نندی گرام میں کشیدگی: 4 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے نندی گرام علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ ہفتے کی رات ہونے والے تشدد کی تازہ کارروائی میں چار افراد کی ہلاکتوں اور بیس سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے سبب کشیدگي میں مزید شدت آگئی ہے۔ حالات کو قابو میں رکھنےکے لیے وزارت داخلہ نے سنٹرل ریزرو پولیس فورس کی ایک بٹالین نندی گرام کے لیے روانہ کردی ہے۔ ریاست میں حزب اختلاف کی جماعت ترنمول کانگریس کی حمایت یافتہ بھومی اچھید پرتیرودھ سمیتی کے کارکنوں پر مبینہ طور پر حکمراں جماعت مارکسی کمیونسٹ پارٹی آف انڈيا(سی پی ایم ) کے مسلح کارکنوں کے حملے میں چار افراد کو جان گنوانی پڑی ہے۔ نندی گرام سے ملنےو الی اطلاعات کے مطابق مسلح سی پی ایم کے حامیوں نے نندی گرام کی جانب جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور ذرائع ابلاغ کے افراد کو بھی وہاں جانے نہیں دیا جارہا ہے۔ اس درمیان ریاست میں حکمراں بایاں محاذ کی اہم جماعت سی پی ایم کے پولٹ بیورو کی کی ایک اہم مٹینگ اتوار کو دلی میں ہورہی ہے۔خیال کیا جارہا ہےکہ اجلاس میں نندی گرام ایک اہم مسئلہ ہوسکتاہے۔ دوسری جانب کانگریس سمیت حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں نے نندی گرام میں جاری تشدد کے خلاف پیر کو چوبیس گھنٹے کے ریاست گیر بند کا اعلان کیا ہے۔ ادھر اسی مسئلے پر ریاست کےگورنر نے بھی حکومت پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔
ریاست میں حکمراں بائیں محاذ کے اتحاد کے کنوینر بمان بوس نے گورنر کے ایک بیان پر افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ گورنر نے اپنے آئینی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ جمعہ کی رات کو مغربی بنگال کےگورنر گوپال گاندھی کی طرف سے جاری ایک بیان میں نندی گرام کے حالات پرگہری تشویش ظاہر کی گئي تھی۔ بیان کے مطابق ’ نندی گرام میں بڑی تعداد میں مسلح افراد موجود ہیں، ہزاروں گاؤں والے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور نندی گرام ایک جنگ کے میدان میں تبدیل ہو چکا ہے۔‘ بمان بوس کا کہنا تھا کہ گورنر کا یہ بیان صاف طور پر جانبداری کا ثبوت پیش کرتا ہے۔’گورنر کے لیے مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں کی موت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ وہ تبھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں جب کسی اور کی ہلاکت ہو‘۔ نندی گرام میں حالیہ تشدد کے واقعات میں کم از کم نو افرادہلاک اور تقریباً تیس زخمی ہوئے ہیں۔ تقریبا پانچ ہزار افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔ نندی گرام میں گزشتہ ہفتے سے کثیر ملکی کمپنی کو زمین الاٹمنٹ کرنے کے خلاف سرگرم بھومی اچھید پرتیرودھ سمیتی اور حکمراں سی پی ایم کے کارکنوں میں پرتشدد جھڑپیں ہورہی ہیں جس سے نندی گرام میں حالات کشیدہ ہوگئے ہيں۔ اور یہ معاملہ سیاسی رخ اختیار کرتا جارہا ہے۔ کیوں کہ ریاست میں آئندہ برس کے وسط میں پنچایتی انتخاب ہونے والے ہیں۔ |
اسی بارے میں نندی گرام: تشدد میں چار ہلاک08 November, 2007 | انڈیا ممتا بنرجی پارلیمان سے استعفیٰ دیں گی10 November, 2007 | انڈیا مغربی بنگال میں احتجاجاً سڑکیں بند 07 November, 2007 | انڈیا نندی گرام: گولی باری، دو ہلاک 29 April, 2007 | انڈیا ماؤ نوازوں کی اپیل، چار ریاستیں بند20 March, 2007 | انڈیا نندی گرام: کولکاتہ میں مظاہرے19 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||