کشمیر: سرکاری ملازمین کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سرکاری ملازمین نے حکومتی’ناانصافیوں‘ کے خلاف دو روزہ ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی ہے۔ کشمیر میں گزشتہ کئی برس سے سرکاری ملازمین مرکزی حکومت کے چھٹے تنخواہ کمیشن کی سفارشات کشمیر پر لاگو کرنے، سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی انشورنس پالیسی کی منسوخی کا فیصلہ بدلنے، پچاس ہزار سے زائد عارضی ملازمین کی مستقلی اور سبکدوشی کے لیے عمر کی حد میں اٹھاون سے ساٹھ سال کرنےجیسے کئی مطالبات پر احتجاجی مہم چلا رہے ہیں۔ ملازمین کی متعدد انجمنوں کے اتحاد جوائنٹ ایمپلائز فیڈریشن کے سربراہ عبدالقیوم وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پانچ مئی کو سِول سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ اس کے لیے رضاکاروں نے کمر کس لی ہے‘۔ دوسری جانب حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کو چوکس کر دیا ہے اور سرینگر کے سِول سیکریٹریٹ کے گردونواح میں امتناعی احکامات صادر کیے گئے ہیں۔ ملازمین نے پانچ مئی کا دن اس لیے چُنا ہے کیونکہ اسی روز سرینگر میں حکومت گرمائی سیشن کے لیے کام کاج شروع کرے گی۔ عبدالقیوم وانی کا کہنا ہے کہ’ستّر ہزار نوکریوں کا اعلان انتخابی نعرہ ہوسکتا ہے، لیکن حکومت موجودہ چار لاکھ ملازمین کے مسائل کو نظرانداز کر رہی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ صرف محکمہ تعلیم میں دس ہزار اسامیاں خالی پڑی ہیں اور ساڑھے چار سو سکول ایسے ہیں جہاں طلبا کے لیے عملہ موجود نہیں۔ عبدالقیوم وانی کہتے ہیں ’جب تک ان مطالبات کو تسلیم کر کے ان پر عمل نہیں کیا جاتا ، ستّر ہزار نوکریوں کا اعلان معصوم لوگوں کو کھلونوں سے بہلانے کے مترادف ہے‘۔یاد رہے کہ چند ماہ قبل کشمیر کی مخلوط حکومت نے عوام کے لیے ستّر ہزار نئی نوکریوں کا اعلان کیا تھا۔ ملازمین کی ہڑتال سے حکومتی کام کاج متاثر ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے کاغذات مکمل کر رہے محمد اکبر وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دربار مُو کی وجہ سے جموں میں دفاتر بند ہونے کے آٹھ دن بعد سرینگر میں دفاتر کھُلتے ہیں۔ میں اپریل میں جموں میں تھا تو وہاں سیکشن افسر نے کہا اب سرینگر میں کام ہوگا، یہاں آیا تو ایک افسر نے کہا سیکریٹریٹ تو ہفتہ بعد کُھلے گا اور اب یہ ہڑتال ہو گئی۔ حکومت تو ملازمین کے مسائل حل نہیں کرتی ہے بلکہ اُلٹا ہزاروں نوکریوں کے اعلانات کیے جاتے ہیں۔ آخر یہ ملازمین کریں گے کیا‘۔ |
اسی بارے میں کشمیر میں حزب المجاہدین کمزور؟ 07 April, 2008 | انڈیا گاندھی رول ماڈل، آزاد کے بیان پر تنقید05 October, 2007 | انڈیا کشمیرمیں ملاقاتوں کا دورجاری 05 January, 2007 | انڈیا لاپتہ کشمیری۔۔۔28 October, 2006 | انڈیا فوجی انخلاء کے مطالبے میں شدّت06 July, 2006 | انڈیا ’زندگی کے پھیکے رنگ‘ 18 June, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||