YANKEE کا مطلب کیا ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لفظ ’ OK کا مطلب بیان کرتے ہوئے ایک اور لفظ Yankee کا تذ کرہ بیچ میں آگیا تھا اور ہم نے وعدہ کیا تھا کہ آئندہ کسی نشست میں اس لفظ کی توضیح بھی کی جائے گی۔ آج یہ وعدہ پورا کرنے کا دِن آن پہنچا ہے۔ برطانیہ اور یورپ میں ’کسی بھی امریکی شہری کیلئے Yankee کا لفظ استعمال ہو سکتا ہے لیکن یہ کوئی نفرت انگیز لفظ نہیں ہے (جیسا مثال کے طور پر Paki ہے جو کہ کچھ تنگ نظر گوروں نے ایشیائی باشندوں کو دھتکارنے کے لئے ایجاد کیا تھا) امریکیوں کے لئے Yankee کا لفظ کسطرح وجود میں آیا، اس بارے میں کم از اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ لفظ پرانی سکاٹش زبان سے آیا ہے جہاں اس کا مطلب ہوا کرتا تھا ’ تیز طرّار‘۔ آج بھی انگریزی میں Yankee trader کا لفظ موجود ہے۔ البتہ دوسری کہانی کے مطابق Yankee کا لفظ ہالینڈ سےآیا ہے اور اس کا پس منظر یہ ہے کہ ہالینڈ کے سادہ لوح دیہاتیوں کو جو کہ پنیر بنانے کا کام کرتے تھے، جرمن لوگ jan kees کہا کرتے تھے۔ 1600 ء کے بعد جب یہ پنیر بنانے والے دیہاتی نقلِ وطن کر کے امریکی ساحلوں پر آباد ہوئے اور نیو انگلینڈ کے جنوب میں ان کا زراعت کا کاروبار خوب جم گیا تو انھوں نے وہی لفظ جو خود کبھی ان کی چھیڑ تھا، یعنی ، Jan kees اب احساسِ تفاخر کے ساتھ اُن دیگر آباد کاروں کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا جو نیو انگلینڈ میں زرعی فارم بنانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کھیتی باڑی کے کام میں نااہل تھے۔ قابض انگریز فوجیوں کو یہ لفظ بہت پسند آیا اور انھوں نے نیو انگلینڈ کے سبھی لوگوں کو yan kees کہنا شروع کر دیا۔ امریکی خانہ جنگی کے دوران اس لفظ کے معنی میں وسعت پیدا ہو گئی اور شمالی ریاستوں کے فوجیوں کوجنوب والوں نے Yankees کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم میں یورپ آنے والے سبھی امریکی سپاہی Yankee کہلائے۔ بعد میں اس لفظ کی مختصرصورت Yank بھی عام ہو گئی۔ جنگِ عظیم کے دوران تھکے ہارے اتحادی فوجیوں کے لئے امریکی مدد ایک بہت بڑا سہارا تھی اسی لئے The Yanks are coming کا اُمید افزاء گیت اُن دنوں یورپ میں بہت مقبول ہوا تھا۔ آج کل یہ لفظ محض فوجیوں تک محدود نہیں بلکہ ہر امریکی Yankee کہلا سکتا ہے اور اب ’یانکی‘ کا ذکر ہو رہا ہے تو لگے ہاتھوں ’ یانکی ڈُوڈل‘ کو بھی دیکھ لیا جائے۔ 1775 کا زمانہ تھا۔قابض برطانوی فوج ہر طرح کے فوجی سازو سامان سے لیس تھی اور اُس کے سپاہی صاف ستھری اِستری شدہ وردیاں پہنتے تھے جبکہ دیگر آباد کاروں کے پاس نہ وردیاں تھیں نہ باقاعدہ ہتھیار تھے بلکہ لاٹھیاں، کُلہاڑیاں اور چند پُرانی بندوقیں اُن کا کُل اثاثہ تھا۔ چنانچہ آباد کاروں کی اس مفلوک الحال فوج کامضحکہ اُڑانے کے لئے برطانوی فوج کے ایک ڈاکٹر نے Yankee Doodle کے نام سے ایک فوجی نغمہ تحریر کیا، اور قابض برطانوی فوج نے جب ’باغیوں ‘ کا ایک ٹھکانہ تباہ کرنے کے لئے بوسٹن سے اپنے دستے روانہ کئے تو وہ Yankee Doodle کی دُھن پر مارچ کرتے ہوئے آباد کاروں پر حملہ آور ہوئے لیکن تہی دست کسانوں نے ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ برطانوی فوجیوں کو دُم دبا کر بھاگنا پڑا۔ اس پر نہتے کاشتکاروں نے پوری طاقت مجتمع کر کے بوسٹن تک برطانوی فوج کا پیچھا کیا اور اس مرتبہ کسانوں کی فتح مند ٹولیاں یہ سب کچھ تو 1775 میں ہوا لیکن گزشتہ دو صدیوں کے دوران یہ عسکری گیت ’ بڑھے چلو مجاہدو ‘ جیسی ہمہ گیر حیثیت اختیار کر گیا ہے اور اسے کوئی بھی گروہ جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||