BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 August, 2004, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
۔۔۔اور ہم بولنے لگے

بولنے لگے
بولنے سے پہلے۔۔۔
انگریزی زبان کے بارے میں بات کرنے سے پہلے ہم عمومی انداز میں انسانی زبان کی اصل اور اس کے درجہ بہ درجہ ارتقاء پر کچھ بات کریں گے۔

اس سوال کا حتمی جواب تو آج تک نہیں مل سکا کہ انسان نے زبان کا استعمال کب شروع کیا لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ بولنے کی طاقت ہی انسان کو دیگر جانوروں سے ممتاز کرتی ہے اور اسے ’اشرف المخلوقات‘ کے درجے تک پہنچاتی ہے۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ انسان نے پہلے پہل فطرت میں پائی جانے والی آوازوں کی نقالی شروع کی مثلاً کتّے کے بھونکنے کی آواز، برستی بارش کا شور، بادلوں کی گڑگڑاہٹ، ہوا کی سائیں سائیں اور پرندوں کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ وغیرہ۔

لیکن کچھ اور ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان نے سب سے پہلے اپنے ذاتی جذبات اور احساسات کو صوتی شکل دی تھی۔ مثلاً خوف، خوشی اور جوش و خروش کے موقعوں پر اس کے منہ سے ’اف‘، ’واہ‘، ’اوہ‘ وغیرہ کی آوازیں نکلتی تھیں اور یہی آوازیں انسانی زبان کی ابتدا تھیں۔

ڈارون کا کہنا تھا کہ انسانی زبان (جیبھ) اصل میں ہاتھ پاؤں کی حرکات کی نقل کرتے ہوئے ہلنا شروع ہوئی تھی، بعد میں ان بے ھنگم آوازوں نے ایک منظّم شکل اختیار کر لی۔

لیکن ایک جدید نظریہ اس سے بھی دلچسپ توضیح پیش کرتا ہے : ماہر لسانیات E H Sturtevant کا خیال ہے کہ ہاتھوں، پیروں، آنکھوں اور چہرے کے اشارے کنائے سے انسان کے اصل جذبات منظر عام پر آجاتے ہیں۔ چنانچہ اپنے اصل جذبات کو چھپانے اور جھوٹ بولنے کے لیے انسان نے زبان کا استعمال شروع کر دیا۔

اٹھاروھیں صدی تک یہ خیال عام تھا کہ ماضی بعید میں ساری دنیا کے انسانوں کی ایک ہی زبان تھی لیکن بعد میں یہ ’مہا بھاشا‘ یا Proto - Speech شاخ در شاخ تقسیم ہوتی چلی گئی۔

یہ مہا بھاشا کونسی تھی، اس سلسلے میں ہر قوم کا دعویٰ الگ تھا۔ سویڈن کے ماہرین لسانیات سترھویں صدی تک سنجیدگی سے دنیا کو بتاتے تھے کہ باغ عدن میں خدا سویڈیش زبان بولتا تھا جبکہ حضرت آدم Danish زبان بولتے تھے اور شیطان کی زبان فرانسیسی تھی۔

اسی طرح عربی، ترکی، عبرانی اور یونانی بولنے والے لوگ مختلف ادوار میں یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کی زبان سب سے پرانی ہے اور دنیا کی سب زبانیں وہیں سے نکلی ہیں۔ یہی دعویٰ کسی زمانے میں سنسکرت اور لاطینی کے بارے میں بھی ہوتا رہا ہے۔

جدید لسانیات میں یہ سوال اہم نہیں ہے کہ سب سے پہلے کونسی زبان وجود میں آئی بلکہ ان سوالات پر زیادہ توجہ ہے کہ خیال کی منتقلی میں زبان کس طرح کام کرتی ہے؟ الفاظ اور خیال کا آپس میں کیا رشتہ ہے؟ کیا الفاظ کے بغیر خیال جنم لے سکتا ہے؟ شیر خوار بچہ الفاظ کے بغیر کس طرح سوچتا ہے؟ کیا کسی مخصوص زبان میں انسانی خیالات کا ابلاغ زیادہ آسان اور موثر ہوتا ہے؟

بیسویں صدی کے فلسفے پر بھی لسانیات کا گہرا اثر ہے اور یہ پرانا سوال کہ ہمارے ذہن میں پہلے خیال جنم لیتا ہے یا لفظ، نئی نئی شکلیں اختیار کر کے علوم نفسیات اور عضویات کے دروازوں پر دستک دیتا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد