BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 December, 2005, 14:01 GMT 19:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اُردو قواعد و لِسانیات کی پہلی کتاب

کتاب
انشاء کی کتاب میں پہلی بار لِسانیاتی اپروچ کی جھلک دکھائی دیتی ہے
اہلِ زبان کو خود اپنی زبان کے تـجزیئےکی ضرورت شاذ و نادر ہی پڑتی ہے چنانچہ زبان کے تجزیئے اور اسکے قواعدی ڈھانچے کی پہچان کا کام عموماً غیر ملکی لوگ شروع کرتے ہیں اور اہلِ زبان بہت بعد میں اس کارِ خیر میں شریک ہوتے ہیں۔

اردو کے سلسلے میں بھی ہمیں یہی صورتِ حال نظر آتی ہے کیونکہ اب تک کی تحقیق کے مطابق اُردو کی پہلی قواعد کی کتاب 1690 کے لگ بھگ ایک ڈچ باشندے نے مرتب کی تھی۔ یہ دراصل مقامی لفظوں کی ایک فہرست تھی جسکی وضاحت کے لئے چند قواعدی اصول دریافت کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔ البتہ 1747 میں شائع ہونے والی بنجمن شلزے کی جرمن زبان میں لکھی ہوئی ہندوستانی گرامر کو ماہرینِ اُردو پہلی باقاعدہ گرامر قرار دیتے ہیں۔

انگلستان اور یورپ کے باشندوں نے اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے دوسو برسوں میں اُردو اور ہندی کی بے شمار گرامریں تحریر کِیں اور وہ سب ایک مفصّل مطالعے کی متقاضی ہیں لیکن آج ہم ایک ایسی کتاب کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جو کسی غیر ملکی نے نہیں بلکہ اسی دھرتی کے ایک سپوت نے لکھی تھی۔ کتاب کا نام تھا ’دریائے لطافت‘ اور مصنف تھے انشااللہ خان انشاء۔

 انگلستان اور یورپ کے باشندوں نے اٹھارھویں اور انیسویں صدی کے دوسو برسوں میں اُردو اور ہندی کی بے شمار گرامریں تحریر کِیں اور وہ سب ایک مفصّل مطالعے کی متقاضی ہیں

اگرچہ اُس وقت تک ’لِسانیات‘ ایک علیحدہ عِلم کے طور پر مُستحکم نہیں ہوئی تھی یعنی گرامر اور عروض ہی کو زبان کا اصل علم گردانا جاتا تھا لیکن انشاء کی کتاب میں پہلی بار ہمیں لِسانیاتی اپروچ کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔

انشاء کو اِس اولّیت کا شرف بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اُردو کو کلاسیکی زبانوں کے معیار سے نہیں پرکھا، جسکا رواج اُن دنوں عام تھا، بلکہ اُردو کو ایک مقامی زبان کے طور پر جانچا ہے۔ اُن کی معرکہ آراء تصنیف ’دریائے لطافت‘ کے بارے میں مولوی عبدالحق لکھتے ہیں:

’سید انشااللہ خان انشاء پہلے شخص ہیں جنھوں نے عربی فارسی کا تتبع چھوڑ کر خود اُردو زبان کی ہئیت و اصلیت پر غور کیا اور اسکے قواعد وضع کئے اور جہاں کہیں تتبع کیا بھی تو زبان کی حیثیت کو نہیں بھولے‘۔

اور یہ حقیقت ہے کہ انشاء نے پہلی بار کچھ ایسے مسائل پر بات کی جنھیں غیر اہم سمجھ کر کبھی زیرِ بحث نہ لایا گیا تھا۔ مثلاً بیرونی زبانوں سے اُردو میں آنے والے وہ الفاظ جو گھُل مِل کر اُردو کا حصّہ بن چکے تھے، مقامی محاورں کا تذکرہ، نیز بولی اور زبان کا فرق۔

 انشاء کو اِس اولّیت کا شرف بھی حاصل ہے کہ انھوں نے اُردو کو کلاسیکی زبانوں کے معیار سے نہیں پرکھا، جسکا رواج اُن دنوں عام تھا، بلکہ اُردو کو ایک مقامی زبان کے طور پر جانچا ہے۔

یہاں یہ واضح کر دیا جائے کہ انشاء نے یہ کتاب فارسی میں لکھی تھی کیونکہ فارسی ہی اُن دنوں علم و ادب کی زبان تھی۔ اگرچہ انشاء کی فارسی انتہائی آسان ہے اور چونکہ بات اُردو کے بارے میں ہو رہی ہے اور بار بار اُردو جملوں کی مثالیں بھی درج کی جارہی ہیں اس لئے پڑھنے والے کو کوئی دقّت پیش نہیں آتی۔ اس مضمون میں ہم انشاء کی اصل تحریر کا اُردو روپ پیش کر رہے ہیں۔ کتاب کی ابتدا ہی میں انشاء لکھتے ہیں:

’یہ غلط فہمی بڑی عام ہے کہ اُردو میں اگر عربی، فارسی، ترکی سریانی، پنجابی یا پوربی کا کوئی لفظ آجائے تو اسکا تلفظ اور استعمال اصل زبان کے مطابق ہونا چاہیئے، صحیح صورتِ حال یوں ہے کہ جو لفظ اُردو میں آگیا تو وہ اُردو کا ہو گیا۔ اب اسکا استعمال بھی مقامی قواعد و ضوابط کے تحت ہوگا نہ کہ اصل زبان کے مطابق۔‘

اسکے بعد انشاء نے عربی اور فارسی کے الفاظ کی بہت سی مثالیں دی ہیں جنھوں نے مقامی رنگ روپ اختیار کر لیا ہے اور اب وہ اُردو کے الفاظ بن چکے ہیں۔ آجکل اِس عمل کو ’تہنید‘ کا نام دیا جاتا ہے یعنی:
INDIANISATION

گرامر نویسوں کا زمانہء قدیم سے وطیرہ رہا ہے کہ وہ محض معیاری زبان کو بُنیاد بنا کر تمام اصول و ضوابط اخذ کرتے ہیں اور علاقائی بولیوں کو ناقص قرار دے کر ہر طرح کی بحث سے خارج کر دیتے ہیں۔

خود مغرب میں بھی صدیوں تک لاطینی زبان کا ڈنکا بجتا رہا اور علاقائی بولیوں کو خاطر میں نہ لایا گیا۔ اِس لحاظ سے انشاء کے کام پر حیرت ہوتی ہے کہ اس نے دوسو برس پہلے بولی ٹھولی کی اہمیت کو سمجھ لیا اور بالکل اس انداز میں علاقائی محاوروں کا تجزیہ کیا جسطرح آج کل ڈائیلیکٹولوجی کے امریکی اور یورپی ماہرین کرتے ہیں۔

 انشاء کا ایک اور کمال یہ ہے کہ اس نے اُردو آوازوں کا مکمل تجزیہ پیش کرتے ہوئے یہ نکتہ بھی پیش کیا کہ جن آوازوں کو ہم ’بے ھے کی بنی بھے‘ اور ’پے ھے کی بنی پھے‘ وغیرہ کہتے ہیں وہ دراصل ب اور ھ کی آوازوں کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ دونوں سے جدا ایک نئی آواز ہیں۔

دہلی کے مختلف محلّوں کی زبان کا تجزیہ کرنا اور اُن کے باہمی فرق پر لکھنا اِنشاء ہی کا کام تھا۔ اسی مطالعے کو آگے بڑھاتے ہوئے انشاء نے دہلی اور لکھنؤ کی زبان کا موازنہ بھی پیش کیا ہے۔ انشاء کا ایک اور کمال یہ ہے کہ اس نے اُردو آوازوں کا مکمل تجزیہ پیش کرتے ہوئے یہ نکتہ بھی پیش کیا کہ جن آوازوں کو ہم ’بے ھے کی بنی بھے‘ اور ’پے ھے کی بنی پھے‘ وغیرہ کہتے ہیں وہ دراصل ب اور ھ کی آوازوں کا مجموعہ نہیں ہیں بلکہ دونوں سے جدا ایک نئی آواز ہیں۔ انشاء نے اس طرح کی سترہ آوازیں گِنوائی ہیں:
بھ۔ پھ۔ تھ۔ ٹھ۔ ڈھ۔ ڑھ۔ جھ۔ چھ۔ دھ۔ ڈھ۔ کھ۔ گھ۔ لھ۔ مھ۔ نھ۔ وھ۔ یھ۔

انشاء اپنے ہم عصر شاعروں اور ادیبوں کے مقابلے میں خاصے آزاد خیال اور جدید فکر کے حامل نظر آتے ہیں۔ مثلاً دریائے لطافت میں لکھتے ہیں کہ زبان داں ہونے کے لئے دہلی میں پیدا ہونا ضروری نہیں۔ کوئی باہر کا آدمی بھی اپنے علم و فضل کے زور پہ دہلی والوں کی زبان درست کر سکتا ہے‘ اسطرح کی لِسانی کفر گوئی کی ہمت دہلی میں بیٹھ کر انشاء کے سوا کوئی نہ کر سکتا تھا۔

فعل امر ونہی کےبارے میں ایک جگہ ’مت جا‘ اور متی جا کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’بر زبانِ مُلّاہائے مکتبیء شاہ جہاں آباد و بعضے ہنود ’مت‘ حرفِ نہی باشد ۔۔۔ ’تو متی جا‘ زبانِ دلال بچگان است کہ پدرومادر پنجابی و خود در دہلی متولد شدہ اند ۔۔۔ ‘

یعنی دہلی کے سودگرانِ پنجابی کی اولاد جو زبان بولتی تھی، انشاء نے اسکا بھی تجزیہ کر ڈالا اور اُس کی تاریخی وجوہ پر بھی روشنی ڈال دی۔

 انشاء اپنے ہم عصر شاعروں اور ادیبوں کے مقابلے میں خاصے آزاد خیال اور جدید فکر کے حامل نظر آتے ہیں۔ مثلاً دریائے لطافت میں لکھتے ہیں کہ زبان داں ہونے کے لئے دہلی میں پیدا ہونا ضروری نہیں۔

فارسی متن کے باعث اردو زبان وادب کے موجودہ طلبہ اِس کتاب کو پڑھنے سے گریزاں رہتے ہیں لیکن اُردو جاننے والا کوئی بھی شخص ذرا سی کوشش سے اس کتاب کے مندرجات کو سمجھ سکتا ہے اور جو حضرات اتنی زحمت بھی نہ کرنا چاہیں اُن کے لئے پنڈت برجموہن دتہ تریا کیفی کا کیا ہوا رواں دواں سلیس اُردو ترجمہ موجود ہے۔

اسی بارے میں
لفظوں کی لفاظی
02 November, 2005 | Learning English
ایک طرح کے لفظ، دو طرح کےمطلب
11 November, 2005 | قلم اور کالم
یہ مسائلِ تلفظ۔۔۔ اور دیگر مسائل
06 November, 2005 | قلم اور کالم
زبان کی نازک باریکیاں
29 November, 2005 | قلم اور کالم
اسم کا کیس
15 December, 2005 | قلم اور کالم
حروفِ ربط اور امالہ
20 December, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد