BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 May, 2008, 09:36 GMT 14:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: سرکاری ملازمین کا احتجاج

فائل فوٹو
ناانصافیوں کے خلاف دو روز کی تالہ بند ہڑتال کا اعلان کیا گيا ہے
ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں سرکاری ملازمین نے حکومتی’ناانصافیوں‘ کے خلاف دو روزہ ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی ہے۔

کشمیر میں گزشتہ کئی برس سے سرکاری ملازمین مرکزی حکومت کے چھٹے تنخواہ کمیشن کی سفارشات کشمیر پر لاگو کرنے، سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی انشورنس پالیسی کی منسوخی کا فیصلہ بدلنے، پچاس ہزار سے زائد عارضی ملازمین کی مستقلی اور سبکدوشی کے لیے عمر کی حد میں اٹھاون سے ساٹھ سال کرنےجیسے کئی مطالبات پر احتجاجی مہم چلا رہے ہیں۔

ملازمین کی متعدد انجمنوں کے اتحاد جوائنٹ ایمپلائز فیڈریشن کے سربراہ عبدالقیوم وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پانچ مئی کو سِول سیکریٹریٹ کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ اس کے لیے رضاکاروں نے کمر کس لی ہے‘۔

دوسری جانب حکومت نے احتجاج سے نمٹنے کے لیے پولیس اور دیگر فورسز کو چوکس کر دیا ہے اور سرینگر کے سِول سیکریٹریٹ کے گردونواح میں امتناعی احکامات صادر کیے گئے ہیں۔

ملازمین نے پانچ مئی کا دن اس لیے چُنا ہے کیونکہ اسی روز سرینگر میں حکومت گرمائی سیشن کے لیے کام کاج شروع کرے گی۔ عبدالقیوم وانی کا کہنا ہے کہ’ستّر ہزار نوکریوں کا اعلان انتخابی نعرہ ہوسکتا ہے، لیکن حکومت موجودہ چار لاکھ ملازمین کے مسائل کو نظرانداز کر رہی ہے‘۔

مطالبات
مرکزی حکومت کے چھٹے تنخواہ کمیشن کی سفارشات کشمیر پر لاگو کرنے، سرکاری ملازمین کے لیے متعارف کرائی گئی انشورنس پالیسی کی منسوخی کا فیصلہ بدلنے، پچاس ہزار سے زائد عارضی ملازمین کی مستقلی، اور سبکدوشی کے لیے عمر کی حد میں اٹھاون سے ساٹھ سال کرنےجیسے کئی مطالبات پر پچھلے کئی سال یہاں کے ملازمین احتجاجی مہم چلارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صرف محکمہ تعلیم میں دس ہزار اسامیاں خالی پڑی ہیں اور ساڑھے چار سو سکول ایسے ہیں جہاں طلبا کے لیے عملہ موجود نہیں۔

عبدالقیوم وانی کہتے ہیں ’جب تک ان مطالبات کو تسلیم کر کے ان پر عمل نہیں کیا جاتا ، ستّر ہزار نوکریوں کا اعلان معصوم لوگوں کو کھلونوں سے بہلانے کے مترادف ہے‘۔یاد رہے کہ چند ماہ قبل کشمیر کی مخلوط حکومت نے عوام کے لیے ستّر ہزار نئی نوکریوں کا اعلان کیا تھا۔

ملازمین کی ہڑتال سے حکومتی کام کاج متاثر ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن کے کاغذات مکمل کر رہے محمد اکبر وانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دربار مُو کی وجہ سے جموں میں دفاتر بند ہونے کے آٹھ دن بعد سرینگر میں دفاتر کھُلتے ہیں۔ میں اپریل میں جموں میں تھا تو وہاں سیکشن افسر نے کہا اب سرینگر میں کام ہوگا، یہاں آیا تو ایک افسر نے کہا سیکریٹریٹ تو ہفتہ بعد کُھلے گا اور اب یہ ہڑتال ہو گئی۔ حکومت تو ملازمین کے مسائل حل نہیں کرتی ہے بلکہ اُلٹا ہزاروں نوکریوں کے اعلانات کیے جاتے ہیں۔ آخر یہ ملازمین کریں گے کیا‘۔

دیکھیے’فرضی تصادم‘
’فر ضی تصادم‘ پر انڈین کشمیر میں احتجاجی مظاہرے
کشمیر میں مظاہرے
کشمیر میں فرضی تصادم، ہلاکتیں، مظاہرے
آخر وہ ہیں کہاں؟
سپریم کورٹ کئی مرتبہ ہدایات دے چکی ہے
اسی بارے میں
لاپتہ کشمیری۔۔۔
28 October, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد