ٹائٹلر کے کردار کی دوبارہ تفتیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی کی ایک عدالت نے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو حکم دیا ہے کہ سنہ انیس سو چوراسی کے سکھ مخالف فسادات کے دوران کانگریس کے رہنما جگدیش ٹائٹلر کے کردار کی دوبارہ تفتیش کرے۔ عدالت نے سی بی آئی سے تفتیشی رپورٹ پندرہ جنوری تک جمع کرنے کو کہا ہے۔ سنہ چوارسی میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے اپنے سکھ محافظ کے ہاتھوں قتل کے بعد دلی میں سکھ مخالف فسادات بھڑک اٹھے تھے جس میں تقریباً تین ہزار سکھ مارے گئے تھے۔ متاثرین گزشتہ بیس برس سے انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ متاثرین کے وکیل ایچ ایس پھلکہ نے عدالت کے حکم پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سی بی آئی کا رویہ ملزموں کو بچانے والا رہا ہے۔’ پہلے دلی پولیس ملزموں کو بچانے کی کوشش کرتی رہی تھی اور سی بی آئی کا رویہ بھی ویسا ہی ہے جو مجرموں کے ساتھ وی آئی پی جیسا سلوک کرتی رہی ہے۔‘ عدالت نے کہا ہے کہ چونکہ اس مقدمے کے اہم گواہ جسبیر سنگھ سے سی بی آئی کا رابطہ ہوگيا ہے اس لیے کانگریس کے رہنما جگدیش ٹائٹلر کے رول کے بارے میں دوبارہ تفتیش ہونی چاہیے۔
اس سے قبل سی بی آئی نے عدالت کو بتایا تھا کہ جسبیر سنگھ سے اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوپایا ہے اور اس معاملے میں مسٹر ٹائٹلر کے خلاف اسے کوئی ثبوت بھی نہیں ملا ہے۔ لیکن مسٹر پھلکہ نے عدالت کو جسبیر کا پتہ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ گواہی دینے کے لیے تیار ہیں۔ جسبیر کے وکیل نوکرن سنگھ کا کہنا ہے ’جسبیر کو بھارت آکر اپنا بیان درج کرانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن یہاں ان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے دوسرے ذرائع دیکھے جاسکتے ہیں۔‘ یہ معاملہ گوردوارہ پل بنگش کا ہے جس میں آگ لگا دی گئی تھی اوراس میں جل کر تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جسبیر سنگھ کا کہنا ہے کہ انہوں نے جگدیش ٹائٹلر کو بھیڑ کو اکساتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ ابھی امریکہ میں رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے یا بھارت کے سفارتخانے میں عدالتی کارروائی میں حصہ لینے کو تیار ہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق جج جی ٹی ناناوتی نے سکھ مخالف فسادات کی تحقیق کی تھی۔ناناوتی کمیشن سنہ 2000 میں بی جے پی نے تشکیل دیا تھا اور یہ ان فسادات کی انکوائری کے لیے بنایا جانے والا نواں کمیشن تھا۔ اس کمیشن کی رپورٹ میں اس وقت کے مقامی کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں کو ان فسادات کو ہوا دینے کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کمیشن نے جگدیش ٹائٹلر کے خلاف فسادات بھڑکانے میں ملوث ہونے کی قابلِ اعتبار شہادت ملنے کا انکشاف کیا تھا اور ان کے اس کردار کی مزید تفتیش کا مطالبہ کیا تھا۔ 1984 کے سکھ کش فسادت میں اس سے پہلے بھی کئی افراد کو سزا سنائی جا چکی ہے اور ابھی بھی کئی مقدمات عدالت میں زیر غور ہیں۔ 1984 میں وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد بھڑکنے والے سکھ کش فسادات ميں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔ | اسی بارے میں سکھ لواحقین کے لیے معاوضہ12 November, 2004 | انڈیا ’مذہبی فسادات سیاستدانوں کا کام‘08 August, 2005 | انڈیا ناناوتی رپورٹ پر ہنگامہ09 August, 2005 | انڈیا سکھ قتل عام: بھارتی وزیر مستعفی 10 August, 2005 | انڈیا سکھوں سے منموہن سنگھ کی معافی11 August, 2005 | انڈیا سکھ قتلِ عام، لواحقین کی امداد29 December, 2005 | انڈیا چندی گڑھ میں سکھ رہنما گرفتار08 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||