 | | | بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے |
گجرات کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اسمبلی کی ایک سو بیاسی نشستوں میں سے ستاسی کے لیے پولنگ ہوئی اور پہلے مرحلے میں مجموعی طور پر ساٹھ فیصد سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ انتخابی کمیشن کا کہنا ہے کہ پولنگ پوری طرح پرامن رہی ہے اور ابتدائی معلومات کے مطابق مجموعی طور پر پہلے مرحلے میں ساٹھ سے پینسٹھ فیصد ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ سورت سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہےکہ ابتداء میں پولنگ کی رفتار سست رہی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ رش بڑھتا گیا اور کئی پولنگ سٹیشنوں پر لمبی لمبی قطاریں دیکھی گئیں۔ پہلے مرحلے کے دوران ایک کروڑ اسی لاکھ ووٹروں کے لیے بیس ہزار پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے اور انتخابات کے موقع پر امن و امان قائم کرنے کے لیے ریاستی پولیس کی مدد کے لیے وفاقی حکومت کی طرف سے گجرات میں باون ہزار سپاہی تعینات کیے گئے ہیں۔ ریاست میں شفاف اور منصفانہ انتخاب کے لیے انتخابی کمیشن نے پہلی بار مبصر بھی تعینات کیے تاکہ پولنگ مراکز پر کسی طرح کی کوئی گڑبڑ نہ کی جا سکے۔حساس پولنگ مراکز پر کمیشن نے تقریباً چار ہزار مبصر تعینات کیے تھے۔ اس انتخاب میں اہم مقابلہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما نریندر مودی اور کانگریس کے درمیان ہے۔ یہ انتخاب جنوبی گجرات، سوراشٹر اور کچھ علاقوں میں ہو رہا ہے۔ 2002 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے ان علاقوں سے87 میں سے 39 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے مرحلے کے انتخابات سولہ دسمبر کو ہونگے جبکہ ووٹوں کی گنتی تیئس دسمبر کو ہوگی۔ انتخابات کے ذریعے گجرات کے متنازعہ وزیراعلیٰ نریندر مودی کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ ان کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس کے درمیان سخت مقابلے کی توقع ہے۔ نریندر مودی کی جماعت پر الزام ہے کہ اس نے سال دو ہزار دو میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمانوں کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہیں اٹھائے تھے۔ |