’پوٹا کے تحت مقدمہ سے انکار‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے حکم دیا ہے کہ گودھرا واقعہ کے ملزمان کے خلاف انسداد دہشتگردی قانون پوٹا کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ان سبھی ملزمین پر تعزیرات ہند کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ سنہ 2002 میں گودھرا میں ٹرین کے ایک ڈبے کومبینہ طور پر جلائے جانے کے واقعہ میں 59 ہندو ہلاک ہو گئے تھے۔ پولیس نے اس واقعہ کو ایک سازش بتایا ہے اور اس سلسلے میں سو سے زیادہ مسلمانوں کے خلاف پوٹا کے تحت مقدمہ درج کیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے آج کے حکم کے بعد سبھی ملزمین ضمانت کے لیے درخواست دیں سکیں گے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے جی بالا کرشنن کی سربراہی میں ایک بنچ نے سنایا ہے۔ عدالت نے کہا صوبائی حکومتیں اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی مجاز ہیں۔ مختلف حلقوں کی طرف سے پوٹا کی شدید مخالفت کے سبب اسے اس قانون کو2004 میں ختم کر دیا گیا تھا ۔ پوٹا کے تحت گرفتار کیے گئے افراد کے معملات کے جائزے کے لیے مرکوی حکومت نے ایک جائزہ کمیٹی بنائی تھی ۔ اس کمیٹی نے یہ فیصلہ سنایا تھا کہ گودھرا کے ملزمین پرسے پوٹا ہٹا لیا جانا چاہیے۔ گودھرا کے معاملے میں کم ازکم 86 مسلمان گزشتہ چھ برس سے مقدمہ چلائے بغیر جیل میں ہیں۔ پوٹا ہٹانےکے لیے ان کی درخواست گجرات ہائی کورٹ نے مسترد کر دی تھی۔اس فیصلے کے خلاف ملزموں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی۔ عدالت عظمی نے انہیں ملزموں کی درخواست کی سماعت کے بعد پوٹا ہٹانے کا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت عظمی نے کہا کہ جائزہ کمیٹی کی طرف سے پوٹا کے تحت الزامات ہٹانے کے فیصلے کے بعد ان ملزموں کے خلاف اس قانون کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ۔ اور اب ان پر تعزیرات ہند کی دفعات کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔ پوٹا کے تحت پولیس کے سامنے دیا گیا اقبالیہ بیان ثبوت مانا جاتا تھا۔ یہی نہیں، اس میں گواہوں کی شناخت بھی ظاہر نہ کرنے کا انتظام تھا۔
سپریم کورٹ کے فیصلے سے گودھرا میں ملزمین کے رشتے داروں کو امید کی کرن نطر آنے لگی ہے ۔ ٹرین کا ڈبہ جلائے جانے کےمعاملے میں مبینہ طور پر اصل ملزم مولانہ حسین عمر جی کے بیٹے سعید عمرجی نے کہا ’ہمیں سپریم کورٹ پر پورا بھروسہ ہے ۔ ہمیں امید ہی نہیں پورا یقین کہ میرے بے قصور والد اور تمام دوسرے لوگ اب جلد رہا ہوں گے۔ میں تمام نوجوانوں سے اپیل کرنا چاہونگا کہ وہ کبھی قانون اپنے ہاتھ میں نہ لیں اور ملک کی عدلیہ پر بھروسہ رکھیں۔‘ شعیب عنایت جوجارا کے بھی والد قید میں ہیں۔ان کا کہنا ہے’ ہم بہت خوش ہیں اب ہمیں امید ہے کہ سپریم کورٹ کی بدولت سبھی کی رہائی ممکن ہو سکے گی۔ ہمیں سپریم کورٹ پر پورا بھروسہ ہے۔‘ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کا ملک گیر اثر پڑے گا۔ اس فیصلے کے تحت صوبائی حکومتوں کو ان تمام افراد پر لگائے گئے پوٹا کے الزامات واپس لینے پڑیں گے جن کے بارے میں جائزہ کمیٹی پوٹا ہٹانے کی سفارش کر چکی ہے۔ | اسی بارے میں گجرات دھماکے: تفتیش اور ملزمان31 August, 2008 | انڈیا انڈیا: مذہبی تنظیموں کی جمہوریت10 August, 2008 | انڈیا ’گجرات فسادات کی مزید تفتیش‘25 March, 2008 | انڈیا گجرات: ’گاندھی گیری‘ کا مستقبل؟20 December, 2007 | انڈیا ’ہمیں بھی پوٹا لگا کر جیل میں بند کر دیں‘12 December, 2007 | انڈیا ’مودی کےنام پر2002 یاد آتاہے‘07 December, 2007 | انڈیا گجرات: متاثرین کے لیے معاوضہ23 March, 2007 | انڈیا گجرات: خوف کے مسلسل پانچ سال02 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||