نندی گرام: کولکاتہ میں مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست مغربی بنگال کے نندی گرام علاقے میں گزشتہ ہفتے پولیس فائرنگ میں ہلاکتوں اور اس کے بعد علاقے سے بعض افراد کی گمشدگی کی خبر کے مد نظر ریاست کی مسلم تنظیم جمعیت علمائے ہند نے پیر کے روز کولکاتہ میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں بعض افراد زخمی ہوئے۔ دلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی پولٹ بیورو کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات نے کہا کہ نندی گرام میں کشیدگی افسوسناک ہے، لیکن اس پتہ چلتا ہے کہ وہاں کی عوام حکومت کے ساتھ نہیں ہے۔ پرکاش کرات کا کہنا ہے کہ نندی گرام میں ریاست کی حزب اختلاف کی اہم جماعت ترنمول کانگریس اور نکسلی باغی کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں اور اس وجہ سے زمین کے معاملے پر نندی گرام کی عوام ہماری مخالف ہوگئی۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے نندی گرام مسئلے پر حکومت پر مغربی بنگال حکومت کو برخاسات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمان کی کارروائی میں مسلسل چوتھے روز رخنہ ڈالا جس کے بعد سپیکر نے ایوان کی کارروائی کل تک کے لیے ملتوی کردی۔ مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی پولٹ بیورو کے ممبر سیتا رام یچوری نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعت کو نندی گرام کے معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں وہ صرف اس معاملے پر سیاست کررہی ہے۔ نندی گرام میں اقتصادی زون کی تشکیل کے فیصلے کے بعد وہاں کے کسانوں نے سخت احتجاج کیا تھا جس کے بعد ریاستی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ نندی گرام میں خصوصی اقتصادی خطے نہیں بنائے جائيں گے اور کسانوں سے ان کی زمین نہیں لی جائے گی۔ حکومت کی اس یقین دہانی کے باوجود نندی گرام میں کشیدگی برقرار ہے۔ اس واقعہ میں چودہ افراد ہلاک جبکہ ستّر زخمی ہوگئے تھے۔ کولکاتہ ہائی کورٹ نے اس واقعہ کی سی بی آئی سے تفتیش کرانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ | اسی بارے میں نندی گرام: سو سے زائد لاپتہ، گرفتاریاں18 March, 2007 | انڈیا نندی گرام میں زمین نہیں لیں گے17 March, 2007 | انڈیا نندی گرام: ہڑتال سے زندگی مفلوج 16 March, 2007 | انڈیا نندی گرام: ہلاک شدگان میں اضافہ15 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||