BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 June, 2008, 14:40 GMT 19:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گڈ بائی شہزادی‘ میں ایسا کیا ہے؟

بینظیر بھٹو(فائل فوٹو)
کسی بھی اسلامی ملک میں عوام کی جانب سے منتخب وہ پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں اور ان کی حیثیت بھی مختلف مقام رکھتی ہے
تاریخ شاید ہی شہداء یا مارے گئے رہنماؤں کو وہ مقام دے پاتی ہے جس کے وہ حقدار ہوتے ہيں۔ بینظیر بھٹو بھی یادوں کے جھرو کھوں میں چلی گئی ہيں۔ حالانکہ انہیں قتل ہوئے چھ مہینے سے بھی زیادہ نہیں ہوئے ہیں۔

لندن میں مقیم اور آکسفورڈ میں بینظیر کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے صحافی شیام بھاٹیہ نے بینظیر پر کتاب لکھی ہے جو ’گڈ بائی شہزادی‘ کے نام سے منظر عام پر آئي ہے۔

اس میں شیام نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بینظیر بھٹو کتنی مختلف اور الگ قسم کی خاتون تھیں۔

انہوں نے ان سے متعلق کئی متنازعہ پہلوؤں کا بھی ذکر کیا ہے جن پر ابھی عوامی سطح پر بحث نہيں ہوئي ہے۔

کسی بھی اسلامی ملک میں عوام کی جانب سے منتخب وہ پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں اور ان کی حیثیت بھی مختلف مقام رکھتی ہے۔

آکسفورڈ میں ان سے دو سال سینئر اور آبزرور اخبار کے عالمی امور کے سابق نامہ نگار اور ہندوستان کے معروف صحافی پریم بھاٹیہ کے بیٹے شیام بھاٹیہ نے بینظیر کی زندگی کے نشیب فراز کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔

شیام کہتے ہيں کہ وہ زندہ دل تھیں، ان کے کئي دوست تھے وہ کبھی کبھی وہ اپنی سپورٹس کار سے آکسفورڈ سے لندن چلی جاتی تھیں۔ دوستوں کو لے جاتی تھیں کہ چلوں لندن دیکھیں گے، فلم دیکھیں گے۔

وہ بتاتے ہيں، اگر ٹیلی فون پر نہيں ملتی تھیں تو ہم لوگ ان کی کار پر اپنا میسیج لکھ کر چسپاں کر دیتے تھے کہ ہمارا نمبر یہ ہے، ہمیں بات کرنی ہے، ہمیں فون کیجئے، بہت دلچسپ عورت تھی، وہ دوستوں کی دوست اور دشمن تو ان کا کوئی تھا ہی نہيں۔

شیام لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں بینظیر کو اس حد تک سر آنکھوں پر لیا گيا کہ ایک اخبار نے سرخی لگائي ’ بینظیر از بینظیر‘ یعنی بینظیر کا کوئی ثانی نہیں۔

بینظیر از بینظیر
 شیام لکھتے ہیں کہ ہندوستان میں بینظیر کو اس حد تک سر آنکھوں پر لیا گيا کہ ایک اخبار نے سرخی لگائي ’ بینظیر از بینظیر‘ یعنی بینظیر کا کوئی ثانی نہیں

سب سے سنسنی خیز بات یہ تھی کہ وہ شمالی کوریا کے میزائل پروگرام کے بدلے پاکستانی جوہری پروگرام کی سی ڈی لیکر پیونگ یونگ گئی تھیں۔

شیام بتاتے ہیں بینظیر نے مجھ سے کہا کہ تمہیں میں ایک بات بتانا چاہتی ہوں۔ یہ ایک راز ہے۔ جب تک میں زندہ رہوں اسے کسے کو نہ بتانا۔ میں حیران کہ وہ کیا بتانا چاہتی ہیں۔

بقول شیام بے نظير نے ان سے کہا کہ ان کے والد جوہری پروگرام کے باپ تھے لیکن میزائل پروگرام کی ماں وہ ہیں۔

شیام نے بتایا ’بے نظير نے مجھ سے کہا کہ شمالی کوریا پاکستان کے جوہری پروگرام کی خفیہ جانکاری چاہتا تھا۔ انہوں نے وہاں جانے سے پہلے اپنے خفیہ سربراہ اور سائنسدانوں سے بات کی اور یورنیم افژودگی تکینیک جیسی جانکاری کو ایک سی ڈی میں لے کر اپنی جیب میں چھپا کر سرکاری دورے پر پیونگ یونگ گئیں۔

میں نے خالد حسن سے پوچھا کہ اس بات کو آپ کتنا سچ مانتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ شیام اپنی کتاب کو بیچنے کے لیے یہ سب لکھ رہے ہیں۔

ہند - پاکستان کے امور کے تجزیہ کار اندرملہوترابتاتے ہیں’اس میں کچھ بنیادی سچائی ضرور رہی ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بے نظیر شمالی کوریا گئی تھیں اور اس کے بعد پاکستان کے جوہری سائنسداں آئی کیو خان تقربیاً بارہ بار وہاں گئے۔‘

انکا کہنا ہے ’ بے نظیر جیب میں سی ڈی ڈال کرلے گئی یا نہیں لیکن بنیادی بات یہ تھی کہ شمالی کوریا نے پاکستان کو میزائل دیے اور انہیں یورنیم افژودگی کی جانکاری دی گئی۔‘

شیام بھاٹیا بے نظيرکو یہ کہتے ہوئے بھی بتاتے ہیں پاکستان کے پاس 1977 کے آس پاس جوہری بم آگیا تھا اور انہیں اس بات کا خدشہ تھا کہ انکے والد کو پھانسی پر چڑھانے کے بعد جنرل ضیا جوہری تجربہ کریں گے۔

 اس کتاب میں 1988 میں راجیو گاندھی کے پاکستان کے دورے کا بھی ذکر ہے جس میں بقول بے نظیر کے انہوں نے پنجاب میں شدت پسندی کو حمایت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا

اس کتاب میں 1988 میں راجیو گاندھی کے پاکستان کے دورے کا بھی ذکر ہے جس میں بقول بے نظیر انہوں نے پنجاب میں شدت پسندی کو حمایت نہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

بدلے میں ہندوستان کو سیاچن سے اپنی فوج ہٹانی تھی لیکن راجیو گاندھی نے یہ وعدہ پورا نہیں کر پائے کیونکہ وہ اگلا انتخاب ہار گئے تھے۔

شیام بھاٹیہ مزید لکھتے ہیں ’بے نظیر نے روتے ہوئے بتایا تھا کہ پھانسی دینے کے بعد فوجیوں نے یہ دیکھنے کے لیے کہ ان کے والد ہندو ہیں یا مسلمان انکے کپڑے اتار کر جانچ کی تھی۔ بے نظير نے کہا تھا کہ پاپا کے مرنے کے بعد بھی فوجیوں نے انکی عزت نہیں کی۔‘

جیل میں ذوالفقار علی بھٹو کے انچارج تھے کرنل رفیع اور انہوں نے اردو میں ایک کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی۔

حالانکہ جب میں نے اس بارے میں خالد حسن سے پوچھا تو ان کا کہنا تھا ’پھانسی کے وقت موجود لوگوں سے میں نے اس کے بارے میں بات کی ہے اس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ صحافی اور اخبارات بیکار میں ایسے باتیں کرتے ہیں۔ اس میں کوئي سچائی نہیں ہے۔‘

اگر ان سب متنازعہ واقعات کو چھوڑ دیا جائے تو کتاب میں بھٹو خاندان سے جڑے کئی پہلوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔

شیام بھاٹیہ نے بے نظیر کی سیاسی زندگی کی بہ نسبت انکی نجی زندگی کو بہتر طریقے سے چھوا ہے۔

ہندوستانی میڈیا’جمہوریت کا قتل‘
بینظیر بھٹو کے قتل پر انڈین میڈیا کا ردعمل
بینظیر بھٹونہرو-گاندھی اور بھٹو
دونوں خاندانوں میں کیا مشترک؟
بلاولبےنظیر کا جانشین
’چہرہ بلاول کا تھا مگر جھلک بےنظیر کی‘
بےنظیر بھٹو خود کش حملے میں ہلاکبےنظیر بھٹو
خود کش حملے میں ہلاک
بےنظیر بھٹو: ٹائم لائنبینظیر بھٹو: ٹائم لائن
زندگی و سیاست اور قتل سے تحقیقات تک
بےنظیر ابھی نظر بند ہیںبےنظیر کے مضامین
بیرون ملک قارئین کے لیے مہم
بینظیر’جان کو خطرہ ہے‘
بینظیر، بلٹ پروف گاڑی کیلیے عدالتی حکم
اسی بارے میں
بی بی کی FIR کیلیے درخواست
21 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد