جب ’یو فون‘ بنا ’سپائس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واہگے کے راستے انڈیا میں داخل ہوتے ہوئے یہ اندازہ نہیں تھا کہ واپس لندن آ کر بی بی سی کے انڈیا ویک کے سلسلے میں ’انڈیا رائزنگ‘ پر کچھ لکھنا پڑے گا۔ شاید ’انڈیا رائزنگ‘ پر اتنا ہی لکھنا کافی ہے کہ میں جب ابھی واہگہ میں پاکستان کی سرحد کے اندر شام کے چار بجے جھنڈے اتارنے کی تقریب دیکھ رہا تھا تو اس وقت میرے موبائل پر اچانک پاکستان کے ’یو فون‘ کا کنکشن بدل کر انڈیا کے نیٹ ورک ’سپائس کا کنکشن آ گیا۔ فوراً اِدھر اُدھر دیکھا کہ کہیں کوئی ’گرل‘ تو نہیں ہے۔ حیرت اس لیے بھی ہوئی کہ ابھی تو سرحد پار بھی نہیں کی یہ فون انڈیا کا کیسے ہو گیا۔ تھوڑا سا ڈر بھی لگا کہ کہیں بھارتی ایجنٹ نہ گردانا جاؤں۔
اس کی تصدیق کرنے کے لیے کہ یہ صرف میرے ساتھ ہی تو نہیں ہوا میں نے اپنے ساتھی نیل سے بھی کہا کہ ذرا اپنے فون کا کنکشن تو دیکھو۔ فون دیکھنے کے بعد اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔ ایک میسیج اسے امرتسر میں خوش آمدید کہہ رہا تھا اور بتا رہا تھا کہ برطانوی سفارتخانے سے رابطہ کرنے کا نمبر کیا ہے۔ ایک بڑی بڑی مونچھوں والے فوجی نے زمین پر زور سے پاؤں مارا اور کسی ایسی زبان میں ایک آدھ منٹ تک ایسا نعرہ لگایا جو میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ یاد رکھنے کے لیے میں نے اس کا نام ’یو فون‘ رکھ دیا۔ اس کے جواب میں سرحد کے پار سے مونچھوں والے سے ذرا دبلے ’سپائس‘ کو یہ زبان سمجھ میں آ گئی اور اس نے بھی اسی انداز میں اور اسی جوش میں تقریباً وہی کچھ کہا جو ’یو فون‘ نے کہا تھا۔ ان کے درمیان تقریباً چالیس منٹ تک لائن ملی رہی اور وہ ایک دوسرے سے غم غلط کرتے رہے۔ سرحد کے دونوں طرف تماشائی تماشہ دیکھتے رہے اور اپنے نغموں اور ترانوں پر نعرے لگانے کے ساتھ ساتھ سرحد پار بھائیوں کو ہاتھ بھی ہلاتے رہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ انڈیا نے تماشائیوں کے بیٹھنے کے لیے ذرا اچھا سٹیڈیم بنایا تھا اور شاید پہلے بھی۔ پاکستانی سٹیڈیم ابھی تعمیر ہو رہا تھا۔ واہگے کے دروازے سے انڈیا اتنا ہی ’رائز‘ کرتا نظر آیا۔ |
اسی بارے میں واہگہ پر ’اداؤں‘ میں کمی09 November, 2006 | پاکستان سردار جی کا ویزے کے بغیر سفر21 June, 2006 | پاکستان رہا کیے گئے ماہی گیر بھارت واپس30 May, 2006 | پاکستان امرتسر سے بس لاہور پہنچ گئی24 January, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||