Maverick کی کہانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
Maverick کا لفظ جب کسی انسان کے لئے استعمال ہو تو مراد ہے ایک ایسا شخص جو رسم و رواج یا روایتی اصول و ضوابط کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنا راستہ خود بنائے۔ لیکن انسانوں کے ساتھ ساتھ یہ اسمِ صفت دیگر اشیاء اور رویّوں کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے: مثلاً Maverick politician, Maverick decision, Maverick attitude انگریزی میں اس لفظ کے بہت سے متبادل ہیں جن میں سے چند ایک یہاں درج کئے جا رہے ہیں: Irregular, Unorthodox, Rebel, Non-conformist, Radical, Iconoclast لیکن اتنے لفظوں کی موجودگی میں یہ نیا لفظ انگریزی لغت کے خزانے میں در آیا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں یہ کیسے ہوا۔ امریکہ کے نقشے پر نگاہ دوڑائیے تو آپ کو جنوب مغرب میں ٹیکساس کی وسیع و عریض ریاست نظر آئے گی۔ ٹیکساس نے آج سے کوئی ڈیڑھ سو برس پہلے ریاست ہائے متحدہ میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور یہ امریکہ کی اٹھائیسویں ریاست تھی۔ یہ وسیع سبزہ زاروں اور چراگاہوں کا علاقہ تھا اور زمین انتہائی زرخیز تھی۔ انیسویں صدی کے آغاز میں ریاست ورجینیا سے ایک شخص آیا جسے یہ پُرفضا علاقہ اتنا بھایا کہ اس نے کچھ زمین خریدی اور یہیں آباد ہو گیا۔ اس شخص کا نام تھا: Samuel Augustus Maverick کچھ عرصہ کے بعد وہ علاقے کا بہت بڑا زمیندار اور ایک بارسوخ شخصیت بن گیا۔ ایک روز کوئی اجنبی اس سے ملنے کے لئے آیا اور یہ کہہ کر اپنا تعارف کرایا کہ میں نے برسوں پہلے آپ سے کچھ پیسے اُدھار لئے تھے۔ جو میرے سر پر ایک بوجھ بنے ہوئے ہیں آپ براہِ کرم یہ دو گائے اور دو بیل قبول فرمائیے تاکہ میرے سر سے قرضے کا بوجھ اتر جائے: Maverick کو مویشی پالنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ شخص سخت اِصرار کر کے یہ چوپائے اس کے حوالے کر گیا چنانچہ ان چوپائیوں کو چرا گاہ میں آزاد چھوڑ دیا گیا۔ کچھ عرصہ بعد Maverick بھول بھی گیا کہ اس کی زمینوں پر کوئی گائے بیل پرورش پا رہے ہیں جبکہ مویشیوں کی تعداد تیزی سے بڑھتی رہی اور جب وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہو گئے تو علاقے کے دوسرے زمینداروں نے مشورہ دیا کہ میاں ان مویشیوں کی کھال پرگرم لوہے سے کوئی نشان داغ دو تاکہ نشانی رہے۔ Maverick نے کہا چونکہ ہرگائے بیل کی پُشت پر اس کے مالک نے کوئی نشان داغ رکھا ہے اس لئے جو جانور بغیر نشان کے نظر آئے، سمجھو کہ وہ میرا ہے ۔ اور پھر یہی ہوا کہ سبزہ زاروں میں جب کوئی ایسا چوپایہ چرتا ہوا دکھائی دیتا جس کے جسم پر کوئی ٹھپا یا کوئی مہر نہ ہوتی تو لوگ اسے Maverick کا نام دے دیتے۔ آہستہ آہستہ بے نشان گائے یا بچھڑے کی حدود سے نکل کر یہ لفظ ایک عمومی اسمِ صفت بن گیا جو کسی بھی ایسے شخص کے لئے استعمال ہونے لگا جو گھسی پٹی راہ چھوڑ کر طرزِ نوایجاد کرے، یا بقولِ غالب: وبائے عام میں مرنے سے انکار کر دے۔ آجکل یہ لفظ کسی انوکھی ادا یا منفرد رویے کی لئے استعمال ہوتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||