BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 29 November, 2005, 22:25 GMT 03:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
زبان کی نازک باریکیاں

پچھلی نشست میں ہم نے اسمائے جمع کی ہندی، فارسی اور عربی صورتوں پر
ایک سرسری نگاہ ڈالی تھی۔ آج ہم اس مسئلے کا ذرا تفصیل سے جائزہ لیتے ہیں۔

جہاں تک جمع بنانے کے ہندی یعنی دیسی طریقے کا تعلق ہے وہ ہم لوگ فطری طور پر ہی سیکھ جاتے ہیں مثلاً یہ جاننے کے لئے کسی پاکستانی یا ہندوستانی کو گرامر کی کتاب درکار نہیں ہے کہ لڑکا کی جمع لڑکے اور دوات کی جمع دواتیں ہے۔ قواعد کے اصول پڑھے بغیر بھی ہمیں معلوم ہے کہ لڑکی کی جمع لڑکیاں ہے اور عورت کی جمع عورتیں ہے۔ ذرا سا غور کرنے پر ہمیں اسکے پسِ پُشت کارفرما صوتی اصول بھی معلوم ہو سکتا ہے لیکن عملی زندگی میں ہمیں تجزئیے کی ضرورت کبھی نہیں پڑتی۔

ہمارے لئے مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ بحر (سمندر ) کی جمع بحور بھی ہے اور ابحر بھی جبکہ کبھی کبھی بحار بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اسی طرح عبد ( بندہ) کی جمع عباد، عبود، اعباد، اعبدہ، اعبد۔۔۔ غرض یہ سلسلہ چلتا ہی جاتاہے۔

اُردو کے پُرانے قواعد نویسوں نے عربی کے 29 اَوزان درج کئے ہیں جن پر اسماء کی جمع بنائی جاسکتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ سب کے سب اُردو میں مستعمل نہیں ہیں۔

ذیل میں عربی کے چند معروف اوزان درج کئے جا رہے ہیں جن کے آگے اُن عربی الفاظ کی مثالیں بھی ہیں جو اُردو میں استعمال ہوتے ہیں۔ پہلے نمونے کا عربی سانچہ درج ہے جسکے مطابق اسماء کی جمع بنائی جاتی ہے مثلاً فُ عُ ْل محض ایک عربی سانچہ ہے اور ُفعُل کے سانچے میں ڈھلے ہوئے جمع کے صیغے والے الفاظ کی مثالیں یہ ہیں: کُتُب، رُسُل، صُحُف وغیرہ۔ آئیے اب عربی کے کُچھ سانچوں اور اُن میں ڈھلے ہوئے صیغہء جمع کے الفاظ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔
َمفاعِل: مَجالس، مَحافِل، مَقابِر، مَواقِع
فُعَلاء: عُلَماء، رُؤَساء، اُمَراء، غُرَباء، ُطلَباء
فَعالِل: خَضائِل، فَضائِل، قَبائِل، عَزائِم
فَعالِیل: مکاتِیب، مضامِین، اقالِیم، صنادِید
فُعُل: کُتُب، رُسُل، صُحُف (صحیفہ کی جمع)
فُعُول: نُفُوس، نُجُوم، نُقُوش، طُیُور، اُصُول (اصل کی جمع)
اَفعال: اَسرار، اَطفال، اَہداف، اَخبار (خبر کی جمع)
فُعّال: عُمّال، حُکّام، حُجّاج، عُشّاق، خُدّام
فِعال: نِکات، جِہات، خِصال، عِظام، کِبار
فَعَلَہ: طَلَبہ، عَمَلہ، عَمَدہ
فِعَل: حِصَص، قِصَص، ِسیَر ( سیرت کی جمع) مِلَل ( مِلّت کی جمع)
اَفعُل: اَنجُم، اَنفُس
فَعَلات: دَرَجات، حَشَرات، غَزَوات، عَزَلات
اِن کے علاوہ بھی کچھ عربی اوزان ہیں جن میں بنے ہوئے جمع کے صیغے اُردو میں استعمال ہوتے ہیں لیکن وہ اوزان زیادہ معروف نہیں ہیں۔

یہاں یہ سوال بالکُل جائز ہے کہ محض ایک واحد کوجمع میں بدلنے کے لئے اتنے زیادہ طریقے کیوں استعمال کئے جاتے ہیں؟ اسکا سادہ سا جواب یہ ہے کہ کلاسیکی عربی میں اِن تمام سانچوں کا مفہوم ایک دوسرے سے تھوڑا تھوڑا مختلف تھا۔ سوائے چند صورتوں کے، اب مفہوم کی وہ کلاسیکی باریکیاں ختم ہو چُکی ہیں اور اُردو میں تو اُن کا وجود بالکُل ناپید ہے، لیکن پُرانے سانچے ابھی تک چل رہے ہیں۔
اس موقعے پر ہم طُلَباء اور طَلَبہ کا مسئلہ بھی حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ دونوں الفاظ جمع کے صیغے میں ہیں اور دونوں کا مطلب ہے: سٹوڈنٹس
لیکن طُلَباء عربی کے سانچے ’ فُعَلا ‘ کے وزن پر ہے اور درحقیقت یہ طالب کی نہیں بلکہ ’طلیب‘ کی جمع ہے۔ عربی لفظ طلیب کا مطلب ہے کسی شے کا متلاشی یا جُویا۔

طُلَباء کے ضمن میں جان۔ٹی۔پلیٹس اپنی معروف ہندوستانی۔انگلش ڈ کشنری میں لکھتے ہیں: ہندوستان میں اس لفظ کو بالعموم طالب کی جمع سمجھاجاتا ہے جو کہ درست نہیں کیونکہ طالب کی جمع ’طلبہ‘ ہے (صفحہ 753 )۔

گویا ماہرین کے نذدیک سٹوڈنٹس یا طالبعلموں کے لئے زیادہ مناسب لفظ ’طلبہ‘ ہے کیونکہ فَعَلہ کے وزن پہ بننے والا یہ لفظ طالب کی اصل جمع ہے۔

ہمارے خیال میں اِن الفاظ کے عربی مادوں تک جانا اور وہاں سے گوہرِ مقصود کی شکل میں کسی ایک لفظ کو مُٹھی میں بھینچ لانا، دُور کی کوڑی لانے والی بات ہے۔ طلیب کا لُغوی مفہوم بھی طالب سے مختلف نہیں بلکہ اس میں تلاش اور طلب کی شدّت پائی جاتی ہےاس لئے علم کی تلاش کرنے والوں کے لئے طلباء کا لفظ بھی جائز سمجھا جانا چاہیئے۔

ویسے جھگڑے سے بچنے کے لئے ہم فارسی کا سہارا بھی لے سکتے ہیں اور دانش جُو کا لفظ استعمال کر سکتے ہیں۔ حیرت ہے کہ ہم نے یونیورسٹی کے لئے تو دانش گاہ کا لفظ کسی حد تک قبول کر لیا ہے لیکن طالبِ علم کو دانش جُو کہنے سے گُریزاں ہیں۔

مقامی فرہنگ میں بھی ہمارے پاس دو متبادلات موجود ہیں: وِدیارتھی اور مُنڈا۔ اوّلالذکر، وِدّیا (عِلم) سے ماخوذ ہے اور ایک خالص ہندی لفظ ہونے کے باعث ہمارے لئے نا قابلِ قبول ہے۔

مُنڈا کا لفظی مطلب ہے ایسا لڑکا جِس کا سر مُنڈا ہوا ہو۔ چونکہ پُرانے وقتوں میں گُرو جسے بھی تعلیم دیتے تھے اُس کا سر مونڈ دیتے تھے چنانچہ گُرو کے تمام چیلے اُس کے مُونڈے ہوئے ہوتے تھے اور اسی نسبت سے’ مونڈے‘ کہلاتے تھے، بعد میں یہی لفظ مُنڈے بن گیا۔ آج کل چونکہ یہ لفظ لڑکے یا چھوکرے کے معانی میں مستعمل ہے اور طالب علمی کا مفہوم تاریخ کی دبیز چادر میں چھُپ چُکا ہے اس لئے ہم سٹوڈنٹس کے لئے مُنڈے کا لفظ بھی استعمال نہیں کر سکتے، چنانچہ پلڑا ایک بار پھر دانش جُو کے حق میں جھُک جاتا ہے۔

اُردو میں اسم کی تعداد ظاہر کرنے کے لئے دو ہی صورتیں ہیں: چیز اکیلی ہو تو واحد ہے اور ایک سے زیادہ ہوں تو جمع ہیں۔ لیکن ہر زبان میں ایسا نہیں ہوتا۔ سنسکرت، کلاسیکی یونانی اور عربی میں واحد اور جمع کے علاوہ ایک تیسرا صیغہ تثنیہ کا بھی ہے جس سے مُراد ہے دو اشیاء۔

عربی کے وہ اسماء جو اُردو میں آگئے ہیں اپنے ساتھ یہ صیغہ بھی لے کر آئے ہیں۔ مثلاً ’فریقین‘ یعنی دو فریق۔ جانِبیَن یعنی دو جانِب، اسی طرح درجِ ذیل الفاظ بھی تثنیے کے صیغے میں آتے ہیں:
والدَین، بحَرین، مشرقَین، نعلَین، قطبَین وغیرہ

بعض زبانوں میں عدد کے چار صیغے ہوتے ہیں واحد، تثنیہ، ثلاثہ اور جمع۔ گویااِن زبانوں میں دو کے علاوہ تین کو بھی ’جمع‘ نہیں سمجھاجاتا اور جمع کا صیغہ چار سے شروع ہوتا ہے۔ اِن کے برعکس ہنگری اور جارجیا ( سابق سویت جمہوریہ) کی زبانوں میں دو آنکھیں واحد شمار کی جاتی ہیں۔ اسی طرح دونوں ہاتھ، دونوں پیر، دونوں ٹانگیں، دونوں کان وغیرہ بھی ایک یُونٹ شمار ہوتے ہیں اور اُن کے لئے واحد کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہنگری یا جارجیا میں کسی کو ایک کان یا ایک آنکھ یا ایک ٹانگ کا ذکر کرنا ہو تو کیسے کرے گا؟

جواب آسان ہے: وہ کہے گا، آدھا کان، آدھی آنکھ اور آدھی ٹانگ:

اس سلسلے کی آئندہ نشست میں ہم اسم کی جِنس (جینڈر) کا ذکر کریں گےاور مذکر موئنث کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق سے قارئین کو روشناس کرائیں گے۔

اسی بارے میں
لفظوں کی لفاظی
02 November, 2005 | Learning English
یہ مسائلِ تلفظ۔۔۔ اور دیگر مسائل
06 November, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد