BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 12:04 GMT 17:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نندی گرام میں زمین نہیں لیں گے
بدھ کو کسانوں کے مظاہرے پر پولیس فائرنگ میں درجن سے زائد افراد ہلاک ہو ئے (فوٹو فائل)
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی حکومت کا کہنا ہے کہ متنازعہ نندی گرام علاقے میں خصوصی اقتصادی خطے بنانے کے لیے زمین نہیں لی جائےگی۔ حکومت نے علاقے سے اضافی پولیس ہٹانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے یہ فیصلہ اس سلسلے میں اتحادی جماعتوں کے جانب سے دباؤ کے نتیجے میں کیا ہے۔

حکمران مارکس وادی پارٹی کی اتحادی جماعتیں، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی، فارورڈ بلاک اور آر ایس پی نے نندی گرام معاملے پر دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے وہاں سے پولیس نہیں ہٹائی اور کسانوں کے مفاد میں فیصلہ نہیں کیا تو ان کے وزیر کابینہ سے استعفی دے دیں گے۔

مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی اور اس کے اتحادیوں کے درمیان سنیچر کو ایک میٹنگ کے بعد پارٹی کے صدر ومن بوس نے بتایا ’میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جلد ہی نندی گرام سے اضافی پولیس کو ہٹا لیا جائے۔ یہ کام فوراً نہیں ہوگا تاہم پولیس دھیرے دھیرے ہٹا لی جائےگی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس علاقے میں خصوصی اقتصادی خطوں کے لیے کسانوں سے زمین نہیں خریدی جائےگی۔

اس دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں این ڈی اے یعنی قومی جمہوری محاذ کا ایک گروپ نندی گرام کا دورہ کرنے کولکتہ پہنچ گیا ہے۔

مغربی بنگال کے نندی گرام علاقے کے کسان بدھ کے روز مجوزہ کیمیائی صنعت کے لیے زمین کی الاٹمنٹ کی تجویز کی مخالفت میں احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے جب پولیس نے بے قابو بھیڑ پر فائرنگ کی تھی۔ اس واقعے میں چودہ افراد ہلاک اور ستّر زخمی ہوئے تھے۔ کولکتہ ہائی کورٹ نے اس واقعے کی سی بی آئی سے تفتیش کرانے کے احکامات دیے ہیں۔

نندی گرام میں کسانوں کے مظاہرے پر پولیس کی فائرنگ سے ہوئی ہلاکتوں کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر جمعہ کو مغربی بنگال میں نظامِ زندگی مفلوج رہا تھا۔

ہڑتال کے پیشِ نظر حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔ ہڑتال کا سب سے زیادہ اثر ریاست کے دارالحکومت کولکتہ میں پڑا جہاں سرکاری دفاتر کے ساتھ ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں بند رہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد