بدھ اور جمرات کو فیصل آباد کی ڈیڑھ لاکھ آبادی پر مشتمل غلام محمد آباد کالونی کے نلکوں میں آلودہ پانی آنے سے انتڑیوں اور معدے میں انفیکشن کی بیماری پھوٹ پڑی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق کم از کم ساڑھے تین ہزار بچوں بڑوں اور بوڑھوں نے سرکاری ہپستالوں سے رجوع کیا ہے جبکہ ایک محتاط اندازے کےمطابق نجی ہسپتالوں اور کلینکوں سے بھی تقریباً اتنے ہی افراد نے علاج کرایا ہے۔ حکام نے اب تک اگرچہ پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے لیکن مقامی ذرائع ابلاغ یہ تعداد بارہ تک بتا رہے ہیں۔ پاکستان بھر سے ہمارے پڑھنے والے پانی کی کمی اور آلودگی جیسے مسائل پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ آپ کے علاقے میں پانی کی کیا صورت حال ہے؟ کیا آپ کو پینے کا صاف پانی آسانی سے مل جاتا ہے؟
جاوید اقبال ملک، چکوال ہمارے شہر چکوال کی پندرہ لاکھ آبادی گندہ اور غلیز پانی پینے پر مجبور ہے۔ وہ پانی جس میں جانوروں کا فضلہ پھینکا جاتا ہے۔ مگر جو بھی حکومت آئی اس نے وعدے کیے، صرف وعدے، مگر عملاً کچھ نہیں کیا جس کی وجہ سے لوگ نجی ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ |