BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 January, 2008, 15:12 GMT 20:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم علاقوں میں اٹھاسی کالجز

ارجن سنگھ
وزیر تعلیم ارجن سنگھ کا کہنا ہے کہ اقلیتی برادری کو بہتر تعلیم دینے کے لیے حکومت کوشاں ہے
ہندوستان کی مرکزی حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی حالات بہتر بنانے کے لیے اقلیتی تعلیمی اداروں کے لیے بعض رعایات کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریت والے علاقوں میں سکول اور کالجز کھولنے پر خصوصی توجہ دے جائےگی۔

دارالحکومت دلی میں اقلیتوں کی تعلیمی حالات بہتر بنانے کے لیے’ نیشنل مونیٹرنگ کمیٹی‘ کے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے قائم کرنے کے لیے جو ابتدائی فیس ادا کرنی ہوتی ہے اس پر حکومت اقلیتی اداروں کو بیس فیصد کی رعایت دےگی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ اپنی تمام سلیکشن کمیٹیز میں اقلیتی طبقے کے کم از کم ایک شخص کو شامل کرے۔ وزیر تعلیم ارجن سنگھ نے بتایا: ’فی الوقت ملک بھر میں تین سو ستّر نئے ڈگری کالج کھولنے کا جو منصوبہ ہے اس میں سے اٹھاسی کا قیام مسلم اکثریت والے اضلاع میں کیا جائےگا۔‘

مرکزی حکومت کی مدد سے ملک بھر میں بہت سے پولیٹکنک اداروں کا قیام ہونا ہے اور نئے اعلان کے مطابق ’اس اسکیم کے تحت مسلم اکثریت والے ہر ضلع میں ایک پولیٹکنک قائم کی جائےگی۔‘

 حکومت نے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیے جو سیٹیں مخصوص کی گئی ہیں اس میں اقلیتی طبقہ بھی شامل ہے۔
مرکزی وزیر ارجن سنگھ
حکومت کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گیارہویں منصوبہ میں ایسی پالیسیاں وضع کرے کہ تعلیمی معاملات میں مسلمانوں کو ان کا جائز حق مل سکے۔ انسانی مسائل کے ایک بیان کے مطابق اردو زبان میں سائنس و ٹیکنالوجی جیسے مضامین پڑھانے کے لیے اساتذہ کی تربیت بھی شروع کر دی گئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ارجن سنگھ نے کہا کہ ’حکومت نے مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دینے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے لیکن تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیے جو سیٹیں مخصوص کی گئی ہیں اس میں اقلیتی طبقہ بھی شامل ہے۔‘

ارجن سنگھ کا کہنا تھا کہ مدرسہ بورڈ کے قیام کے لیے مدارس کی مختلف تنظیموں سے بات چیت جاری ہے اور امکان ہے کہ’ بورڈ کے قیام پر فیصلہ بہت جلد ہوجائےگا۔‘ انہوں نے کہا کہ نیشنل مونیٹرنگ کمیٹی نے مدارس میں سیکولر نصاب تعلیم اور درس و تدریس کی تجدید کاری کی سخت ضرورت محسوس کی ہے۔

کانگریس کی قیادت والی مرکزی حکومت نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے کئی اعلانات کیے ہیں لیکن ابھی تک اس سلسلے میں خاطر خواہ عملی اقدامات دیکھنے کو نہیں ملے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد