BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 20 June, 2008, 09:45 GMT 14:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
13 برس میں سب سے زیادہ مہنگائی
فائل فوٹو
حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود مہنگائی پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
ہندوستان میں گزشتہ تیرہ سال کے دوران مہنگائی کی سب سے اونچی سطح ریکارڈ کی گئی ہے۔ جمعہ کو روز حکومت نے ہول سیل میں قیمتوں کے جو جائزے جاری کیے ہیں اس کے مطابق افراط زر کی شرح 11.5 تک پہنچ گئی ہے۔

اس سے قبل تین جون سنہ انیس سو پچانوے کو مہنگائی 9.89 ریکارڈ کی گئی تھی لیکن یہ سطح اس سے بھی زیادہ ہے۔

معاشی صورتِ حال پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ تمام کوششوں کے باوجود ہندوستان میں حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے اور اشیائے صرف کی قیمتیں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔

حکومت نے جو تازہ جائزے جاری کیے ہیں وہ ہول سیل بازار کے ہیں جبکہ پرچون میں مہنگائی اس سے کہیں زیادہ ہے۔ گزشتہ ہفتے افراط زر کی شرح آٹھ اعشاریہ پچھتر فیصد تھی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے ضروری اشیاء کی قیمتیں کم ہونے کے بجائے بڑھیں گي۔ قیمتوں میں افراط کی شرح میں اضافہ بنیادی طور پر کھانے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے سبب ہو رہا ہے۔

حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتیں اور حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کی اس ناکامی پر سخت نکتہ چینی کر رہی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمان روی شنکر پرساد کا کہنا تھا’اگرحکومت بنیادی معاشی نظام نہیں سنبھال سکتی تو اسے اس کی ذمہ داری لےکر استعفی د یدینا چاہیے۔‘

روی شنکر پرساد کا کہنا تھا کہ تیرہ برس قبل بھی منموہن سنگھ ہی ملک کے وزیر خزانہ تھے اور تب بھی ریکارڈ مہنگائی بڑھی تھی۔

ہندوستان ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں قیمتوں میں اضافے کی شرح کا جائزہ ہفتہ وار بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی شرح کا تعین اناج، پھل ، سبزی اور پٹرولیم کی قیمتوں اور سروس کی ہول سیل قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔

حکومت نے ضروری اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کے لیے کئی اقدمات کا اعلان کیا ہے لیکن تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کی وجہ سے مہنگائي کم ہونے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے قیمتوں میں اضافے کی جو شرح بتائی ہے وہ حقیقت میں کہیں زیادہ ہے اور مستقبل قریب میں مہنگائی میں کمی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔

مہنگائی حکومت کے لیے تشویشناک معاملہ تو ہے ہی لیکن یہ معاملہ مزید پریشانی کا سبب اس لیے بھی بن گیا ہے کیونکہ آئندہ مہینوں میں کئی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد