BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 06 January, 2006, 17:23 GMT 22:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حروفِ عطف کا استعمال

اردو قواعد
حروف ربط کے استعمال کی بہت سی صورتیں ہیں
گذشتہ چند نشستوں میں ہم نے اُردو کے حروفِ ربط ( سے۔ کو۔ تک۔ پر۔ نے) وغیرہ پر مفصّل بحث کی تھی اور اُن کا تاریخی پس منظر بھی بیان کیا تھا۔

آج ہم اُردو کے حروفِ عطف پر ایک نگاہ ڈال رہے ہیں یعنی دو جملوں یا دو لفظوں کو آپس میں ملانے والے حروف۔ اُردو میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حرفِ ربط ہے ’اور‘ لیکن اسکے علاوہ بھی کئی حروف اس ذیل میں آتے ہیں مثلاً پھِر۔ کر۔ کے۔ یا وغیرہ۔

اِن حروف کے استعمال کی بہت سی صورتیں ہیں جنہیں مختصراً چند زُمروں میں بانٹا جا سکتا ہے، یعنی وصل۔ تردید۔ اِستدراک۔ اِستثناء۔ شرط۔ عِلّت اور بیانیہ۔

آئیے اِن زمروں کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں:

وِصل

اسکا مطلب ہے ملانا۔ قدیم اُردو میں لفظ ’ہور‘ استعمال ہوتا تھا جو کہ اب بھی پنجابی میں مستعمل ہے لیکن اُردو میں اب ’اور ‘ کا چلن ہو چُکا ہے۔ فارسی کا محض ’و‘ بھی اسکا متبادِل ہے جو کہ عربی سے فارسی میں آیا تھا۔

’اور‘ کے ذریعے دو جملوں یا لفظوں کو ملانے کا عمل اتنا عام ہے کہ شاید مثال دینے کی بھی ضرورت نہیں البتہ محض ’و‘ کے ذریعے اُردو میں دو جملوں کو ملانے کی کوئی مثال، کم از کم جدید اُردو میں ڈھونڈنا محال ہے۔ شاعری میں البتہ اسکی مثالیں مِل جاتی ہیں۔

عزیزو مستِ سخن ہو و یا کہ سوتے ہو
اُٹھو اُٹھو کہ بس اب سر پہ آفتاب آیا

بعض اوقات اور کا لفظ مخدوف ہوتا ہے لیکن اس کے معانی موجود رہتے ہیں۔ مثلاً ہاتھ پاؤں دھو لو یعنی ہاتھ اور پاؤں دھو لو۔ اسی طرح ذیل کے جملوں میں اور کا مفہوم موجود ہے لیکن اور کا استعمال خلافِ محاورہ سمجھا جائے گا:

• کھیل کود میں وقت ضائع مت کرو۔
• دِن رات یہی مشغلہ رہتا ہے۔
• برے بھلے میں تمیز کرنا سیکھو۔
• دکھ سکھ میں کام آنا چاہیئے۔
• چلنے پھرنے سے معزور ہو گئے ہو کیا؟
• دوست دُشمن سبھی وہاں موجو د تھے۔
• اپنا پرایا دیکھ کے بات کرنی چاہیئے۔
• کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔
• سینے پرونے کا کام کر لیتی ہوں۔
• چھوٹے بڑے کا لحاظ ہی نہیں اسے۔
• امیر غریب کا یہاں کوئی فرق نہیں۔

یہ سب ایسے جملے تھے جن میں اور کا مفہوم موجود ہے لیکن خود یہ لفظ غائب ہے۔ بعض اوقات اور کا لفظ موجود ہوتا ہے لیکن وصل کے معنی نہیں دیتا مثلاً اور بمعنی مختلف:

ہے بسکہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اور
کرتے ہیں محبت تو گزرتا ہے گُماں اور

اور بمعنی مزید
کوئی دِن گر زندگانی اور ہے

اور بمعنی علاوہ / سوا
ہر چند سبک دست ہوئے بت شکنی میں
ہم ہیں تو ابھی راہ میں ہیں سنگِ گراں اور

بعض اوقات اور کا لفظ دو لفظوں کو ملانے کی بجائے بالکل الگ الگ کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے مثلاً:
یہ منہ اور مسور کی دال

غالب کے یہاں بھی اسکی بہت مثالیں ملتی ہیں۔
یہ جانتا ہوں کہ تو اور پاسُخِ مکتوب
مگر ستم زدہ ہوں ذوقِ خامہ فرسا کا

کہاں مےخانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

پھر

کا لفظ بھی وصل کے لئے آتا ہے مثلاً پہلے کھانا کھاؤ پھر باہر جانا۔

امدادی فعل ہونا کےمشتقات بھی وصل کا مفہوم دیتے ہیں:

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
اسکی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

اسی طرح کر یا کے جب فعل کے بعد آتے ہیں تو وصل کا مفہوم دیتے ہیں مثلاً:

کھانا کھا کر جانا
وہ ابھی سو کر نہیں اٹھے
میں کتاب ختم کر کے جاؤں گا
وہاں جاکے بیٹھے نہ رہنا

حروفِ تردید

نہ، یا، یاتو، خواہ، چاہے۔ چاہو، کہ وغیرہ اُردو میں حروفِ تردید شمار کئے جاتے ہیں۔

اِن سے کئی طرح کے کام لئے جاتے ہیں مثلاً دو چیزوں کے یکجا ہونے کو روکا جاتا ہے، جیسے ’تمھیں زندگی چاہیئے یا موت‘۔

ظاہر ہے کہ دونوں چیزیں بیک وقت ممکن نہیں ہیں اس لئے یا ایک حرفِ تردید ہے۔

کبھی کبھی اس کے ساتھ تو کا اضافہ بھی ہو جاتاہے:

یاتو پاسِ دوستی تُجھ کو بُتِ بے باک ہو
یا مجھی کو موت آجائے کہ قصّہ پاک ہو

خواہ کا لفظ فارسی کے مصدر خواستن سے نکلا ہے اور ’چاہنا‘ کا مطلب دیتا ہے۔

’چاہو آؤ، چاہو نہ آؤ‘

اور اسطرح بھی کہہ سکتے ہیں:
خواہ آؤ خواہ نہ آؤ

اور آخر میں ایک مثال حرفِ تردید کہ کی:

حیراں ہوں دِل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں۔

استدراک

جب پہلے جملے میں کسی طرح کا شُبہ واقع ہو تو دوسرے جملے میں جِن الفاظ کو لا کر وہ شُبہ دور کرتے ہیں وہ حروفِ استدراک کہلاتے ہیں مثلاً: البتہ، اگرچہ، اِِلّا، بارے، بلکہ، پر، پہ، تو، سو، گو، لیکن وغیرہ

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔
یا
گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے۔

گو اور بارے کی مثال:

رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے ہم
بارے طبیعتوں کے تو چالاک ہوگئے

گو اور لیکن کی مثال

گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا

سو کی مثال

کِس سے محرومیء قسمت کی شکایت کیجئے
ہم نے چاہا تھا کہ مرجائیں سو وہ بھی نہ ہوا

پر کی مثال

آج ہم اپنی پریشانیءخاطر اُن سے
کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھئے کیا کہتے ہیں

پہ کی مثال

ہوئی آ کے پیری میں قدرِ جوانی
سمجھ ہم کو آئی پہ ناوقت آئی

استثناء

حروفِ استثناء وہ حُروفِ عطف ہیں جن کا مقصد ایک شے کو دوسری سے الگ کرنا ہو مثلاً جُز، بجز، سوائے، سِوا۔

جز کی مثال

جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار
صحرا مگر بہ تنگیء چشمِ حسور تھا

بجز کی مثال

بجز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہوگا؟

سوائے کی مثال

وہ چیز جس کے لئے ہم کو ہو بہشت عزیز
سوائے بادہءگلفام مشک بو کیا ہے؟

شرط

’اگر محنت کرو گے تو پھل پاؤ گے‘
اس جملے میں پھل پانے کے لئے محنت ایک شرط ہے اور اگر حرفِ شرط۔

اُردو کے دیگر حروفِ شرط یہ ہیں:
گر، گرچہ، ازبس، ازبسکہ، جب، جب جب، جو، جس دم، جوکہ، جبکہ، جوں جوں، چونکہ، گو، گوکہ، تا، تاکہ، تاوقتےکہ، ہرگاہ، خواہ، کیوں نہ، نہیں تو، ورنہ، وگرنہ۔

گر
اصل میں اگر کا مخفف ہے اور شعری ضرورتوں کے تحت استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً:

میری قسمت میں غم گر اتنا تھا
دِل بھی یا رب کئی دیئے ہوتے

اگر

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دِل اگر پڑا پایا
دِل کہاں کہ گم کیجے، ہم نے مُدعا پایا

اگرچہ

غم اگرچہ جاں گسل ہے، پہ بچیں کہاں کہ دِل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا، غمِ روزگار ہوتا

گرچہ
گرچہ ہوں دیوانہ پر کیوں دوست کا کھاؤں فریب
آستیں میں دشنہ پنہاں ہاتھ میں نشتر نکلا

جو
اسے کون دیکھ سکتا کہ یگانہ ہے وہ یکتا
جو دوئی کی بو بھی ہوتی تو کہیں دوچار ہوتا

جب کہ
جبکہ تجھ بِن نہیں کوئی موجود
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

عِلّت

وہ حروف جِن سے کسی بات کا سبب ظاہر ہو حروفِ علّت کہلاتے ہیں۔ مثلاً: کیونکر، کیونکہ، اس لئے کہ، اس واسطے، اس باعث کہ، تاکہ، تا، لہٰذا وغیرہ۔ چند مثالیں درجِ ذیل ہیں۔

کیونکر
کیونکر اُس بت سے رکھوں جان عزیز
کیا نہیں ہے مجھے ایمان عزیز

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے
بنا ہے عیش تجمل حسین خاں کے لئے
(یہاں تا بمعنی تاکہ ہے)

مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیء خیال
تا باز گشت سے نہ رہے مُدعا مجھے

بیانیہ

’کہ‘ حرفِ بیانیہ ہے اور دو جملوں کو ملانے کے کام آتا ہے۔ مولوی عبدالحق کے بقول ’یہ حرف عموماً مقولے کے بعد آتا ہے اور مقصد، ارادہ، امید، خواہش، رجحان، حکم، نصیحت، مشورہ، ڈر، اجازت، کوشش، ضرورت یا فرض کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے میرا اِرادہ ہے کہ اب یہاں سے دُور چل دُوں۔ میں نے کہا کہ تمھارے یہاں رہنے کی ضرورت نہیں۔

اور چچا غالب یہاں بھی ہمارے کام آئیں گے:

میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیئے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یوں

تخصیص

حروفِ تخصیص ان حروف کو کہتے ہیں جو کسی اسم یا فعل کے ساتھ آ کر اُن میں خصوصیت کے معنی پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً تو، ہی، بھی، ہر، صرف، محض، اکیلا، اک، فقط، نِرا، تنہا، بس، خالی۔

اِن میں دو حروف یعنی ہی اور تو خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں اور مرزا غالب نے ہماری سہولت کے لئے دونوں کو اس شعر میں یک جا کردیا ہے۔

دِل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں رُلائے کیوں

اسی بارے میں
یہ مسائلِ تلفظ۔۔۔ اور دیگر مسائل
06 November, 2005 | قلم اور کالم
زبان کی نازک باریکیاں
29 November, 2005 | قلم اور کالم
۔۔۔اور ہم بولنے لگے
11 August, 2004 | Learning English
زبانوں کی دنیا
16 August, 2004 | Learning English
انگریزی جملے کی ساخت
10 December, 2004 | Learning English
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد