BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حیفہ کا ہسپتال حملوں کی زد میں

حیفہ پولیس چیف راکٹ حملےسے ہسپتال کی عمارت کے متاثرہ حصے کا معائنہ کر رہے ہیں
اسرائیل اور لبنان کی سرحدوں کے اطراف جاری لڑائی کی وجہ سے اسرائیل کے زخمیوں اور ہلاک ہونے والے شہریوں اور فوجیوں کی تعداد میں بڑی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اس صورت حال سے سرحدی ساحلی شہر حیفہ کے ہسپتال میں بڑی تشویش ناک صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

شہر کے ’ریمبیم میڈیکل سینٹر‘ کے کم و بیش تمام وارڈز زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ ہسپتال میں کام کرنے والے انڈین نژاد پروفیسر لائیل اینسن بیسٹ کا کہنا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیل کا یہ قصبہ حملوں کا نشانہ بنا ہوحالانکہ انیس سو تہتر کی ’یان کیپور جنگ‘ میں بھی حیفہ محفوظ تھا لیکن اب صورت یہ ہے کہ ہم بھی دوسروں کی طرف کسی بھی وقت نشانہ بن سکتے ہیں۔

پیر کو ہسپتال سے پانچ سو گز کے فاصلے پر واقع اپارٹمنٹ پر ایک راکٹ گرا جس سے کافی نقصان ہوا۔ پروفیسر کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ یہ کہے بھی کہ اس نے ہسپتال کو نشانہ نہیں بنایا تو کیا راکٹ فائر کرتے وقت انہیں علم تھا کہ وہ کہاں گرے گا۔ یہاں جنگ کے ضابطہ اخلاق کی کوئی پراوہ نہیں کی جا رہی ہے۔

اس تناؤ کی کیفیت میں ہسپتال کا عملہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ ہر گزرتے لمحے سرجن زخمیوں کے گھاؤ بھرنے میں مصروف ہیں۔ اس دوران کبھی کبھی میزائلوں اور راکٹوں سے پیدا ہونے والی دھماکہ خیز آواز سنائی دے جاتی ہے اور یہ ڈر بھی کہ معلوم نہیں یہ میزائل کہاں گرا ہو گا۔

ہسپتال میں موجود زخمی یا پھر وینٹیلیٹرز پر لیٹے افراد حملوں کے وقت محفوظ مقام تک خود نہیں جا سکتے تو ان کے ساتھ ہر وقت ہسپتال کے عملے کا کوئی رکن موجود رہتا ہے۔

کسی بھی غیر یقینی صورت حال سے نمبٹے کے لیئے امدادی کارکن تیار رہتے ہیں۔ ہسپتال بیرونی دروازے کے سامنے متاثرہ افراد کو لانے والے کوئی بیس کے قریب بستراور ایمبولینسیں کھڑی ہیں۔

راکٹ حملے میں بچ جانے والے سیمی راز

ہسپتال کے ڈائریکٹر پروفیسر ریفل بیئر نے بتایا کہ ماضی میں ہم بڑے پیمانے پر ہنگامی صورت حال سے نبرد آزما ہوتے رہے ہیں جیسے کے خودکش حملے جس میں سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے جنہیں شہر کے باقی ہسپتالوں میں منتقل کر دیا جاتا تھا لیکن اس وقت حالات بہت مختلف ہیں کیونکہ جنگ سمٹ کے اس خطے میں آگئی ہے اور اب ہمیں اپنی سلامتی کی بھی فکر ہے۔ ہسپتال میں اس وقت بھی انتہائی خطرے کے باجود مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

’ریمبیم میڈیکل سینٹر‘ میں اس وقت سات سو مریض زیر علاج ہیں جن میں سے 63 راکٹ حملوں سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔

ہسپتال میں زیر علاج انتیس سالہ یوسی حیدر یاد کرتے ہیں کہ کیسے راکٹ پھٹنے اور اس سے اڑنے والے ٹکڑے ان کے اور ان کے باقی ساتھیوں کے جسموں میں گھس گئے۔ انہوں نے بتایا کہ راکٹ ریلوے ڈپو کی چھت سے کمرے میں آن گرا جس سے ان کے ساتھ موجود آٹھ ساتھی ہلاک اور چودہ سے زائد زخمی ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ مرنے والوں کے لیئے یہ انتہائی حیران کن اور تیز رفتار موت تھی۔ ان کے بستر کے ساتھ انتیس سالہ سیمی راز نے بتایا کہ وہ اس حملے میں مرتے مرتے بچے۔

 لبنانحزب اللہ کا ’جوا‘
حزب اللہ نےاس موقع پر اسرائیل کو کیوں چھیڑا؟
حزب اللہاسرائیل کا درد سر
حزب اللہ اور اسرائیل کا ایک تقابلی جائزہ
اسرائیل کا مقصد؟
لبنان پر حملوں سے اسرائیل کا مقصد کیا ہے؟
لبنان: تباہی، انخلاء
چہروں پر جھلکتا خوف
اسرائیلی لابی کا اثر
امریکہ میں اسرائیل کے حق میں مظاہرے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد