بہار: سیلاب سے اہم علاقے زیرِ آب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں بارش نے ایک بار پھر سیلاب کی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ دارالحکومت پٹنہ میں گورنر ہاؤس جیسے اہم راستے اور شمالی حصے کے کئی شہروں میں ضلعی مجسٹریٹ کے دفتر میں گھٹنوں تک پانی جمع ہو چکا ہے۔ قانون ساز کونسل میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام غوث کی سرکاری رہائش میں پانی آ گیا تو انہوں نے سوال داغا کہ پٹنہ میں گریٹر پٹنہ بنانے والی حکومت نے ’گٹر پٹنہ‘ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب شہری ترقی کے وزیر اشونی کمار چوبے نے اپنے دفاع میں کہنا ہے کہ آبی جماؤ کا مسئلہ انہیں ’وراثت‘ میں ملا ہے۔ بقول مسٹر چوبے حکومت اس مسئلہ سے نمٹنے کا عزم مصمم رکھتی ہے اور موٹر پمپ سے پانی نکالنے کا کام پورا کر لیا جائے گا۔ بارش کی وجہ سے مظفرپور، سمستی پور، دربھنگہ، مدھوبنی، چمپارن، سیتامڑھی، کھگڑیا، سہسرہ وغیرہ اضلاع میں مقامی حکام نے اتوار تک اسکول کالج کو بند رکھنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ریاست کے شمالی اور مشرقی حصے میں بارش کی وجہ سے ٹرینوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی ہے اور کئی شاہراہوں پر بڑی گاڑیوں کا چلنا بند ہے۔ ٹیلیفون اور بجلی کا نظام اب بھی درہم برہم ہے۔ مرکزی آبی کمیشن کی اطلاع کے مطابق ریاست کے علاوہ نیپال میں ہو رہی بارش کی وجہ سے مختلف ندیوں کی آبی سطح خطرے کے نشان سے اوپر چلی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق پن پن، باگمتی، گنڈک، بوڑھی گنڈک، باگمتی اور کوسی، بھوتہی بلان اور کملا ندیاں مختلف مقامات پر خطرے کے نشان کو پار کر گئی ہیں۔ ریاست کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق بارش اور سیلاب کی وجہ سے سینکڑوں گاؤں زیرآب ہیں اور فصلوں کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ واضح رہے کہ اس سال جولائی اور اگست میں ریاست میں آئے سیلاب میں حکومت کے مطابق آٹھ سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ | اسی بارے میں بہار میں بارشیں، عام زندگی متاثر26 September, 2007 | انڈیا جنوبی ایشیا میں سیلاب کی تباہی11 September, 2007 | انڈیا بہار سیلاب: چارے کا شدید بحران02 September, 2007 | انڈیا ’سیلاب متاثرین امداد سےمحروم‘27 August, 2007 | انڈیا تودہ گرنے سے ہلاکتوں کا خدشہ15 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||