اسم کا کیس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پچھلے چند مضامین میں ہم نے اُردو اسم کی جِنس (جنڈر) اور تعداد (نمبر) پر بات چیت کی ہے۔ آج ہم اُردو اسم کی ’حالت‘ (کیس) پر کچھ گفتگو کریں گے اور اس بحث سے حاصل ہونے والی معلومات کو بعد میں ’اِمالہ‘ اور دیگر قواعدی اصطلاحات کی تشریح و توضیح میں استعمال کیا جائے گا۔ بات کو آسان لفظوں میں بیان کرنے کے لئے ہم گفتگو کا آغاز دو جملوں سے کرتے ہیں: میں نے اسلم کو کتاب دی پہلے جُملے میں اسلم مفعول ہے اور ’میں‘ فاعل۔ دوسرے جُملے میں جب ’میں‘ مفعول بنا تو اُس کی شکل تبدیل ہو کر ’مجھے‘ ہو گئی۔ مزید وضاحت کے لئے انگریزی کے یہ دو جُملے دیکھیے: I gave him a book یعنی انگریزی کا ’آئی‘ فاعلی حالت ہے اور اسی کی مفعولی شکل ’می‘ ہے۔ اسی طرح انگریزی کا ’ہی‘ جب مفعولی شکل اختیار کرتا ہے تو ’ہِم‘ بن جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات اسم کی حالت تو بدل جاتی ہے، یعنی وہ فاعلی حالت سے مفعولی حالت میں آجاتا ہے لیکن اُس کی شکل جوں کی توں رہتی ہے۔ مثال کے طور پر یہ دو جُملے دیکھیئے۔ محبت نے مجنوں کو برباد کر دیا پہلے جملے میں محبت فاعلی حالت میں ہے کیونکہ بربادی کا عمل محبت کے ہاتھوں انجام پا رہا ہے۔ دوسرے جملے میں محبت مفعولی حالت میں ہے جبکہ مجنوں جُملے کا فاعل ہے۔ اِن دونوں جملوں میں ’محبت‘ کا لفظ تبدیل نہیں ہوا اور نہ ہی مجنوں کے لفظ میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ تو پھر اس تقسیم اور زُمرہ بندی کا فائدہ کیا ہے؟ یعنی اِسم کا فاعلی حالت یا مفعولی حالت میں ہونا اِسم کی تفہیم میں ہماری کیا مدد کرتا ہے؟ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مجنوں اپنی فاعلی حالت میں ہو تو ’مجنوں نے‘ کی شکل اختیار کرتا ہے اور مفعولی حالت میں ہو تو ’ مجنوں کو ‘ بن جاتا ہے۔ اسی طرح ’محبت نے‘ فاعلی حالت اور ’ محبت کو‘ مفعولی حالت ہے۔ اِن ماہرین کے نزدیک زمانۂ قدیم میں ’نے‘ اور ’ کو‘ علیحدہ حیثیت میں موجود نہیں تھے بلکہ اسم کا جزو ہوتے تھے۔ گویا جدید اُردو میں اسم کی حالت کا تصوّر بظاہر ہمارے لئے بیکار ہے لیکن زبان کے ارتقاء کو سمجھنے اور اُردو حروفِ ربط یعنی نے، کو ، سے، پر، تک وغیرہ کے عمل کو جانچنے کے لئے اسم کی حالت (کیس) کا تصوّر ہماری بہت مدد کرسکتا ہے۔ چونکہ عوامی بولیوں کا قدیم تحریری ریکارڈ موجود نہیں ہے اس لئے اُن کا موازنہ تحریری ریکارڈ والی زبانوں سے کر کے ہی کچھ نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔ جِن عوامی بولیوں نے بعد میں اُردو اور ہندی کی باقاعدہ شکل اختیار کی ان میں اسم کی حالت کا پتہ دینے والی آواز الگ ہو کر کسطرح حروفِ ربط کی شکل اختیار کر گئی، اسکا اندازہ سنسکرت اسم کی مختلف حالتوں سے ہو سکتا ہے۔ مثلاً سنسکرت میں محبت کو’ کام‘ کہتے ہیں ( کام دیوتا تو آپکو یاد ہی ہوں گے اور لذّتِ کام و دہن سے بھی آپ شناسا ہیں) لیکن سنسکرت میں کام جب فاعلی حالت میں ہو تو’ کامس‘ بن جاتاہے اور جب مفعولی حالت میں ہو تو’ کامم‘ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ کیس یا اسم کی حالت میں تبدیلی اسی کو کہتے ہیں۔ لاطینی میں اگر پیٹر نامی ایک شخص جُملے کا فاعل ہے تو وہ ’ پیٹرس‘ بن جائے گا اور اگر مفعول ہے تو ’پیٹرم‘ کہلائے گا۔ یعنی اسم کا آخری حصّہ تبدیل ہو کر ہمیں مطلع کرتا ہے کہ یہ اسم بطور فاعل کام کر رہا ہے یا بطور مفعول۔ اس مثال میں ہم نے اسم کی صرف دو حالتوں کا ذکر کیا ہے: فاعلی اور مفعولی۔ لیکن لاطینی میں اسم کی مزید چار حالتیں بھی موجود ہیں جو ہمیں اسم کی جسمانی اور زمانی صورتِ حال سے آ گاہ کرتی ہیں۔ انگریزی میں اسم کی اُن چھ حالتوں کے نام اسطرح ہیں: Nominative case Vocative case Accusative case Genitive case Dative case Ablative case سنسکرت میں اِن چھ حالتوں کے علاوہ بھی دو حالتیں موجود ہیں: Locative case Instrumental case اُردو زبان کے تفصیلی مطالعے اور اسکی صَرفی اور نحوی ساخت کے تجزیئے کا کام چونکہ جرمن، ڈچ اور انگریز ماہرین نے شروع کیا تھا اس لئے سترھویں، اٹھارھویں اور انیسویں صدی کی کتابوں میں اُردو کے اسماء کو بھی لاطینی اور سنسکرت کے سانچوں پہ پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جان۔ٹی۔ پلیٹس پہلا یورپی محقق تھا جس نے کھُل کے اعلان کیا کہ اُردو میں اسم کی تمام کلاسیکی حالتوں کو تلاش کرنا بے سود ہے کیونکہ اُردو میں اب اسم کی دو ہی حالتیں باقی رہ گئی ہیں: فاعلی اور مفعولی۔ ایک تیسری نِدائی حالت بھی ہے لیکن اسکا استعمال بہت کم ہوتا ہے۔ آئیے ایک مثال کے ذریعے اِن تینوں حالتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ’لڑکا‘ آیا ہے (واحد مذکر) تینوں جملوں میں اسم ایک ہی ہے لیکن پہلے جملے میں اسکی شکل تھی لڑکا، دوسرے جملے میں لڑکے، اور تیسرے جُملے میں بھی لڑکے۔ پہلے جملے میں اسم اپنی فاعلی حالت میں ہے۔ دوسرے جملے میں اسم مفعولی حالت میں ہے۔ اور تیسرے جملے میں اسم ندائی حالت میں ہے یعنی اسے پُکارا جا رہا ہے۔ گویا لفظ ’ لڑکا‘ کی اصل صورت صِرف فاعلی حالت میں قائم رہی جبکہ مفعولی اور ندائی حالت میں اسکی شکل تبدیل ہو کر ’ لڑکے‘ بن گئی۔ لیکن یہ تبدیلی ایک مخصوص صورتِ حال میں ہوئی ہے یعنی ہمارے جملے کا فاعل واحد مذکر ہے اور اسکے آخر میں ’ آ ‘ کی آواز ہے ۔ اگر جملوں میں لڑکا کی بجائے لڑکی کا لفظ ہوتا تو وہ جوں کا توں رہتا۔ یعنی: اسی طرح اگر جملے کا فاعل لڑکے (جمع مذکر) ہو تو تینوں شکلیں اس طرح ہوں گی: لڑکے آئے ہیں (جمع مذکر) اگر جملے کا فاعل لڑکیاں ( جمع موئنث) ہو تو فاعل کی تینوں حالتیں یہ ہوں گی: جیسا کہ پہلے بیان ہو چُکا ہے سنسکرت میں اسم کی مزید پانچ حالتیں بھی ہوتی ہیں۔ اسم کی ان تمام حالتوں پر ایک نگاہ ڈال لی جائے تو ہمیں اُردو کے حروفِ ربط نے، سے، پر، تک، میں، کو وغیرہ کا پس منظر سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔ سہولت کی خاطر ہم سنسکرت کے ایک واحد مذکر اسم دیوا کی مثال لے رہے ہیں جس کا مطلب ہے دیوتا۔ دیوا کی آٹھ حالتیں یہ ہوں گی: دیواہ (فاعلی حالت ۔ یعنی یہ جملے کا فاعل ہے) سنسکرت میں اسم کی اِن آٹھ حالتوں کے بیان کا مقصد آپکی توجہ اس نظریئے کی جانب دلانا ہے کہ ہندی اور اُردو میں آج کل جو حروفِ ربط نے، سے، تک، پر، میں، کو وغیرہ استعمال ہوتے ہیں، ماضیء بعید میں اُن کی کوئی الگ حیثیت نہیں تھی بلکہ وہ اسم کا جزوِ بدن تھے اور اسم کی حالت کا پتہ دیتے تھےلیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ اسم کی حالت کا پتہ دینے والی یہ آوازیں اسم سے جُدا ہو کر حروفِ ربط کی شکل اختیار کر گئیں۔ آج کی اُردو میں حروفِ ربط کِن کِن شکلوں میں موجود ہیں اور حروفِ ربط کے اضافے سے جملے میں کس طرح کی تبدیلیاں پیدا ہو سکتی ہیں، یہی ہماری اگلی نشست کا موضوع ہے۔ | اسی بارے میں قصہ مذکر موئنث کا، دوسری قسط13 December, 2005 | قلم اور کالم قصّہ مُذکر مُوئنث کا06 December, 2005 | قلم اور کالم زبان کی نازک باریکیاں29 November, 2005 | قلم اور کالم ایک طرح کے لفظ، دو طرح کےمطلب11 November, 2005 | قلم اور کالم یہ مسائلِ تلفظ۔۔۔ اور دیگر مسائل06 November, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||