زبانوں کی دنیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک تازہ لسانی جائزے کے مطابق دنیا میں اس وقت کُل چھ ہزار آٹھ سو نو زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لیکن ان کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے کیونکہ نوے فیصد زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہے۔ 537 زبانیں ایسی بھی ہیں جن کے بولنے والے پچاس سے بھی کم رہ گئے ہیں، لیکن زیادہ افسوس ناک حالت ان 46 زبانوں کی ہے جو آئندہ چند برسوں میں ختم ہونے والی ہیں کیونکہ ان کو بولنے والا صرف ایک ایک انسان باقی ہے۔ چین میں بولی جانے والی مینڈرین زبان آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی زبان سمجھی جاتی ہے جبکہ انگریزی زبان دوسرے نمبر پر ہے۔ ’اردو - ہندی‘ کو اگر ایک زبان تصور کیا جائے تو آبادی کے لحاظ سے تیسرا نمبر اسی زبان کا ہے لیکن اگر ہندی کو الگ زبان کے طور پر دیکھا جائے تو عالمی زبانوں کی فہرست میں اس کا نمبر چھٹا بنتا ہے (پانچویں نمبر پر بنگالی ہے) اور اردو بائیسویں نمبر پر چلی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ عربی اور ہسپانوی بھی دنیا کی بڑی زبانوں میں شامل ہیں۔ لیکن انگریزی کا معاملہ سب سے جدا ہے۔ اگر چہ دنیا میں صرف 32 کروڑ افراد کی مادری زبان انگریزی ہے جن کی اکثریت امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں آباد ہے، لیکن دنیا بھر کے ملکوں میں مزید 35 کروڑ افراد ایسے ہیں جو انگریزی کو ایک ثانوی زبان کے طور پر استعمال کرتے ہیں یعنی اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ وہ انگریزی بھی اسی سہولت اور روانی سے بول لیتے ہیں۔ ان کے علاوہ دس سے پندرہ کروڑ تک ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے ضرورتاً انگریزی سیکھی ہے۔ لیکن ایسے افراد کی تعداد اب تیزی سے بڑھ رہی ہے جن کی نہ تو یہ مادری زبان ہے اور نہ ہی ثانوی زبان، البتہ تعلیم، روزگار یا محض ذہنی افق کو وسیع کرنے کی غرض سے انہوں نے انگریزی میں دسترس حاصل کی ہے۔ ریڈیو، ٹی وی، فلم اور خاص طور پر انٹرنیٹ کا استعمال بڑھنے کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان کا استعمال اور اس کی افادیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک زبان کے طور پر انگریزی کی ساخت کو پوری طرح سمجھنے کے لیے لسانیات کے چند بنیادی نکات کا علم ضروری ہے۔ مثلاً ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا بھر کی زبانیں کئی خاندانوں میں بٹی ہوئی ہیں اور کسی بھی زبان کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس کا شجرہء نسب جاننا ضروری ہے۔ دنیا بھر میں بولی جانے والی سات ہزار کے قریب زبانوں کو کم ازکم دس خاندانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں سے ہم صرف چار خاندانوں کا ذکر کرنا چاہیں گے۔ The Indo - European Family ہند - یورپی گروہ زبانوں کا سب سے بڑا خاندان ہے اور ہمارے مطالعے کے لیے سب سے اہم بھی، کیونکہ انگریزی، اردو، ہندی، بنگالی، پنجابی اور فارسی یہ تمام زبانیں اسی گروہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ سنسکرت اور لاطینی جیسی کلاسیکی زبانوں کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے، لیکن عربی ایک بالکل مختلف خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ The Sino - Tibetan Family دنیا میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی زبان مینڈرین اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ چین اور تبت میں بولی جانے والی کئی زبانوں کے علاوہ برمی زبان بھی اسی قبیلے کی ہے۔ ایک ماترے کی آوازیں (monosyllabic) اور ٹون (tone) یعنی سُر لہر ان زبانوں کی خاص بات ہے۔ ایک ہی آواز اگر اونچی یا نیچی سُر میں ادا کی جائے تو لفظ کا مطلب بدل جاتا ہے۔ The Afro - Asiatic Family زبانوں کے اس خاندان کو Hamito-Semitic یا سامی خاندان بھی کہا جاتا ہے۔ اس کی قدیم زبانوں میں آرامی، اسیری، سمیری، اکادی اور کنعانی وغیرہ شامل تھیں لیکن آج کل اس گروپ کی مشہور ترین زبانیں عربی اور عبرانی ہیں۔ The Dravidian Family زبانوں کا دراوڑی خاندان اس لحاظ سے بڑی دلچسپی کا حامل ہے کہ اگر چہ یہ زبانیں ہندوستان کے جنوب میں بولی جاتی ہیں لیکن ان کا شمالی ہندوستان کی زبانوں سے بالکل کوئی تعلق نہیں۔ چنانچہ اردو یا ہندی کا انگریزی یا جرمن زبان سے تو کوئی رشتہ نکل سکتا ہے لیکن ملیالم زبان سے نہیں۔ جنوبی بھارت اور سری لنکا میں دراوڑی گروپ کی کوئی 26 زبانیں بولی جاتی ہیں لیکن ان میں زیادہ معروف تمل، تلیگو، ملیالم اور کنڑ ہیں۔ جیسا کہ ہم نے پہلے کہا انگریزی کا تعلق ہند - یورپی خاندان سے ہے۔ اس لحاظ سے انگریزی کی ہماری زبانوں کے ساتھ دور کی رشتہ داری نکلتی ہے اور ہماری زبان کے کئی الفاظ اس کی گواہی دیتے ہیں مثلاً ’جھنگی‘ اور ’جھنگل‘ کے الفاظ گھنی جھاڑیوں کے معانی میں ہمارے یہاں صدیوں سے مستعمل ہیں اور انگریزی کا لفظ Jungle یہیں سے ماخوذ ہے، اور اردو - ہندی کا لفظ ’کونا‘ انگریزی میں corner ہو گیا ہے۔ یہ مماثلت صرف اردو اور انگریزی ہی میں نہیں بلکہ اس خاندان کی سبھی زبانوں میں ایک جیسے الفاظ مل سکتے ہیں مثلاً مہینہ کے لیے انگریزی میں month کا لفظ استعمال ہوتا ہے، ڈچ میں maand ، جرمن میں monat ، سویڈش میں manad ، یونانی میں minas اور فارسی میں ’ماہ‘۔ اس مماثلت کی وجہ یہ ہے کہ یہ تمام زبانیں ایک ہی لسانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||