انگریزی زبان میں آرٹیکل کا استعمال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغربی یورپ کی اکثر زبانوں میں ’ آرٹیکل‘ کا تصور موجود ہے۔ چنانچہ فرانس، جرمنی، ہالینڈ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، آئس لینڈ، ہسپانیہ، اطالیہ، رومانیہ، پرتگال اور یونان وغیرہ کا کوئی باشندہ جب انگریزی میں ’آرٹیکل ‘ کے استعمال کو سمجھنا چاہتا ہے تو اسے کوئی خاص مشکل پیش نہیں آتی لیکن پاک و ہند کی زبانوں میں چونکہ ’آرٹیکل ‘ کا تصور موجود نہیں ہے اس لئے ’آرٹیکل‘ کی تفہیم یہاں والوں کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس موضوع کی پیچیدگی کا اندازہ اس امر سے بھی ہو سکتا ہے کہ جدید انگریزی کے معروف قواعد نویس مائیکل سوان نے اپنی کتاب کے سولہ صفحات محض ’آرٹیکل‘ کی تشریح کے لئے وقف کر دئیے ہیں۔ Indefinite article a /an تو آئیے اِن دونوں کا جائزہ لیتے ہیں Indefinite article اِس ’آرٹیکل‘ کو واضح کرنےکے لئے سکول کے بچوں کو عموماً یہ سادہ سا اصول سمجھا دیا جاتا ہے کہ کسی واول حرف سے شروع ہونے والے اسماء سے قبل ’اے‘ کی بجائے ’این‘ استعمال کیا جاتا ہے۔ A dog ________ An apple یہ اصول بڑی حد تک درست بھی ہے۔ لیکن اصل میں بات ہجوں کی نہیں تلفظ کی ہے۔ مثلا ً کئی الفاظ جو واول سے شروع ہوتے ہیں اُن سے پہلے ’اے‘ لگتا ہے حالانکہ اصول کے مطابق یہاں ’این‘ لگنا چاہئیے۔ مثلاً A uniform اور بہت سے غیر واول حروف سے شروع ہونے والے اسماء سے قبل ’اے‘ کی بجائے ہم ’ این‘ لگاتے ہیں۔ مثلاً An N.G.O اسکی وجہ صوتی ہے۔ یعنی بنیادی طور پر یہ دیکھنا ہے کہ اِسم کس آواز سے شروع ہو رہا ہے اور اگر آواز واول ہے تو اس بات کا خطرہ ہے کہ ’اے‘ کی آواز واول میں مدغم ہو جائے گی۔ چنانچہ اِسم اور ’آرٹیکل‘ کوایک دوسرے میں گُم ہونے سے بچانے کے لئے ہم ’اے‘ کی جگہ ’این‘ استعمال کرتے ہیں۔ An egg اور آئیے اب آرٹیکل کی دوسری قسم کا جائزہ لیتے ہیں۔ ذرا نیچے دئیے ہوئے دونوں جملوں پر غور کیجئے: Books are expensive The books are expensive پہلے جملے میں ایک عمومی بات کی گئی ہے۔ یعنی کتابیں مہنگی ہیں اور اشارہ سبھی کتابوں کی طرف ہے۔ لیکن دوسرے جملے میں اشارہ تمام کتابوں کی طرف نہیں ہے بلکہ مخصوص کتابوں کی طرف ہے جن کا ذکر یا تو گفتگو میں پہلے ہو چکا ہے یا مخاطب کو معلوم ہے کہ کونسی کتابوں کی بات ہو رہی ہے۔ Definite article کا استعمال درج ذیل صورتوں میں ہوتا ہے: جب مخاطب کو معلوم ہو یا وہ اندازہ کر سکے کہ کن چیزوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ (1) اِن جملوں میں جس آم، جس دروازے یا جن اُمیدواروں کا ذکر ہو رہا ہےسننے والا اُن سے واقف ہے۔ (2) گفتگو کے دوران اگر کسی چیز یا شخص کے بارے میں بات ہو اور کچھ دیر کے بعد پھر سے اُسی چیز یا شخص کا ذکر آجائے تو ہم اِس آرٹیکل کا استعمال کرتے ہیں مثلاً: .Jameel has got two children; a boy and a girl (3 ) کرہ ارض کے کسی خاص حصّے کا ذکر کرتے ہوئے مثلاً .The North pole 4 ) دریاؤں یا سمندورں کے نام سے پہلے: 5) بعض اسماء کے ساتھ اُس صورت میں ’ دی‘ کا استعمال ہوتا ہے جب اُن کی مجموعی حیثیت کی طرف اشارہ ہو۔ لیکن کسی انفرادی واقعے کے طور پر اِن کا ذکر آئے تو پھر ’ اے‘ یا ’این ‘ کا استعمال ہوتا ہے۔ آئیے ایک مثال کے ذریعے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ The river, The sun,The wind,The world, The earth, .The White House اِن تمام اسماء سے پہلے ہم نے ’دی‘ لگایا ہے کیونکہ ہم اِن کی مجموعی حیثیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ لیکن اگر ہوا، بارش اور دھوپ وغیرہ کا انفرادی ذکر ہو تو پھر ’دی‘ کی بجائے ’اے / این ‘ کااستعمال ہوگا۔ مثلاً یہ جملے دیکھئے .I could hear the wind بعض صورتوں میں یہ دونوں طرح کے آرٹیکل استعمال نہیں ہوتے یعنی اسم سے پہلے نہ تو ’دی‘ لگایا جاتا ہے اور نہ اے / این۔ اس صورتِ حال کو’ زیرو آرٹیکل‘ کا نام دیا جاتا ہے اور ہماری اگلی نشست اسی موضوع پر ہو گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||