کے عیسائوں کی روایت سے وابستہ تھا پیوست کر دیا۔
گولبنان میں، خاص طور پر اس کے پہاڑوں میں، عیسائیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے لیکن پورے ملک میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی تعداد برابر برابر ہے۔ سنہ انیس سو تینتالیس میں جب لبنان کا آئین مرتب کیا گیا تو اس وقت انیس سو بتیس کی مردم شماری کے اعداو شمار کے مطابق عیسائیوں کی تعداد اکیاون فیصد اور مسلمانوں کی تعداد اننچاس فیصد قرار پائی لیکن بظاہر ان دو بڑے فرقوں کے ساتھ آئین میں سترہ فرقے تسلیم کئے گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان کو اقلیتوں کا دیس کہا جاتا ہے۔ بہتر سال قبل کی مردم شماری کے مطابق مسلمانوں میں شیعیوں کی تعداد پیتیس فیصد اور سنیوں کی تعداد بتیس فی صد شمار کی گئی۔ چنانچہ اسی مردم شماری کی بنیاد پر آئین میں مختلف فرقوں کے درمیان مملکت کے اہم عہدے تقسیم کئے گئے اور یہ طے پایا کہ ملک کا صدر ہمیشہ ایک عیسائی ہوگا وزیر اعظم سنی ہوگا اور پارلیمنٹ کا اسپیکر ایک شیعہ ہوگا۔ لبنان پر اسرائیل کے موجودہ حملے اور فوج کشی کی تباہ کن آفت نئی نہیں بلکہ اٹھاون سال سے جب سے اسرائیل وجود میں آیا ہے لبنان پر ان آفتوں کے سائے دائمی نظر آتے ہیں۔ فلسطین میں اسرائیلی مملکت کے قیام کے فورا بعد ایک لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو اپنی سر زمین سے بے دخل اور اپنے گھروں سے بے گھر ہو کر بے سرو سامانی کے عالم میں لبنان میں پناہ لینی پڑی۔پھر سن سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد مزید تین لاکھ فلسطینیوں نے یاسر عرفات کے ساتھ لبنان میں سر چھپایا۔ لبنان کے عیسائیوں اور ان کے ساتھ شیعوں کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں فلسطینی ان کے ملک پر نہ چھا جائیں اور سیاست کا توازن ہی نہ بگڑ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ سن ستر کے عشرہ میں پناہ گزیں فلسطینیوں اور لبنانی عیسائیوں کی عسکری تنظیموں کے درمیان، جن میں کرسچن آرمی پیش پیش تھی، کشمکش اور معرکہ آرائی نے سر اٹھایا۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ اس وقت جب اس معرکہ آرائی میں عیسائیوں کو شکست ہوتی نظر آئی تو شام نے ان عیسائیوں کی مدد کے لئے اپنی چالیس ہزار فوج لبنان بھیجی اور شامی فوجوں اور مارونی عیسائیوں نے مل کرفلسطینیوں کو بیروت سے نکال دیا اور انہیں جنوبی لنبان میں دھکیل دیا۔
اسی دوران لبنان کے ایک ایرانی نژاد شیعہ عالم امام موسیٰ الصدر نے شیعوں کے حقوق کے تحفظ اور لبنانی سیاست میں شیعوں کے اثر کی تقویت کی خاطرامل( افواج مقاومہ اللبنانیہ) کے نام سے ایک عسکری تنظیم قائم کی۔ چند سال بعد امام موسیٰ الصدر لیبیا میں لاپتہ ہوگئے اور جب سے اب تک کسی کو علم نہیں کہ وہ کہاں اور کیسے غائب ہوئے۔ بہر حال ان کی تنظیم ان کی غیر حاضری میں فروغ پاتی رہی اور نبی بری کی قیادت میں اس تنظیم نے ایک طرف فلسطینی پناہ گزینوں کے خلاف معرکوں میں حصہ لیا اور دوسری طرف خود شیعوں کی نئی تنظیم حزب اللہ سے بھی سن اٹھاسی میں اس کی خونریز جھڑپیں ہوئیں۔لیکن بعد میں حالات نے ایسا پلٹا کھایا کہ شام نے فلسطینیوں کی پشتیبانی کا علم سنبھالا اور مارونی عیسائی ُ اسرائیل سے جا ملے۔ ان حالات میں جنوبی لبنان سے فلسطینیوں کے اثر کا قلع قمع کرنے کے لیئے اسرائیل نے سن اٹہتر میں لطانی دریا کو عبور کر کے لبنان پر فوج کشی کردی لیکن اقوام متحدہ کی مداخلت اور اس علاقہ میں امن فوج کی تعیناتی کے بعد تین ماہ کے اندر اندر اسرائیلی فوج کو اس علاقہ سے واپس جانا پڑا۔ سنہ انیس سو بیاسی میں اسرائیل نے پھر ایک بار لبنان پر حملہ کیا اور اس کی فوجیں بیروت تک پہنچ گئیں۔ کمان ان فوجوں کی آریل شیرون کے ہاتھ میں تھی۔ اسی دوران بیروت کے فلسطینی کیمپوں صبرا شطیلہ میں شیرون کی نگرانی میں مارونی عیسائی عسکری تنظیم ساؤتھ لبنان آرمی کے دستوں نے بڑے پیمانہ پر قتل عام کیا۔ اس وقت لبنان کے صدر بشیر جمائیل تھے جو عیسائی ملیشیا کے روح رواں تھے۔ اس قتل عام کے بعد صدر جمائیل قتل کردئے گئے۔ ان کے قتل کے بعد اسرائیلی حکمت عملی کو زبردست زک پہنچی۔ اس دوران حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجوں کے خلاف مزاحمت شروع کی اور آخر کار سن دو ہزار میں اسرائیلی فوج کو بغیر کسی سمجھوتہ کے جنوبی لبنان سے نکلنا پڑا۔ گزشتہ سال لبنان میں حالات نے پھر ایک بار پلٹا کھایا۔ سابق وزیراعظم رفیق حریری کے قتل نے، جس کا الزام شام پر عائد کیا گیا، لبنان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس قتل کے بعد لبنان میں شام کے خلاف تحریک نے ایسی شدت اختیار کی اور باہر سے امریکہ اور مغربی ملکوں کا اس بلا کا دباؤ پڑا کہ شام کو لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانی پڑیں۔
شام کی فوجوں کی مراجعت کے بعد پچھلے سال اپریل میں عام انتخابات ہوئے۔ ان انتخابات میں عجیب و غریب اتحاد نمو دار ہوئے۔ ایک طرف رفیق حریری کے صاحب زادہ کے اتحاد میں سنی مسلم اور دروز شامل ہوئے تو دوسری طرف حزب اللہ کے ساتھ شیعوں کی دوسری تنظیم امل نے مل کر کٹر عیسائی رہنا مائیکل عون سے ھاتھ ملائے۔ نتیجہ یہ کہ حریری کے نامزد وزیر اعظم فواد سینوراکو اپنی حکومت میں حزب اللہ کے دو وزیروں کو بھی شامل کرنا پڑا۔ غرض اس حکومت میں شام کے حامی بھی ہیں اور کٹر مخالف بھی۔ فلسطینیوں کے حامی بھی ہیں اور حزب اللہ کے مخالف بھی۔ بھان متی کے اس کنبہ کی وجہ سے موجودہ بحران میں حکومت یکسر مفلوج نظر آتی ہے۔ اب اسرائیل کے حملوں اور فوج کشی کے نتیجہ میں لبنان پھر ایک بار نہایت سنگین بحران سے دوچار ہے اور بلا شبہ یہ بحران اس خانہ جنگی سے بھی زیادہ سنگین اور تباہ کن نظر آتا ہے جس سے لبنان سن پچھتر سے سن نوے تک گزرا ہے۔ اس خانہ جنگی کے بعد لبنان میں جو کچھ تعمیر نو ہوئی تھی وہ سب تاراج ہو چکی ہے۔ بیروت اور دوسرے شہر اور بندرگاہیں کھنڈر بن گئی ہیں۔ تین سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں ایک تہائی بچے ہیں۔ پانچ لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ لبنان کے وزیر خزانہ کا اندازہ ہے کہ اب تک دو ارب ڈالر کا ملک کو نقصان ہو چکا ہے۔ ان تمام تباہ کاریوں اور اموات اور غارت گری کے باوجود اسرائیل نہ تو اپنے ان دو فوجیوں کو رہا کراسکا ہے جن کے پکڑے جانے پر اسرائیل نے یہ جنگ شروع کی تھی اور نہ وہ ابھی تک حزب اللہ کا قلع قمع کر سکا ہے جس کے لیئے وہ جنونی انداز سے یہ جنگ لڑ رہا ہے اور جس میں بلا شبہہ اسے امریکہ کی بھر پور حمایت حاصل ہے۔ |
اسی بارے میں اسرائیل کا مقابلہ کریں گے: حزب اللہ سربراہ21 July, 2006 | آس پاس اسرائیل لبنان میں امداد جانے دے: واچ21 July, 2006 | آس پاس جنگی جرائم ہو رہے ہیں: اقوامِ متحدہ20 July, 2006 | آس پاس لبنان میں لڑائی بند ہونی چاہیے: عنان20 July, 2006 | آس پاس حیفہ کا ہسپتال حملوں کی زد میں20 July, 2006 | آس پاس لبنان کے اندر شدید لڑائی20 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||