بہار کو بارش سے نجات نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں پیر سے شروع ہوئی بارش ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی اور محکمہء موسمیات کا کہنا ہے کہ آ'ئندہ ایک ہفتے تک یہ سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس ہفتے کی بارش سے پٹنہ میں ریاستی اسمبلی کے احاطے کے علاوہ کئی اہم مقامات پر پانی جمع ہوگیا۔ سڑکوں اور محلوں میں اس قدر پانی جمع ہے کہ لوگوں کا گھروں سے نکلنا مشکل ہے۔ سکول کالج بند ہیں اور دفتروں میں بھی حاضری کم ہوگئی ہے۔ شدید بارش کی وجہ سے کاروباری حلقے کو بھی کافی نقصانا اٹھان پڑ رہا ہے۔ نارتھ بہار چیمبر آف کامرس کے صدر موتی لال چھاپڑیا کے مطابق تاجروں کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے کیونکہ خریدار مارکیٹ آ ہی نہیں پا رہے۔ اسی طرح عید میں اچھی کمائی کی امید لیے درزی حضرات بھی دکانوں میں پانی آنے اور گاہکوں کی وجہ سے مایوس ہیں۔ٹیلرنگ کی دکان چلانے والے محمد مشتاق نے بتایا کہ آدھا رمضان گزر چکا ہے مگر کام نہیں ہے۔ مشتاق کہتے ہیں ’بارش اگر ختم بھی جاتی ہے تو بعد میں کام ملنے کے باوجود ہم اسے عید تک پورا نہیں کر پائیں گے وہ کہتے ہیں کہ’ لیڈیز سوٹ سلوانے کے لیے آنے والی خواتین تو بالکل ہی گھروں سے نہیں نکل پا رہیں‘۔ اسی طرح دفتر جانے والے وویک شریواستو نے بتایا کہ’ چاروں طرف کمر تک پانی جمع ہے۔گھر سے برموڈا پہن کر نکلتا ہوں، ساتھ میں ڈیٹال صابن رکھنا پڑتا ہے‘۔ دوسری جانب دفترِ موسمیات کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ٹی این جھا نے بتایا کہ پٹنہ میں معمول کے مطابق ایک جون سے ستمبر کے آخر تک 891 میلی میٹر بارش ہونی چاہۓ جبکہ اس دوران پندرہ سو اکتالیس میلی میٹر بارش ہوئی ہے۔ اسی طرح ریاست کے شمالی شہر مظفرپور میں بقول ڈاکٹرجھا معمول ایک ہزآر میلی میٹر بارش کا ہے لیکن بائس سو میلی میٹر بارش ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر جھا کہتے ہیں کہ جن علاقوں میں بارش ہونی چاہۓ وہاں نہیں ہو رہی جسکی وجہ سے بعض علاقوں میں غیر معمولی بارش ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے لیے عالمی حدت کی وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیاں ذمہ دار ہیں۔ بارش کی وجہ سے ان دونوں شہروں کے علاوہ سمستی پور میں بھی معمول کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔اسی طرح چمپارن، دربھنگہ، مدھوبنی اور سیتامڑھی بھی بارش سےکافی متاثر ہوا ہے۔ مسلسل بارش کے سبب پٹنہ کو مظفرپور سے جوڑنے والی شاہراہ پر پانی بہ رہا ہے۔ اسی طرح دیگر کئی شاہراہوں پر بھی پانی جمع ہے جس سے گاڑیوں کی آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ بارش کا پانی پٹنہ کے علاوہ کئی علاقوں میں ریلوے ٹریک پر بھی جمع ہے۔ اس وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت اب بھی درست نہیں ہو پائی ہے۔ بارش کی وجہ سے شمالی بہار کی ندیوں باگمتی، گنڈک، بوڑھی گنڈک، کملا اور دیگر ندیوں میں طغیانی جاری ہے۔ اسکی وجہ سے سینکڑوں گاؤں اب بھی زیر آب ہیں۔ |
اسی بارے میں بہار:سیلاب، خشک سالی ایک ساتھ29 August, 2005 | انڈیا مون سون سے تباہی، مزید سیلاب18 August, 2007 | انڈیا کئی ریاستوں میں حالات سنگین 19 August, 2007 | انڈیا بہار میں بارشیں، عام زندگی متاثر26 September, 2007 | انڈیا ’سیلاب متاثرین امداد سےمحروم‘27 August, 2007 | انڈیا بہار: سیلاب سے اہم علاقے زیرِ آب28 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||