چائے باغات کے مالکان کو تنبیہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں حکام نے چائے باغات کے مالکان کو متنبہ کیا ہےکہ اگر ان کے پاس کام کرنے والے مزدوروں میں سے اب اگر کسی کی موت گندہ پانی پینے سے ہوتی ہے تو ان پر قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا۔ آسام میں گزشتہ پانچ مہینوں میں گندہ پانی پینے سے ایک سو پچھہتر افراد کی موت ہوئی ہے، جن میں بیشتر چائے باغات میں کام کرنے والے مزدور تھے۔ آسام کے وزیر صحت ہمنت بسوا سرما نے بی بی سی کو بتایا کہ سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کیونکہ چائے باغات کے مالکان مزدوروں کے لیے صاف پانی مہیا نہيں کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بھی دوسرے پراجیکٹس کے لیے مختص رقوم میں سے کچھ رقم ٹیوبویل لگانے کےلیے استعمال کر رہی ہے۔
حزب اختلاف نے حکومت کےاس قدم کو ’ڈرامہ‘ قراردیا ہے اور اسے چائے باغات میں کام کرنے والوں مزدوروں کی موت کی ذمہ داری سے خود کو الگ کرنے کا ہتھکنڈا بتایا۔ ہندوستان میں چائے باغات کے مالکان کی تنظیم نے بھی حکومت کے فیصلے پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت کا فیصلہ ’ مضحکہ خیز دلیل‘ پر مبنی ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا: ’اس دلیل کے مطابق صاف پانی کی فراہمی نہيں کرانے کے لیے شہر کے میئر کے خلاف بھی قتل کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔‘ وزیر صحت کا کہنا ہے کہ’ میں نے اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے اہلکاروں نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے کہ چائے باغات میں ہونے والی اموات کو روکا جاسکتا تھا۔‘ آسام ملک میں سب سے زیادہ چائے پیدا کرنے والی ریاست ہے اور یہاں آٹھ سو سے زیادہ چائے باغات ہیں جن میں ہزاروں افراد کام کرتے ہيں۔ حال ہی میں ان چائے باغات میں بھوک سے اموات کی خبریں بھی آئیں تھیں۔ |
اسی بارے میں چائے کے باغات میں ہڑتال11 July, 2005 | انڈیا چائے یاداشت بڑھائے27 October, 2004 | نیٹ سائنس مغربی بنگال: بھوک سے مرتے مزدور04 October, 2007 | انڈیا آسام: ہڑتال سے زندگی متاثر 04 April, 2007 | انڈیا چار مزیدغیرآسامی مزدوروں کا قتل12 August, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||