ثانیہ مرزا کے خلاف مقدمہ درج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد کی مکہ مسجد میں ہندوستانی ٹینس سٹار ثانیہ مرزا کے خلاف ایک اشتہار کی شوٹنگ پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ثانیہ کے علاوہ اشتہار بنانے والی کمپني کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ثانیہ اور اشتہاری کمپنی کے خلاف مقدمہ آئی پی سی کی دفعہ 448 کے تحت کیا گیا ہے۔ حیدرآباد کے حسینی عالم پولیس اسٹیشن نے ڈسٹرکٹ ویلفئر اہلکار شیخ کریم اللہ کی درخواست پر ثانیہ مرزا اور اشتہار بنانے والی ایجنسی کے خلاف بغیر اجازت مسجد میں شوٹنگ کرنے کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسجد میں بغیر اجازت شوٹنگ کرنے پر عوام کے احتجاج کے سبب حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ حکومت مسجد کے ڈپٹی امام محمد عثمان کے خلاف کاروائی کرسکتی ہے۔ محمد عثمان نے مبینہ طور پر بغیر اجازت مسجد میں شوٹنگ کرنے دی حالانکہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیارکرسکتا ہے کیونکہ مقامی سیاسی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کے کارکن اس واقعے سے خاصے ناراض ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ اس معاملے کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔ حیدرآباد کے بعض مسلمانوں نے ثانیہ سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ حالانکہ ثانیہ اور انکے والدین کا موقف جاننے کی کوشش کے باوجود ان سے رابطہ نہیں ہوسکا۔ ثانیہ مرزا کے چار مینار سے متصل مکہ مسجد کے اندر بغیر اجازت شوٹنگ کرنے پر حیدرآباد میں مسلمانوں کا ایک طبقہ اور مسجد کی دیکھ بھال کرنےوالا اقلیتی ویلفئر ڈپمارمنٹ ناراض ہیں۔ ایجنسی کی ٹیم ثانیہ مرزا اور ان کی والدہ کے ہمراہ پیر کو الصبح شوٹنگ کے لیے مسجد پہنچی اور انہوں نے مسجد کی انتظامیہ اور ديگر لوگوں کے احتجاج کے باوجود پولیس کی نگرانی میں چار گھنٹے تک مسجد میں شوٹنگ کی۔ اشتہار شوٹ کرانے والی کمپنی کا دعویٰ تھا کہ اعلی اہلکاروں سے اجازت لے لی گئی ہے۔ مسجد میں شوٹنگ کے دوران جب لوگوں کی بھیڑ جمع ہوگئی اور انکا اجتجاج تیز ہوگیا تو پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا۔ مکہ مسجد کے مینجر محمد عبدالمنان، سپرنٹنڈنٹ خواجہ نعیم الدین اور سکیورٹی گارڈز کا کہنا تھا کہ انہوں نے شوٹنگ روکنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کو دھکے دیکر الگ کردیا تھا۔ یہ دوسرا واقعہ ہے جب مکہ مسجد کے اندر اشتہار کی شوٹنگ پر تنازعہ پیدا ہوا ہے۔ اس سے پہلے ایک نجی موبائل فون کمپنی کے مکہ مسجد کو اشتہار کا حصہ بنانے پر تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا اور شدید احتجاج کے بعد کمپنی نے اشتہار واپس لے لیا تھا۔ |
اسی بارے میں ڈاکٹروں کی ہڑتال، سات بچوں کی موت03 December, 2007 | انڈیا ’توہین آمیز‘ بیان کے خلاف احتجاج13 July, 2007 | انڈیا ٹینس کیلیے ثانیہ اور شاہ رخ کا ساتھ12 September, 2007 | انڈیا آندھرا میں آئی آئی ٹی اور ثانیہ مرزا کا ’بگ نو‘23 December, 2006 | انڈیا ہوائی اڈوں کی نج کاری کا مسئلہ05 February, 2006 | انڈیا ثانیہ کا تندولکر کو خراجِ تحسین30 June, 2007 | کھیل ثانیہ مداحوں کے دباؤ میں21 June, 2005 | کھیل ثانیہ مرزا نے تاریخ رقم کر دی19 January, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||