افطار و سحری کی فکر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دریاۓ کوسی کے سیلاب زدگان کے لیے ارریہ شہر میں بنائےگئے ایک ریلیف کیمپ میں لوگو اخبار کے اوراق کو دسترخوان بنا کر روزہ افطار کر رہے ہیں۔ کوسی کے سیلاب سے متاثرہ پانچ اضلاع مدھے پورہ، سپول، سہرسہ، ارریہ اور پورنیہ میں مسلمانوں کی اچھی تعداد ہے۔ایک اندازے کے مطابق پچیس لاکھ سیلاب زدگان میں تقریبا پانچ لاکھ مسلمان شامل ہیں۔ ارریہ کے مذکورہ کیمپ کی طرح ہر جگہ کے روزہ دار کے لیے افطار و سحری کا نظم آسان نہیں۔ سہرسہ کے سور بازار کے کیمپوں میں موجود افراد کے لیے مقامی مدرسوں میں قیام کا نظم کیا گیا ہے لیکن کھانے اور نماز ادا کرنے کے لیے ضروری سامان میسر نہیں۔ ان افراد کے پاس کھانا پکانے کا برتن اور ایندھن موجود نہیں کہ وہ افطار کے مروجہ اشیائے خوردنی تیار کر سکیں۔انہیں کیمپوں میں ملنے والی کھچڑی سے کام چلانا پڑ رہا ہے۔ مدھے پورہ ضلع کے راجپور گاؤں کے محمد اسرائل نے سہرسہ کے ایک کیمپ میں پناہ لے رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’نماز ادا کرنے کے لیے یہاں صاف ستھری جگہ نہیں اور نہ ہی ہمارے پاس جائے نماز ہے۔رمضان کا مہینہ ہے اور ہم صحیح سے سحری اور افطار بھی نہیں کر پا رہے۔‘ بہت سے مسلمان اس قدر پریشانی کی حالت میں بھی روزہ تو رکھ لے رہے لیکن انہیں اس بات کا افسوس ہے کہ وہ اپنی عبادات پوری نہیں کر پا رہے۔ ارریہ کے سماجی کارکن شاہد احمد نے بتایا کہ بے سر وسامانی کی حالت بذات خود ایک امتحان ہے اور اس حالت میں روزہ رکھنا کافی مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہت سے افراد چاہ کر بھی اس فرض کو ادا کرنے سے محروم ہو رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں بہار میں سیلاب کی تباہ کاریاں27 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے درجنوں ہلاک26 August, 2008 | انڈیا بہار میں سیلاب سے لاکھوں متاثر25 August, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||