جموں: فائرنگ میں پانچ ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے جموں شہر میں بعض مبینہ دراندازوں کے شہر کے اندر داخل ہونے اور دو مقامات پر فائرنگ کے واقعات میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں فوج کا ایک جوان، ایک مبینہ شدت پسند اور تین شہری شامل ہیں۔ فائرنگ میں متعدد دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں۔ بدھ کی صبح سے سکیورٹی دستوں اور مبینہ دراندازوں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ آخری اطلاعات آنے تک جاری تھا۔ جموں پولیس کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کے راجندر نے بی بی سی کو بتایا ’ شدت پسندوں نے جموں کے مضافاتی علاقے چنّور میں ایک رہائشي مکان ميں داخل ہوکر گھروالوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔‘ پولیس کے مطابق گھر میں ممکنہ طور پر آٹھ افراد موجود تھے جن میں دو مبینہ شدت پسند بھی شامل ہیں۔گھر میں یرغمال بنائے گئے خاندان کے چھ اراکین میں چار بچے ہیں، ان بچوں میں سب سے چھوٹی بچی کی عمر محض دو سال ہے۔ ان کے علاوہ ایک مرد اور ایک خاتون گھر کے اندر ہیں۔ پولیس کا پہلے یہ خیال تھا کہ گھر کے یہ افراد مکان میں پھنسے ہوئے ہیں لیکن اب ان کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے انہيں یرغمال بنا رکھا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فوج نے اس مکان کو گھیر لے لیا ہے اور شدت پسندوں کے ساتھ وقفہ وقفہ پر فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ ایک سرکاری اہلکار کے مطابق ایک شدت پسند جو اس مکان کی چھت پر گیا تھا وہ سکیورٹی دستوں کی گولی کا نشانہ بن گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ سرحدی فوج بی ایس ایف نے منگل کو کہا تھا کہ کم از کم تین شدت پسند سرحد عبور کرکے جموں علاقے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے تھے۔ سرکاری حکام شدت پسندوں کی کارروائیوں سے اس لیے متفکر تھے کیوں کہ امرناتھ سنگھرش سمیتی نے بدھ کو ایک بڑی ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس تصادم کے سبب انہوں نے اپنی ریلی کو مؤخر کر دیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مبینہ شدت پسند ایک آٹو رکشہ ميں سوار ہوکر جموں شہر میں نکلے اور سب سے پہلے مسری والا ناکے پر فائرنگ کی۔ اس میں فوج کے دو جوان بری طرح زخمی ہوئے۔ اس میں سے ایک جوان کی بعد میں موت ہوگئی۔ اس کے بعد ان شدت پسندو ں نے بند تال کے علاقے میں فائرنگ کی جس میں دو شہریوں کی موت واقع ہوگئی۔ بتایا گيا ہے کہ شدت پسندوں کی گولی سے آٹو رکشہ کا ڈرائیور بھی مارا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہےکہ جموں شہر کے باہری علاقے چنّور میں فوج نے شدت پسندوں کو گھیر لیا ہے اور آخری اطلاعات آنے تک وہاں دونوں کے بیچ گولی باری وقفہ وقفہ پر جاری تھی۔ | اسی بارے میں ’تین پاکستانی دارنداز انڈيا میں‘ 26 August, 2008 | انڈیا کشمیر: تین شدت پسند ہلاک08 August, 2006 | انڈیا حملہ آوروں کی مخبری پر انعام03 August, 2006 | انڈیا انڈین کشمیر: دو شدت پسند ہلاک02 August, 2006 | انڈیا کشمیر جھڑپیں، آٹھ شدت پسند ہلاک17 May, 2008 | انڈیا ’نومینز لینڈ‘ پر بنکروں کی تعمیر29 July, 2008 | پاکستان ایل او سی پر وقفے وقفے سے فائرنگ29 July, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||