BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 November, 2007, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مغربی بنگال میں احتجاجاً سڑکیں بند

مغربی بنگال فائل فوٹو
گزشتہ دنوں راشن کی دکانوں میں لوٹ مار اور آتشزنی کے واقعات ہوتے رہے
ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے حامیوں نے حکمراں مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے خلاف احتجاج کے طور پر کولکاتا سمیت کئی مقامات پر سڑکوں پر میں رکاوٹ کھڑی کی ہوئی ہیں۔

حزب اختلاف کی جماعتوں کا کہنا ہے کہ مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے حامی نندی گرام علاقے میں تشدد پھیلائے ہوئے ہیں۔

حزب اختلاف کی اہم جماعت ترنامول کانگریس کے کارکنوں نے ہاوڑاہ برج سمیت کئی ریلوے لائنوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں جن سے کولکاتا میں آنے والے ہزاروں کاروباری و ملازمین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز نندی گرام میں تین افراد کے ہلاک ہونے کے بعد فی الوقت ماحول کشیدہ لیکن قابو میں ہے۔ دوسری جانب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جھڑپ ميں زخمی ہونے والے پندرہ ميں سے چھ افراد کی حالت نازک ہے۔

اس سال کے اوائل پر بدھا حکومت کی جانب سے نندی گرام میں انڈونیشیا کی ایک کمپنی ’سلیم گروپ‘ سے ایک کیمیکل پلانٹ لگوانے کی کوشش کے خلاف وہاں کے عوام ’بھومی اچھید پرتیرودھ‘ (بی یو پی سی) کے تحت متحد ہوگئے تھے اور وہاں خونریز جھڑپوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جن میں چودہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد نندی گرام، جسے حکمراں سی پی ایم کا گڑھ مانا جاتا ہے، سے سی پی ایم کے کارکنوں کو بے دخل کر دیا گیا اور تب سے وہ پناہ گزین کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں۔

مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل
 بدھا حکومت نے نندی گرام کی معاملے پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے اور اعلان کیا کہ آئندہ ہفتے نندی گرام میں مرکزی سکیورٹی فورسز تعینات کی جائيں گی

گزشتہ ہفتے ہونے والے تشدد کے واقعات میں اب تک چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بدھا حکومت نے نندی گرام کی معاملے پر قابو پانے کے لیے مرکزی حکومت سے مدد کی اپیل کی ہے اور اعلان کیا کہ آئندہ ہفتے نندی گرام میں مرکزی سکیورٹی فورسز تعینات کی جائيں گی۔

حزب اختلاف کی رہنما ممتا بینرجی کا کہنا ہے تھا کہ ’بدھا حکومت نندی گرام میں دہشت گردی اور خوف کا ماحول پھیلانے میں ملوث ہے اس لیے وہاں آنے والے فوجی دستوں کی کمانڈ مرکز کے ہاتھ میں ہونا چاہیے اور ریاستی حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہونا چاہیے‘۔

بدھادیو سرکار جو راشن کی دکانوں ميں بدعنوانی کے معاملے اور رضوان معاملے پر پہلے ہی عوامی مخالفت میں گھری ہوئی ہے اب نندی گرام کے حالات خراب ہونے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد