BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 November, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحدی زمینوں کی فروخت کی تفتیش

ہند پاک سرحد
زمین فروخت کرنے والوں نے ہندو پاک سرحد پر حساس سمجھے جانےوالے زمینوں کی فروخت کی ہے۔
راجستھان میں ہندو پاک سرحد پر دوسری ریاستوں کے لوگوں کے ذریعہ زمینوں کی خریداری پر حکومت نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے پورے معاملے کی تفتیش کا حکم دیا ہے۔

حکومت نے بارمیڑ ضلعی انتظامیہ سے کہا ہے کہ دوسری ریاستوں سے آ کر زمین خریدنے والے لوگوں کی تفتیش کی جائے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہےکہ ریاست کے سرحدی ضلع بارمیرڑ میں گزشتہ چند مہینوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ بیگھہ زمینیں فروخت کی گئی ہيں اور خریداروں نے ’ زیرو لائن ‘ کی زمینوں کو بھی خرید لیا ہے۔

ریاست کے داخلہ سیکریٹری وی ایس سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ بارمیڑ ضلعی انتظامیہ کو قانون کے تحت کاروائی کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ ’ سرحدی علاقوں میں جہاں دوسری ریاستوں کے لوگوں کو بغیر اجازت آنا جانا منعع ہے وہاں زمینوں کی خریدو فروخت کیسے ممکن ہوسکی‘۔

خبروں کے مطابق گدرا تحصیل میں باہر سے آئے خریداروں نے تقریبا پچاسی ہزار بیگھہ زمینیں خریدی ہیں۔

مقامی تنظیموں اور لوگوں نے ان خریداری کے خلاف آواز اٹھائي ہے۔ بارمیڑ میں مقامی رہنے والے گنپت سنگھ کہتے ہیں کہ’ باہر سے آ کر زمین خریدنے والوں کو کوئی نہيں جانتا اور یہ لوگ ہریانہ اور پنجاب جیسی ریاستوں کے باشندے بتائے جاتے ہيں۔‘

اطلاعات کے مطابق خریداروں نے سیکورٹی ایجنسیوں کو بھی نہيں بخشا ہے اور سرحد پر پلاٹ نمبر گیارہ سو اکتالیس کی اس زمین کو بھی خرید لیا ہے، جہاں سیکورٹی ایجنسیوں کا کانفرنس ہال واقع ہے۔

زمین فروخت کرنے والوں کا گروہ ان خریداروں کی مدد کررہا ہے اور یہ گروہ اتنی جلدی میں تھا کہ اس نے تین دہائی قبل پاکستان چلے گیے حسین نامی ایک شخص کی زمین کو بھی فروخت کردیا ہے۔

حسین کے بھائی نے عدالت میں مقدمہ داخل کر کے کہا کہ زمین فروخت کرتے وقت اسے دھوکے میں رکھ کر حسین کے طور پر پیش کیا گيا۔

بارمیڑ ضلع کے کلکٹر سبیر کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ انہيں اس زمینی سودوں کی تفتیش کر کے قانونی کاروائی کرنے کا حکم ملا ہے۔

انیس سو اکسٹھ کے نقل مکانی قانون کے تحت کوئی بھی شخص سرحدی علاقوں میں داخل نہيں ہوسکتا ہے جبکہ زمین خریدنے اور اس پر قبضہ کرنے کے لیے اس کی موجودگي ضروری ہوتی ہے۔ اس لیے ان زمینوں کی خروید و فروخت میں بظاہراس قانون کی خلاف ورزی ہوئي ہے۔

مجسمہسابق جنرل کا مجسمہ
مجسمہ ہند پاک سرحد پر نصب ہوگا
راجستھان کے’گاف‘
’عورت کوگائے جتنی آزادی کا انتظار ہے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد