پاکستانی فلم کی انڈیا میں نمائش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی معروف فلم ’خدا کے لیے‘ آئندہ چار اپریل کو ہندوستان کے مختلف شہروں میں ایک ساتھ ریلیز کی جائےگی۔گزشتہ تقریبا چار عشروں میں یہ پہلی پاکستانی فلم ہے جو باقاعدہ طور پر ہندوستان کے سنیماگھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جارہی ہے۔ فلم کے ہدایت کار شعیب منصور نے بی بی سی کو بتایا کہ ممبئی کی’پرسیپٹ پکچرز کمپنی‘ نے ہندوستان میں ان کی فلم کو ریلیز کرنے کے لیے حقوق حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’ادب و ثقافت اور موسیقی کے شعبہ میں دونوں ملکوں کے درمیان تبادلہ ہوتا رہا ہے لیکن فلم کے شعبہ میں یہ تبادلہ بہت ہی خوش آئند ہے۔‘ شعیب منصور نے بتایا کہ فلم کی پروسیسنگ اور کچھ پوسٹ پروڈکشن کا کام ممبئی میں ہوا تھا۔ تبھی سے انہوں نے ہندوستان میں ریلیز کرنے کی کوشیش شروع کی تھی۔ ’چونکہ عام تصور یہ ہے کہ پاکستانی فلمیں زیادہ معیاری نہیں ہوتی ہیں اس لیے مجھ سے کسی نے انکار تو نہیں کیا لیکن کوئی فلم لینے کو تیار بھی نہیں ہوا تھا۔ پھر میں نےگوا فلم فیسٹیول میں اپنی فلم بھیجی جس کے بعد وہ کئی دیگر فسٹیول کی زینت بنی اور پھر پرسیپٹ نے اسے ہندوستان میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا۔‘ پرسیپٹ میں ڈسٹری بیوٹر شعبہ کے انچارج دنیش بدلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ فلم ’خدا کے لیے‘ سے انہیں اچھے نتائج کی امید ہے۔’ دو روز قبل ہی سونی کمپنی نے اس کا میوزک ریلیز کیا ہے اور چار اپریل کو فلم رلیز ہوگی۔‘ دنیش نے بتایا کہ پرسیٹ نے موسیقی کے حقوق سونی کمپنی کو فروخت کر دئیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فلم کے حقوق خریدنے میں کوئی قانونی پیچدگی پیش نہیں آئی ہے اور اس کی ریلیز میں بھی کوئي مشکل نہیں ہے۔ ’سینسر بورڈ سےگزرنے میں تھوڑی مشکلیں آئی تھیں کیونکہ ان کا رویہ اس فلم کے تئیں بہت محتاط تھا، لیکن صرف ایک سین ہٹانے سے کام چل گیا۔‘ دنیش نے بتایا کہ انہیں صحیح علم نہیں کہ وہ کون سا شاٹ تھا لیکن ’اس شاٹ میں شاید ایک مولوی صاحب بتا رہے ہوتے ہیں کہ اسلام کو اگر ایک خاص نقطہ نظر سے پیش کیا جاتا تو مسلمانوں کی آج یہ حالت نہ ہوتی۔‘ بقول ان کے ایک خاص طبقے کے جذبات مجروح ہونے کے خدشے کے پیش نظر سینسر بورڈ نے مذکورہ سین کو فلم سے ہٹا دیا ہے۔ شعیب منصور نے بتایا کہ فلم کا مرکزی موضوع مذہب ہے۔ بقول ان کے اسلام کی ایک تشریح ریڈیکل علماء کرتے ہیں جسے نئی نسل کے لیے سمجھنا، یقین کرنا کافی دشوار ہے۔ ’میں نے اس پر کافی ریسرچ کی ہے اور احادیث، روایات اور عقل و دانش سے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اس میں کیا کچھ اور کتنا کچھ ایسا ہے جو ہرگز، ہرگز حقیقی اسلام نہیں ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ فلم میں ایک پہلو امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد پیدا ہوئی صورت حال کے بارے میں بھی ہے۔ ’اس واقعے کے بعد مسلمانوں، خاص طور پاکستانیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ خوش گوار نہیں ہے۔ اس کے بعد کسی کو بھی دہشت گرد بتانے کے لیے مسلمان کا نام ہی ہونا کافی ہے، تو فلم میں اس پہلو پر بات کی گئی ہے۔‘ شعیب منصور کا کہنا ہے کہ اگر سنہ انیس سو پینسٹھ سے پہلے والی صورت حال بحال ہو جائے جب دونوں ملکوں کے درمیان فلموں کا آزادنہ تبادلہ ہوتا تھا تو اس سے پاکستانی فلم انڈسٹری کو کافی فائدہ پہنچےگا۔ ’فلموں پر پابندی سے ہندوستان کو تو نہیں لیکن پاکستانی فلم انڈسٹری کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ جب دونوں ملکوں میں فلم کا تبادلہ ہوتا تھا تو دونوں کی فلم انڈسٹری تقریباً برابری کی سطح پر تھیں لیکن امید کی جانی چاہیے کہ اس نئی شروعات سے یقیناً بہتری آئیگی۔‘ | اسی بارے میں فلم ’خدا کے لیے‘ عدالت میں01 August, 2007 | پاکستان تاج محل: بھارتی وفد لاہور میں25 April, 2006 | پاکستان بھارتی فلمیں: نمائش بدستور ممنوع15 June, 2005 | پاکستان کراچی فیسٹیول میں بالی ووڈ سٹارز 11 December, 2006 | پاکستان جمیل دہلوی کی نئی فلم کی نمائش17 December, 2006 | پاکستان اسلام مخالف فلم کے خلاف مظاہرے07 March, 2008 | پاکستان ’جو بولے سو نہال‘ پر احتجاج14 May, 2005 | انڈیا گواعالمی فلم فیسٹیول23 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||