ثانیہ مرزا نے معافی مانگ لی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی مشہور ٹینس کھلاڑی ثانیہ مرزا نےحیدرآباد کی مکہ مسجد میں شوٹنگ کے لیے معافی مانگ لی ہے۔ دو روز قبل حیدرآباد کی مکہ مسجد میں ایک اشتہار کی شوٹنگ پر اس وقت تنازعہ کھڑا ہو گیا جب ثانیہ مرزا اور شوٹنگ کے عملے پر الزام عائد کیا گیا کہ مسجد میں بغیر اجازت شوٹنگ کی گئی۔اس کے بعد ثانیہ مرزا اور اشتہار بنانے والی کمپنی کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ثانیہ مرزا کی جانب سے جاری کیے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے انہیں اشتہار بنانے والی کمپنی کی جانب سے اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انتظامیہ سے مسجد میں داخل ہونے کی اجازت لے لی گئی ہے۔ بیان کے مطابق انہیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ بغیر اجازت مسجد کے احاطے میں داخل ہونا بھی ایسا سنجیدہ معاملہ ہو جائے گا۔ مسجدکے امام کے نام اس خط میں کہا گیا ہے’ میں تہہ دل سے اپنی تمام بہنوں اور بھائیوں سے معذرت چاہتی ہوں جن کے جذبات کو اس وقت ٹھیس پہنچی جب میں چار مینار کو مزید مقبول بنانے کے ارادے سے جاری شوٹنگ کے دوران چار مینار سے لگی ہوئی مکہ مسجد کے احاطے میں داخل ہو گئی‘۔ اس سے قبل حیدرآباد کے حسینی عالم پولیس سٹیشن نے ڈسٹرکٹ ویلفیئر اہلکار شیخ کریم اللہ کی درخواست پر ثانیہ مرزا اور اشتہار بنانے والی ایجنسی کے خلاف بغیر اجازت مسجد میں شوٹنگ کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مسجد میں بغیر اجازت شوٹنگ کرنے پر بعض حلقوں کی جانب سے احتجاج کے سبب حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ حکومت مسجد کے ڈپٹی امام محمد عثمان کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے۔ محمد عثمان نے مبینہ طور پر بغیر اجازت مسجد میں شوٹنگ کرنے دی حالانکہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیارکرسکتا ہے کیونکہ مقامی سیاسی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کے کارکن اس واقعے سے خاصے ناراض ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ حیدرآباد کے بعض مسلمانوں نے ثانیہ سے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔ ثانیہ اور انکے والدین کا موقف جاننے کی کوشش کے باوجود ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ ایجنسی کی ٹیم ثانیہ مرزا اور ان کی والدہ کے ہمراہ پیر کو الصبح شوٹنگ کے لیے مسجد پہنچی اور انہوں نے مسجد کی انتظامیہ اور ديگر لوگوں کے احتجاج کے باوجود پولیس کی نگرانی میں چار گھنٹے تک مسجد میں شوٹنگ کی۔ اشتہار شوٹ کرانے والی کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اعلی اہلکاروں سے اجازت لے لی گئی ہے۔ مسجد میں شوٹنگ کے دوران جب لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور انکا اجتجاج تیز ہوگیا تو پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ مکہ مسجد کے مینجر محمد عبدالمنان، سپرنٹنڈنٹ خواجہ نعیم الدین اور سکیورٹی گارڈز کا کہنا تھا کہ انہوں نے شوٹنگ روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کو دھکے دیکر الگ کر دیا گیا تھا۔ یہ دوسرا واقعہ ہے جب مکہ مسجد کے اندر اشتہار کی شوٹنگ پر تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایک نجی موبائل فون کمپنی کے مکہ مسجد کو اشتہار کا حصہ بنانے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا اور شدید احتجاج کے بعد کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا تھا۔ |
اسی بارے میں ثانیہ مرزا کے خلاف مقدمہ درج13 December, 2007 | انڈیا مسجد میں شوٹنگ پر تنازعہ11 December, 2007 | انڈیا ٹینس کیلیے ثانیہ اور شاہ رخ کا ساتھ12 September, 2007 | انڈیا آندھرا میں آئی آئی ٹی اور ثانیہ مرزا کا ’بگ نو‘23 December, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا ثانیہ کا تندولکر کو خراجِ تحسین30 June, 2007 | کھیل ثانیہ مداحوں کے دباؤ میں21 June, 2005 | کھیل ثانیہ مرزا نے تاریخ رقم کر دی19 January, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||