گجرات: ’گاندھی گیری‘ کا مستقبل؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج سے تقریبا بیس روز قبل جب میں گجرات اسمبلی انتخابات پر خبریں کرنے کے لیے روانہ ہوا تو ذہن میں بس ایک ہی بات تھی، دیکھیں تو کیسا ہے گجرات؟ ہمیشہ دوسروں کی زبانی ہی سنا اور پڑھا تھا۔ اب خود دیکھنے پر کیسا لگتا ہے یہ دیکھنا تھا۔ مہاتما گاندھی کے گجرات کے بارے میں جو کچھ سنا اور پڑھا تھا وہ سب تو 2002 میں گودھرا سے شروع ہوئے ہندو مسلم فسادات کے نیچے دب گیا۔ اکثرایسا کیوں ہوتا ہے کہ چیزیں اور حالات ویسے نہیں ہوتے جیسا آپ سوچتے ہیں۔ لیکن گجرات کے سب سے بڑے شہر احمدآباد پہنچتے ہی ایسا لگا کہ یہاں معاملہ کچھ مختلف ہے۔ اس کی وجہ بنے میرے تکنیکی ساتھی شاکر عالم۔ ہوا یوں کہ ہوٹل کے رجسٹر میں نے بلا سوچے سمجھے اویناش دت پلس ون لکھ دیا۔ دن میں کسی نے مجھے شاکر کا نام پکارتے ہوئے سنا ہوگا۔ رات ساڑھے گیارہ بجے گجرات پولیس کے ایک افسر ہوٹل کے کمرے میں آ دھمکے۔ ان کے پیچھے کھڑا تھا سہما ہوا ہوٹل کا منیجر اور ایک ویٹر۔ پولیس افسر نے پہلے تو پولیسیا روب دکھاتے ہوئے شاکر سے پوچھ گچھ شروع کی۔ شاکر ذرا گھبرائے۔ لیکن ذرا دیر میں ہی بات سنبھل گئی۔ وہ جناب بی بی سی کے مرید نکلے اور ریاست کے سیاسی حالات پر بات چیت کر کے چلے گئے۔ لیکن جاتے جاتے انہوں نے کہا: ’ آپ آرام سے رہیں۔ میں تو اپنا فرض پورا کر رہا تھا۔‘ احمدآباد سے باہر نکلے، انتخابی تقریریں سنتے، عمدہ کاٹھیاواڑی کھانا کھاتے ہوئے کسانوں اور لوگوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہم نے گودھرا سے پوربندر تک پورا گجرات گھوم لیا۔ کم از کم ایک بات پھر سے صحیح ثابت ہوئی وہ یہ کہ لوگوں کی سوچ اخبارات کے اداریے سے متاثر نہیں ہوتی۔ گجرات آنے سے پہلے جو دماغی کثرت کی تھی، جو سنجیدہ سوالات سوچے تھے وہ دھرے کہ دھرے رہ گئے۔ بھلے ہی پورا ملک یہ مانتا ہو کہ گجرات میں نریندر مودی کو چھوڑ کر کوئی دوسرا ایشو نہیں ہے لیکن مقامی افراد ملک کے نظریے کی زیادہ فکر نہیں کرتے دکھائی دیے۔ بیشتر افراد کے لیے دال، روٹی، بجلی اور پانی کو زیادہ اہم ایشو قرار دیتے ہیں، کم از کم بڑے شہروں کے لوگ، یعنی وہ تمام لوگ جوگجرات میں بڑی انڈسٹریز کے آنے کے سبب پیدا ہونے والی نوکریوں کے سیلاب سے محروم رہ گئے۔ لیکن شہروں میں لوگوں کے لیے ’نریندر مودی‘ ایک اہم ایشو ہے۔ ایک بات جو پورے گجرات میں، خاص طور سے نوجوانوں میں عام نظر آئی وہ ہے مذہبی تفریق۔ بیشتر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جو ایک چیز نظر آئی تھی وہ ایک دوسرے کے لیے انتہائی غیریقینی۔ کبھی کبھی تو ایسا لگا جیسے دونوں ایک دوسرے کو جھیل رہے ہیں کیوں کہ ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے۔اتنی خوبی سے یہ ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں کہ آپ کو یقین نہیں ہوگا کہ یہ سچ بول رہے ہیں یا پھر مذاق کر رہے ہیں۔
ایک نے سنجیدگی سے پوچھا: ’سارے بڑے مارا ماری کی بات کرتے ہیں کوئی سمجھتا نہیں۔ غلط بات ہے۔ گاندھی جی کے بارے میں پڑھتے ہیں لیکن کوئی فائدہ نہیں۔‘ میں نے پوچھا کیا راستہ ہے، دوسرے نے ہلکے سے کہا: ’گاندھی گیری‘۔ اب اگر مہاتما گاندھی کے نظریے پر گودھرا بھاری پڑ سکتا ہے تو ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کسی دن گاندھی گری گودھرا سے بازی مار لے۔ |
اسی بارے میں ’ہمیں بھی پوٹا لگا کر جیل میں بند کر دیں‘12 December, 2007 | انڈیا گجرات انتخابات، پولنگ مکمل11 December, 2007 | انڈیا فسادات کی کہانی بیان کرتی بیکری09 December, 2007 | انڈیا فسادات کی کہانی بیان کرتی بیکری09 December, 2007 | انڈیا گجرات: مودی کے خلاف محاذ آرائی06 November, 2007 | انڈیا گودھرا کمیشن غیرقانونی: عدالت 13 October, 2006 | انڈیا لاشیں مسلمانوں کی ہیں: رپورٹ25 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||