Hazard کہاں سے آیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جیسا کہ ہم جانتے ہیں ہر زندہ زبان اپنے ارد گرد کے حالات سے متاثر ہوتی ہے اور آس پاس کی زبانوں سے بھی استفادہ کرتی ہے۔ انگریزوں کی پہنچ چونکہ ہر خطے تک رہی ہے ۔کبھی حاکموں کے طور پر اور کبھی تاجروں یا فّنی ماہروں کے روپ میں۔اس لیے انگریزی زبان کا دیگر عالمی زبانوں سے اثر لینا قابلِ فہم ہے۔ انگریزی زبان اپنے لسانی خاندان کے لحاظ سے ایک ’ہند۔یورپی‘ یعنی انڈو یورپین زبان ہے لیکن دنیا بھر میں اپنے اثرورسوخ کے باعث اس کو دیگر لسانی خاندانوں سے استفادہ کرنے کا موقع بھی ملا ہے۔ مثلاً عربی زبان ’سامی‘ خاندان سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کے بہت سے الفاظ انگریزی میں در آئے ہیں۔ اصل میں ہاتھی کے لیے استعمال ہونے والا انگریزی لفظ Elephant عربی کے لفظ admiral عربی کے امیرالبحر سے بگڑ کر بنا ہے اسی طرح الجبرا،الکیمی (الکیمیا) اور الکوحل کے الفاظ بھی ایک لمبا سفر طے کر کے عربی سے انگریزی میں پہنچے ہیں۔ اِس تمہید کی ضرورت یوں پیش آئی کہ آج ہم جس انگریزی لفظ کا پس منظر بیان کر رہے ہیں اسکی جڑیں بھی عربی زبان میں ہیں۔ آج کا لفظ ہے Hazard اور اس کا مطلب ہے ’خطرہ‘۔ مثلاً خطرات سے پُر زندگی کو کہیں گے : A life, full of hazards. اِسم کے علاوہ یہ لفظ فعل کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً اس لفظ کا استعمال محاورے میں بھی ہوتا ہے، مثلاً اگر آپ ہر قیمت پہ کچھ کر یعنی میں اس کام کی خاطر ہر طرح کا خطرہ مول لینے کو تیار ہوں۔ اسکا اسم صفت ہو گا: Hazardous۔ مثلاً پہاڑ کی خطرناک چڑھائی کے بارے اور آئیے اب اس لفظ یعنی Hazard کے پس منظر پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں: آجکل پانسے کے ذریعے کھیلا جانے والا مقبول ترین کھیل لُڈو ہے لیکن اصل میں پانسہ جُوا کھیلنے کے لئے بنایا گیا تھا۔ صلیبی جنگوں کے بعد عربی کا لفظ ’الزھر‘ جب ہسپانیہ پہنچا تو اسکی شکل’azar‘ ہوگئی اور یہی لفظ فرانس میں پہنچ کر Hasard بن گیا۔ انگریزی میں اسکی شکل ہے Hazard ۔ چونکہ پانسے کا کھیل ایک خطرناک چیز ہے اور نوسرباز لوگ میلوں ٹھیلوں میں بھولے بھالے افراد کو پانسے کے کھیل میں پھنسا کر لُوٹ لیا کرتے تھے۔ اس لیے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||