BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 November, 2007, 13:35 GMT 18:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرحد پر سابق جنرل کا مجسمہ

مجسمہ
جنرل اٹاری کا مجسمہ تیار کرنے میں تقریبا ایک برس لگا ہے
ہندوستان کی ریاست راجستھان کے جے پور شہر میں ان دنوں ایک ایسا مجسمہ تیار کیا جا رہا ہے جسے دو مہینے بعد ہند پاک سرحد پر واقع اٹاری میں نصب کیا جائے گا۔

یہ مجسمہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے سپہہ سالار اعلی جنرل شیام سنگھ کا ہے۔ فی الوقت کاریگر جنرل شیام سنگھ کا 21 فٹ اونچا مجسمہ مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔

جنرل شیام سنگھ ایک ایسے جنرل تھے جنہوں نے پنجاب کی طرف سے ملتان، کشمیراور سرحدی صوبوں میں کئی فوجی کارروائیوں کی قیادت کی تھی۔ لیکن آج جنرل شیام سنگھ اٹاری کی تاریخ کی صرف ایک یاد بن کر رہ گئے ہیں۔ عام طور پر انہيں جنرل اٹاری کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ان کے لواحقین میں سے ایک کیپٹن ہریندر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جنرل اٹاری کا مجسمہ نصب کرانے کے لیے انہیں کافی جدوجہد کرنی پڑی ہے۔‘

جنرل برطانوی حکومت سے جم کر لڑے تھے اور ایسی ہی ایک جنگ میں 1846 میں انہوں نے دریائے ستلج کے کنارے برطانوی فوج سے لڑتے ہوئے آخری سانس لی۔ گھوڑے پر سوار ان کے مجسمے کو تیار کرنے میں پندرہ سنگ تراشوں نے تقریبا ایک برس محنت کی ہے۔

اس مجسمے کو اٹاری سرحد کے قریب جی ٹی روڈ پر نصب کیا جائے گا۔ اس مجسمے کی تیاری میں مصروف لکشمن ویاس کا کہنا ہے: ’میرے لیے یہ فخر کی بات ہے کیوں یہ اب تک کا سب سے اونچا مجسمہ ہوگا۔ ساتھ ہی یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ اس مجسمے کو دونوں ملکوں کے لوگ دیکھ سکھیں گے۔‘

 ہم نے اس میں اس عظیم سپاہی کے لباس ، چہرے، زیورات اور گھوڑے کو بہت غورو خوض کے بعد بنایا ہے۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ اس مجسمے کو دونوں ملکوں کے لوگ دیکھ سکھیں گے
فنکار مہاویر بھارتی
ایک دیگر فنکار مہاویر بھارتی کہتے ہیں کہ’ ہم نے اس میں اس عظیم سپاہی کے لباس ، چہرے، زیورات اور گھوڑے کو بہت غور و خوض کے بعد بنایا ہے۔

مجسمے کا وزن تقریبا تین ٹن ہے۔ جنرل اٹاری کے وارث ہریندر سنگھ نے مزید بتایا کہ اٹاری کے اس قلعہ کی حالت بےحد خراب ہوچکی ہے جہاں ہمارے آباء و اجداد مقیم تھے۔ اس کے علاوہ وہ رہائش گاہ بھی اب باقی نہيں ہے جہاں جنرل اٹاری رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ’وہ ایک پانچ منزلہ عمارت تھی جہاں سے لاہور کے کارخانے دکھائی دیتے تھے۔ ہماری خواہش ہے کہ وہاں ایسی ہی عمارت بنے جس سے وہی پرانا منظر دکھائی دے سکے۔‘

اٹاری میں ہی جنرل اٹاری کی پیدائش ہوئی تھی۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ جنرل اٹاری کے آباء و اجداد راجستھان کے جیسلمیر سے کبھی پنجاب جا بسے تھے۔

اٹاری میں ہر برس دس فروری کو یوم شہادت منایا جاتا ہے اور امید یہی ہے کہ اگلے برس جب یہ پروگرام منعقد کیا جائے گا تو یہ مجسمہ وہاں نصب کیا جا چکا ہوگا۔

اسی بارے میں
صدام کے مجسمے تباہ
29.03.2003 | صفحۂ اول
افغان ورثے کی تلاش
29.05.2002 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد