BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 December, 2005, 11:18 GMT 16:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حروفِ ربط اور امالہ

امالے کے لیے بُنیادی اصول صوتیاتی ہے
پچھلی نشست میں ہم نے اِس لسانی نظریے کا ذکر کیا تھا کہ اُردو اور ہندی کے حروفِ ربط ( نے، سے، پر، کو، تک وغیرہ) زمانۂ قدیم میں اسم کا جزو ہوتے تھے اور اسم کی حالت کا پتہ دیتے تھے۔ اس سلسلے میں ہم نے لاطینی اور سنسکرت کی کچھ مثالیں بھی دی تھیں۔

جدید اُردو اور ہندی میں اسم کی حالت ( کیس) کا کلاسیکی تصوّر کافی حد تک ختم ہو چُکا ہے البتہ حروفِ ربط، اسم کی مختلف حالتوں کا پتہ دینے کے لیے ضرور استعمال ہوتے ہیں۔ اُردو میں ان کی صورتِ حال کچھ اس طرح ہے:

حالتِ فاعلی: ’ نے ‘ مثلاً اسلم نے کھانا کھایا۔

نئے قواعد نویس ’ نے ‘ کو فاعلی کی بجائے حالتِ آلی کی علامت قرار دیتے ہیں جو کہ درست بھی ہے لیکن یہ الگ بحث ہے۔

حالتِ مفعولی: ’ کو‘ اسلم کو بُلاؤ، کُتے کو مارو

حالتِ طوری: ’ سے‘ کمرے سے باہر جائیے۔ میں اسلم سے بات کروں گا۔

حالتِ ظرفی: میں، پر، اوپر، کےاوپر۔ کُرسی پر کتاب پڑی ہے۔ شہر پرعذاب نازل ہوا۔ گھر میں کون ہے؟

حالتِ اضافی: کا، کے، کی۔ مثلاً اسلم کا جوتا، آپ کی کُرسی، بادشاہ کےدرباری۔

اُردو کے قواعد نویسوں میں مولوی عبدالحق، ڈاکٹر ابواللیث صدیقی اور ڈاکٹر شوکت سبزواری نے اُردو اسم کی حالتوں پر مفصل بحث کی ہے اور اس نظریے سے اتفاق کیا ہے کہ اُردو میں حروفِ ربط کا مطالعہ ہی بُنیادی اہمیت رکھتا ہے اور اسم کی حالتیں اب قصّّۂ پارینہ بن چُکی ہیں۔

حروفِ ربط کی مکمل ترین فہرست ہمیں جان ٹی پلیٹس کی ’ہندوستانی گرامر‘ میں ملتی ہے۔ اِن میں سے کچھ حروف اب متروک ہو چُکے ہیں تاہم یہاں پلیٹس کی پوری فہرست درج کی جا رہی ہے:

بِنا، پر، تک، تئیں، سُدھاں، سمیت، سے، کر، کو، کے، لیئے، میں، باہر، بغیر، پار، پاس، پیچھے، تلے، موافق، آگے، اوپر، بھروسے، بھل، بیچ، پرے، ساتھ، سامنے، سِرے، سنگ، کنے، مارے، نیچے، ہاتھ، ہاں، اندر، برابر، جز، روبرو، سپرد، گرد، چوگرد، نذدیک، باوجود، باوصف، بجائے، بجز، برخلاف، برعکس، درپے، درپیش، درمیان، باعث، بدلے، بعد، حوالے، خلاف، ذریعے، ذمے، سوا، سوائے، علاوہ، عوض، قبل، قریب، لائق، متعلق، مشابہ، مطابق، بدون، بغیر، مابین، ماتحت، بابت، بدولت، جانب، خاطر، معرفت، نسبت۔

جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں پلیٹس نے وقت، مقام، ارادے، شرط، علت اور مقابلے کو بیان کرنے والے حروف بھی اس فہرست میں شامل کر لیے ہیں کیونکہ اُس کے ذہن میں یورپی گرامر کی اصطلاح ’پوسٹ پوزیشن‘ تھی۔ ہم یہاں حروفِ ربط کے مطالعے کو مندرجہ ذیل حروف تک محدود رکھیں گے:

نے / سے / پر / تک / کو / میں / کا ۔ کے ۔ کی

یہ حروف جب کسی اسم کے بعد آتے ہیں تو بعض حالات میں اُن اسماء کی شکلیں بدل جاتی ہیں چنانچہ اِن حروف کو حروفِ عاملہ یا حروفِ مُغیرّہ بھی کہتے ہیں یعنی تغیّر پیدا کرنے والے حروف، تو آئیے تغیّر کی چند صورتوں پر غور کرتے ہیں۔

’ آ ‘ کی آواز پر ختم ہونے والے اسماء کے بعد اگر مندرجہ بالا حروف میں سے کوئی آجائے تو ’ آ ‘ کی اختتامی آواز ’ ے‘ میں بدل جاتی ہے۔ مثال کے طورپہ ’لڑکا‘ کے بعد اگر نے / سے / پر / تک / کو / میں / کا وغیرہ آ جائیں تو لڑکا کی شکل تبدیل ہو کر ’ لڑکے‘ بن جائے گی:

لڑکے نے کہا، لڑکے سے کہو، لڑکے پر بھروسہ کرو، لڑکے تک بات نہ پہنچے، لڑکے کو بلاؤ، لڑکے میں کیا خرابی ہے اور لڑکے کا نام کیا ہے وغیرہ۔ ظاہر ہے یہاں صرف ایک لڑکے کی بات ہو رہی ہے لیکن اُس کی شکل لڑکا سے بدل کر لڑکے ہو گئی ہے۔ اس طرح کی تبدیلی کو اصطلاح میں ’امالہ‘ کہتے ہیں۔

امالے کی کچھ اور مثالیں دیکھیئے:

کالا بُرقعہ کس کا ہے، کالے بُرقعے میں کون ہے؟
یہ رقعہ اُس کو دے دو، اِس رُقعے میں ایک ضروری بات لکھی ہے۔
ہر ذرہ چمک رہا ہے، ہر ذرے کی چمک قابلِ دید ہے۔
میرا حصّہ فوراً مجھے دے دو، میرے حصّے کو کوئی ہاتھ نہ لگائے۔

اِن مثالوں سے یہ بات بھی واضح ہو جانی چاہیئے کہ امالے کے لئے بُنیادی اصول صوتیاتی ہے یعنی اسم کے آخر میں ’ آ ‘ کی آواز ہونی چاہیئے جو کہ ا لف کے علاوہ گول ہ اور ع سے بھی پیدا ہو سکتی ہے مثلاً ذرہ اور بُرقع۔

دوسرا نکتہ یہ سامنے آیا کہ اسم کے ساتھ اگر صفت بھی ’ آ ‘ کی آواز پر ختم ہو رہی ہو ساتھ ہی اُس کا بھی امالہ ہو جاتاہے مثلاً کالا موٹا بکرا بہت تنگ کرتا ہے لیکن امالے کے بعد کہیں گے: کالے موٹے بکرے نے بہت تنگ کیا۔

اُردو کے معروف شاعر جوش ملیح آبادی کے بارے میں قصّہ مشہور ہے کہ انہوں نے اپنے مہمان سے پوچھا ’ اتنی رات گئے آپ کہاں سے آئے ہیں‘ مہمان نے جواب دیا ’پونا سے آیا ہوں‘ زبان کی اس غلطی پر جوش صاحب غُصّے میں آگئے اور طنز سے پوچھا ’ اچھا تو کیا گھوڑا پر آئے ہیں؟‘

جوش صاحب مہمان کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ پونا کا لفظ ’ آ ‘ کی آواز پر ختم ہو رہا ہے چنانچہ اس کا امالہ کرنا ضروری ہے اور درست جملہ یوں ہو گا کہ پُونے سے آیا ہوں۔

لیکن یہ اُردو قواعد کا کوئی مستند اصول نہیں ہے کیونکہ چند قواعد نویس مقامات کے ناموں کو امالے سے مبرّا قرار دیتے ہیں۔ اصل میں امالے کا تصوّر عربی قواعد سے ہمارے یہاں آیا ہے اور ہم اس کا اطلاق عربی جیسی قطعیّت کے ساتھ اُردو میں نہیں کر سکتے چنانچہ ’ آ ‘ کو ’ے‘ میں بدلنے کے عمومی اصول کے ساتھ ساتھ ہمیں کئی طرح کی مُستثنیات سے بھی واسطہ پڑتا ہے جِن کا مختصر احوال یہ ہے:

اوّل: رشتہ ظاہر کرنے والے الفاظ مثلاً ابّا، چچا، تایا، نانا، دادا، پھوپھا وغیرہ
دوئم: ہندی سے آنے والے کچھ الفاظ مثلاً دیوتا، داتا، راجہ، دُلہا وغیرہ
سوئم: فارسی سے آنے والے کچھ الفاظ مثلاً خُدا، دریا، آشنا، بابا، سیما، پارسا، دانا، بینا وغیرہ۔
چہارم: عربی سے آنے والے کچھ الفاظ مثلاً اللہ، ارتقا، التوا، استغنا، اخفا، (چُھپانا) اجرا، اغوا، افترا، طلا، افشا، مُدعا، صحرا اور مسیحا وغیرہ۔

مقامات کے ناموں کا مسئلہ مُتنازعہ ہے۔ اکثر قواعد نویس اور زبان داں مقامات کے ناموں کا امالہ کرتے ہیں چنانچہ کوئٹہ، پونا، اٹاوہ، سماسٹہ، اوکاڑہ، سرگودھا، چونڈہ، کاہنا کاچھا اور کمالیہ وغیرہ کے بعد اگر سے، پر، تک، کو وغیرہ کے حروفِ عاملہ آ جائیں تو مقامات کے یہ نام کوئٹے، پونے، اٹاوے، سمے سٹے، اوکاڑے، سرگودھے، چونڈے، کاہنے کاچھے، اور کمالیے میں بدل جاتے ہیں تاہم کچھ لوگ اِن ناموں کا امالہ پسند نہیں کرتے اور یوں کہتے ہیں:

’میں کوئٹہ سے آرہا ہوں، ذرا اوکاڑہ تک لے چلو‘۔

یہ اندازِ بیان ہمیں پسند نہ بھی آئے تو ہم اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ امالے کا اصول بہرحال ایک بیرونی تصّور ہے اور اس کا سو فیصد اطلاق ہماری زبان پر نہیں ہوتا۔

رشتہ داروں کے سلسلے میں بھی ہمیں اسی مخمصے سے واسطہ پڑتا ہے۔ اہلِ پنجاب اپنی روزمرہ گفتگو میں چونکہ نانا، دادا، تایا، چچا اور پھوپھا وغیرہ کا بھی امالہ کرتے ہیں چنانچہ اُردو لکھتے اور بولتے ہوئے بھی وہ اِن لفظوں کو امالے کی زد میں لے آتے ہیں، اسی لیے پنجاب کی اُردو میں دادے کی جوتیاں، نانے کی بیماری اور تائے کا لڑکا عام سننے کو ملتا ہے۔

بات پنجاب ہی پہ ختم نہیں ہو جاتی خود یُو۔ پی کے بعض حصّوں میں رشتے داری کے الفاظ جب مرکب شکل میں نمودار ہوتے ہیں تو اُن کے پہلے حصّے کا امالہ ہو جاتاہے جبکہ دوسرا حصّہ جوں کا توں رہتا ہے مثلاً:

دادے ابّا کو بلاؤ، تائے ابو نے عیدی نہیں بھیجی، نانے ابّا کو تنگ مت کرو

اسی بارے میں
اسم کا کیس
15 December, 2005 | قلم اور کالم
قصّہ مُذکر مُوئنث کا
06 December, 2005 | قلم اور کالم
زبان کی نازک باریکیاں
29 November, 2005 | قلم اور کالم
ایک طرح کے لفظ، دو طرح کےمطلب
11 November, 2005 | قلم اور کالم
یہ مسائلِ تلفظ۔۔۔ اور دیگر مسائل
06 November, 2005 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد