حروفِ عطف کا استعمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گذشتہ چند نشستوں میں ہم نے اُردو کے حروفِ ربط ( سے۔ کو۔ تک۔ پر۔ نے) وغیرہ پر مفصّل بحث کی تھی اور اُن کا تاریخی پس منظر بھی بیان کیا تھا۔ آج ہم اُردو کے حروفِ عطف پر ایک نگاہ ڈال رہے ہیں یعنی دو جملوں یا دو لفظوں کو آپس میں ملانے والے حروف۔ اُردو میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا حرفِ ربط ہے ’اور‘ لیکن اسکے علاوہ بھی کئی حروف اس ذیل میں آتے ہیں مثلاً پھِر۔ کر۔ کے۔ یا وغیرہ۔ اِن حروف کے استعمال کی بہت سی صورتیں ہیں جنہیں مختصراً چند زُمروں میں بانٹا جا سکتا ہے، یعنی وصل۔ تردید۔ اِستدراک۔ اِستثناء۔ شرط۔ عِلّت اور بیانیہ۔ آئیے اِن زمروں کا الگ الگ جائزہ لیتے ہیں: وِصل اسکا مطلب ہے ملانا۔ قدیم اُردو میں لفظ ’ہور‘ استعمال ہوتا تھا جو کہ اب بھی پنجابی میں مستعمل ہے لیکن اُردو میں اب ’اور ‘ کا چلن ہو چُکا ہے۔ فارسی کا محض ’و‘ بھی اسکا متبادِل ہے جو کہ عربی سے فارسی میں آیا تھا۔ ’اور‘ کے ذریعے دو جملوں یا لفظوں کو ملانے کا عمل اتنا عام ہے کہ شاید مثال دینے کی بھی ضرورت نہیں البتہ محض ’و‘ کے ذریعے اُردو میں دو جملوں کو ملانے کی کوئی مثال، کم از کم جدید اُردو میں ڈھونڈنا محال ہے۔ شاعری میں البتہ اسکی مثالیں مِل جاتی ہیں۔ عزیزو مستِ سخن ہو و یا کہ سوتے ہو بعض اوقات اور کا لفظ مخدوف ہوتا ہے لیکن اس کے معانی موجود رہتے ہیں۔ مثلاً ہاتھ پاؤں دھو لو یعنی ہاتھ اور پاؤں دھو لو۔ اسی طرح ذیل کے جملوں میں اور کا مفہوم موجود ہے لیکن اور کا استعمال خلافِ محاورہ سمجھا جائے گا: • کھیل کود میں وقت ضائع مت کرو۔ یہ سب ایسے جملے تھے جن میں اور کا مفہوم موجود ہے لیکن خود یہ لفظ غائب ہے۔ بعض اوقات اور کا لفظ موجود ہوتا ہے لیکن وصل کے معنی نہیں دیتا مثلاً اور بمعنی مختلف: ہے بسکہ ہر اک اُن کے اشارے میں نشاں اور اور بمعنی مزید اور بمعنی علاوہ / سوا بعض اوقات اور کا لفظ دو لفظوں کو ملانے کی بجائے بالکل الگ الگ کرنے کا فریضہ انجام دیتا ہے مثلاً: غالب کے یہاں بھی اسکی بہت مثالیں ملتی ہیں۔ کہاں مےخانے کا دروازہ غالب اور کہاں واعظ پھر کا لفظ بھی وصل کے لئے آتا ہے مثلاً پہلے کھانا کھاؤ پھر باہر جانا۔ امدادی فعل ہونا کےمشتقات بھی وصل کا مفہوم دیتے ہیں: ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے اسی طرح کر یا کے جب فعل کے بعد آتے ہیں تو وصل کا مفہوم دیتے ہیں مثلاً: کھانا کھا کر جانا حروفِ تردید نہ، یا، یاتو، خواہ، چاہے۔ چاہو، کہ وغیرہ اُردو میں حروفِ تردید شمار کئے جاتے ہیں۔ اِن سے کئی طرح کے کام لئے جاتے ہیں مثلاً دو چیزوں کے یکجا ہونے کو روکا جاتا ہے، جیسے ’تمھیں زندگی چاہیئے یا موت‘۔ ظاہر ہے کہ دونوں چیزیں بیک وقت ممکن نہیں ہیں اس لئے یا ایک حرفِ تردید ہے۔ کبھی کبھی اس کے ساتھ تو کا اضافہ بھی ہو جاتاہے: یاتو پاسِ دوستی تُجھ کو بُتِ بے باک ہو خواہ کا لفظ فارسی کے مصدر خواستن سے نکلا ہے اور ’چاہنا‘ کا مطلب دیتا ہے۔ ’چاہو آؤ، چاہو نہ آؤ‘ اور اسطرح بھی کہہ سکتے ہیں: اور آخر میں ایک مثال حرفِ تردید کہ کی: حیراں ہوں دِل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں۔ استدراک جب پہلے جملے میں کسی طرح کا شُبہ واقع ہو تو دوسرے جملے میں جِن الفاظ کو لا کر وہ شُبہ دور کرتے ہیں وہ حروفِ استدراک کہلاتے ہیں مثلاً: البتہ، اگرچہ، اِِلّا، بارے، بلکہ، پر، پہ، تو، سو، گو، لیکن وغیرہ ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا۔ گو اور بارے کی مثال: رسوائے دہر گو ہوئے آوارگی سے ہم گو اور لیکن کی مثال گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار سو کی مثال کِس سے محرومیء قسمت کی شکایت کیجئے پر کی مثال آج ہم اپنی پریشانیءخاطر اُن سے پہ کی مثال ہوئی آ کے پیری میں قدرِ جوانی استثناء حروفِ استثناء وہ حُروفِ عطف ہیں جن کا مقصد ایک شے کو دوسری سے الگ کرنا ہو مثلاً جُز، بجز، سوائے، سِوا۔ جز کی مثال جز قیس اور کوئی نہ آیا بروئے کار بجز کی مثال بجز پروازِ شوقِ ناز کیا باقی رہا ہوگا؟ سوائے کی مثال وہ چیز جس کے لئے ہم کو ہو بہشت عزیز شرط ’اگر محنت کرو گے تو پھل پاؤ گے‘ اُردو کے دیگر حروفِ شرط یہ ہیں: گر میری قسمت میں غم گر اتنا تھا اگر کہتے ہو نہ دیں گے ہم دِل اگر پڑا پایا اگرچہ غم اگرچہ جاں گسل ہے، پہ بچیں کہاں کہ دِل ہے گرچہ جو جب کہ عِلّت وہ حروف جِن سے کسی بات کا سبب ظاہر ہو حروفِ علّت کہلاتے ہیں۔ مثلاً: کیونکر، کیونکہ، اس لئے کہ، اس واسطے، اس باعث کہ، تاکہ، تا، لہٰذا وغیرہ۔ چند مثالیں درجِ ذیل ہیں۔ کیونکر دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے مستانہ طے کروں ہوں رہِ وادیء خیال بیانیہ ’کہ‘ حرفِ بیانیہ ہے اور دو جملوں کو ملانے کے کام آتا ہے۔ مولوی عبدالحق کے بقول ’یہ حرف عموماً مقولے کے بعد آتا ہے اور مقصد، ارادہ، امید، خواہش، رجحان، حکم، نصیحت، مشورہ، ڈر، اجازت، کوشش، ضرورت یا فرض کے اظہار کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے میرا اِرادہ ہے کہ اب یہاں سے دُور چل دُوں۔ میں نے کہا کہ تمھارے یہاں رہنے کی ضرورت نہیں۔ اور چچا غالب یہاں بھی ہمارے کام آئیں گے: میں نے کہا کہ بزمِ ناز چاہیئے غیر سے تہی تخصیص حروفِ تخصیص ان حروف کو کہتے ہیں جو کسی اسم یا فعل کے ساتھ آ کر اُن میں خصوصیت کے معنی پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً تو، ہی، بھی، ہر، صرف، محض، اکیلا، اک، فقط، نِرا، تنہا، بس، خالی۔ اِن میں دو حروف یعنی ہی اور تو خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں اور مرزا غالب نے ہماری سہولت کے لئے دونوں کو اس شعر میں یک جا کردیا ہے۔ دِل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں | اسی بارے میں ۔۔۔اور ہم بولنے لگے11 August, 2004 | Learning English زبانوں کی دنیا16 August, 2004 | Learning English انگریزی زبان میں آرٹیکل کا استعمال05 April, 2005 | Learning English انگریزی جملے کی ساخت10 December, 2004 | Learning English | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||