OK کا چلن کیسے ہوا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’ہیلو‘ کے بعد انگریزی کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا لفظ غالباً OK ہے اور اس لفظ کا پس منظر کھنگالیے تو عجیب و غریب کہانیاں سننے کو ملتی ہیں۔ اگرچہ آج کل OKکو ہر چھوٹا بڑا بے تکلفی سے استعمال کر لیتا ہے، لیکن پہلے ہم اپنے نوجوان قارئین کو یہ بتا دیں کہ اِس لفظ کے بارے میں چند عشرے پہلے صورتِ حال یہ نہیں تھی۔ خود میرے زمانہ طالب علمی تک یہ لفظ ’بازاری‘ خیال کیا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے ہماری فلسفے کی کلاس میں پروفیسر شاھد علی نے ایک لڑکے کو سو مرتبہ ’All Right‘ لکھنے اور پھر سو مرتبہ زبانی دُہرانے کی ذلت ناک سزا دی تھی۔ کیونکہ اس بیچارے نے پروفیسر کے ایک حکم کی تعمیل میں بعد میں پروفیسر شاھد علی نے ساری کلاس کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ’اگر کسی اور نے بھی زیادہ ’YANKEE‘ بننے کی کوشش کی تو اسکا بھی یہی حشر ہوگا۔ اس لفظ کی ابتدا کے بارے میں سب سے عام نظریہ تو یہ ہے کہ امریکی صدر اینڈریو جیکسن نے all correct کی بنیاد پر اسکے غلط ہجوں یعنی oll korrect کے مخفف ok کو رواج دیا۔ یہ کہانی جب پاک و ہند تک پہنچی تو لوگوں نے اِس میں صدر کا کردار تبدیل کر کے وہاں جارج واشنگٹن یا ابراہام لنکن کو لا بٹھایا۔ یہ کہانی جتنی پاپولر ہے، اتنی ہی غلط بھی کیونکہ کسی امریکی صدر کے بارے میں اس طرح کی حرکت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اِس سے ذرا بہتر اور کسی حد تک قابلِ اعتبار کہانی ایک صدارتی اُمیدوار کے بارے میں ہے جسکی انتخابی مہم سن 1800 کے قریب شروع ہوئی تھی۔ اُمیدوار کا آبائی گاؤں ریاست نیویارک میں تھا اور اسکا نام تھا Old Kinderhook چنانچہ اسکے حامیوں نے اسی نام کے پہلے حروف لے کر ایک O K گروپ بنالیا۔ اور ہر طرف اسی لفظ کی شہرت پھیلا دی۔ امریکی ریلوے کے ابتدائی زمانے میں ایک پوسٹل کلرک کی داستان بھی ملتی ہے جسکا نام Obadiah Kelly تھا اور ہر پارسل پر نشانی کی خاطر اپنے نام کے پہلے حروف OK درج کر دیتا تھا۔ اور وہیں سے یہ لفظ مشہور ہو گیا ہے۔ لیکن ان کہانیوں سے زیادہ مضبوط یہ دلیل معلوم ہوتی ہے کہ OK کسی ریڈ انڈین زبان کا لفظ ہے۔ کہا جاتا ہےکہ ریڈانڈین قبیلے ’ چکٹاؤ ‘ کا سردار ایک روز عمائدینِ قبیلہ کے مشورے سن رہا تھا اور ہر مشورے پر ’او - کے‘ کے الفاظ ادا کرتا تھا جس کا مطلب تھا ’ ہاں ٹھیک ہے‘۔ کسی امریکی نو آباد کار نے یہ منظر دیکھ لیا اور پھر اپنے ساتھیوں میں اس لفظ کو عام کر دیا۔ OK ایک ایسا لفظ ہے جسے امریکی بجا طور پر ایک خالص امریکی لفظ قرار دیتے ہیں کیونکہ یہ لفظ انگریزی زبان کے ساتھ انگلستان سے وہاں نہیں پہنچا بلکہ امریکی سرزمین کی اپنی پیداوار ہے۔ اگرچہ گزشتہ تیس چالیس برس میں اس لفظ کو بازاری بول چال سے سنجیدہ تحریر میں آنے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے اور اب کوئی اُستاد اسے استعمال کرنے پر شاگرد کو سزا نہیں دیتا لیکن شریر طالب علموں نے معزز اسا تذہ کو طیش دلانے کے لیے اب اس لفظ کو بگاڑ کر ’اوکی‘ اور ’اوکی ڈوکی‘ جیسے اوٹ پٹانگ الفاظ ایجاد کر لیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||