’توہین آمیز‘ بیان کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے جنوبی شہر حیدرآباد میں گرلز کالج کی ایک خاتوں لیکچرر کے اسلام اور مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن کے متعلق بعض متنازعہ بیانات سے حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔ کالج کیمپس میں سینکڑوں طالبات نے لیکچرر کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے جس میں انہوں نے مذکورہ لیکچرر کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ مہدی پٹنم علاقے میں سینٹ این کالج میں بی اے کی طالبات کا الزام ہے کہ محترمہ پرشانتی نے اپنے لیکچر کے دوران ایک خاص مذہب پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس مذہب کی مقدس کتاب وحی کے بجائے ایک شیطانی تخلیق ہے۔ اس پر ناراض طالبات کلاس سے باہر آگئیں اور تھوڑی ہی دیر میں دیگر کلاس کی طالبات بھی باہر آئیں اور مظاہرے شروع ہوگئے۔ واقعہ کا پتہ چلتے ہی علاقہ کے ایک رکن اسمبلی مقتدیٰ خان بھی وہاں پہنچ گئے اور جب انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ معاملہ حساس ہے تو وہاں بڑی تعداد میں پولیس کو تعینات کردیا گیا ہے۔ مقتدیٰ خان کا کہنا تھا کہ مذہب حساس معاملہ اور محترمہ پرشانتی کو چاہیے کہ وہ اپنے مبینہ بیان پر معافی مانگیں۔ پرشانتی نے اپنے بیان پر معذرت کی پیش کش کی لیکن طلباء اپنے اس مطالبے پر بضد رہے کہ انہیں گرفتار کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ بعد میں سینیئر پولیس افسر پرشانتی کو آصف نگر تھانے لے گئے جہاں ان سے پوچھ گچھ کی گئی لیکن ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گيا۔ اس معاملے پر حیدرآباد کے آرچ بشپ مرام پودی جوجی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ طالبات کو لیکچرر کی بعض باتوں سے غلط فہمی ہوئی ہے اور انہوں نے کسی مذہب کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمپس میں طلبہ کو امن و امن قائم رکھنا چاہیے کیونکہ کالج علم کے مندر ہیں۔ | اسی بارے میں ’راہل بیان مذہبی جذبات کی توہین‘20 March, 2007 | انڈیا مسلمان:ریزرویشن کےمطالبےمیں شدت01 July, 2007 | انڈیا ’مسلمانوں کو اردو نہیں، ترقی چاہیے‘22 April, 2007 | انڈیا مغربی بنگال کے مدارس میں ہندو طلبہ18 June, 2007 | انڈیا دلی: جامعہ ملیہ بند، طلباء پریشان 20 July, 2006 | انڈیا مدارس: پاکستان مدد کاطلبگار28 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||