BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 September, 2008, 08:13 GMT 13:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار کے بعد آسام میں بھی سیلاب
فائل فوٹو
بہار میں اب بھی لاکھوں لوگ سیلاب میں پھنسے ہیں
ہندوستان کی ریاست بہار میں اب بھی لاکھوں لوگ سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں جنہیں نکالنے کے لیے امدادی فوجی دن رات کام پر لگے ہیں۔ سیلاب اب ریاست آسام میں بھی پھیل گیا ہے جہاں حالات سنگین ہیں۔

آسام کے سولہ اضلاع میں سیلاب ہے جہاں تقریباً دس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ منگل کے روز تک اس ریاست میں تقریباً ڈیڑھ ہزار گاؤں سیلاب سے متاثر ہوئے اور پندرہ افراد ہلاک ہوچکے تھے۔

آسام میں سیلاب کا یہ دوسرا دور ہے۔ اس بار کام رپ، لکھیم پور، دھیما جی اور موری گاؤں جیسے اضلاع زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ دریائے برہم پترا میں پانی بڑھنے سے کئی علاقوں میں سڑکوں پر بھی پانی بھر گیا ہے۔

ریاست بہار میں متاثرین کو سیلاب زدہ علاقوں سے نکالنے کے لیے فضائیہ، بحریہ اور ملٹری دن رات کام میں لگے ہیں۔ وزیر اعلی نتیش کمار کا کہنا ہے کہ کئی لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچا دیا گیا ہے لیکن اب بھی بہت بڑی تعداد سیلاب میں پھنسی ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق متاثرین کو خوراک یا صاف پانی پہنچانا سب سے اہم مسئلہ ہے اور امدادای کارروائیاں جنگی پیمانے پر شروع کی گئی ہیں۔ منگل کو فوج کی مزید کمک بہار پہنچی ہے جبکہ نو ہیلی کاپٹر پہلے ہی سے امدادی کاموں میں لگے تھے۔ بحریہ کی جانب سے کشتیوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا گیا تاکہ متاثرین کو جلد از جلد باہر نکالا جا سکے۔

بہت سے لوگ اپنے علاقے چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہوگئے ہیں

اٹھارہ اگست کو دریائے کوسی میں باڑ آنے کی وجہ سے ریاست کے سولہ اضلاع اب بھی سیلاب کی زد میں ہیں۔ ان میں سہرسا، ار ریا، سوپیل اور مدھیہ پورہ اضلاع میں حالات زیادہ خراب ہیں۔

حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق تینتیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں اور اسّی لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن غیر سرکاری طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

سیلاب سے تقریباً بارہ لاکھ لوگ بےگھر ہوئے ہیں اور اب انتظامیہ کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان افراد کو کہاں رکھا جائے اور کس طرح انہیں خوراک، پانی اور ادویات مہیا کی جائیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار منی کانت ٹھاکر کے مطابق دریائے کوسی نیپال کے پشتے سے لے کر کورسیلا میں دریائے گنگا میں گرنے تک سوا سو کلومیٹر کی لمبائی میں بہار میں بہتا ہے۔ تاہم اب سیلاب کی وجہ سے دریا کا پانی کناروں کے دونوں جانب بارہ سے پندرہ کلومیٹر علاقے میں پھیل گیا ہے جس کی وجہ سے نقصان غیر متوقع رہا ہے۔

یاد رہے کہ اٹھارہ اگست کو نیپال کی سرحد کے نزدیک کوسی دریا پر بندھا ہوا بند ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے سیلاب آیا جبکہ حکام کا کہنا ہے کوسی دریا نے اپنا راستہ بدل دیا ہے اور اب وہ اس راستے پر بہہ رہا ہے جہاں دو سو برس پہلے بہا کرتا تھا۔

اسی بارے میں
بہار کو بارش سے نجات نہیں
30 September, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد