BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 August, 2007, 10:46 GMT 15:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چار مزیدغیرآسامی مزدوروں کا قتل

آسام میں تشدد میں مارے جانے والے ایک بہاری کے رشتے دار فائل فوٹو
آسام میں ہندی بولنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شدت پسندوں نے سنیچر کی رات چار مزید غیر آسامی مزدوروں کو ہلاک کردیا ہے۔

ریاست آسام میں بہار اور مشرقی اترپردیش سے آئے ہوئے ہندی بولنے والے مزدوروں پر ایک ہفتے کے دوران یہ تیسرا حملہ تھا۔ان حملوں میں کم از کم تیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

یہ تازہ واقعہ ریاست کے کاربی آنگ لانگ ضلع میں پیش آيا ہے۔ بدھ اور جمعہ کو غیر آسامی آبادی کے مزدورں پر ہونے والا حملہ بھی اسی ضلع میں پیش آيا تھا۔

حکام کا کہنا ہےکہ کاربی آنگ لانگ ضلع کے رنگ محل گھاٹ گاؤں میں سنیچرکی رات مسلح شدت پسندوں نے غیر آسامی آبادی کےگھروں پرگولی چلائی اور فائرنگ کے تبادلے میں ایک خاتون اور ایک بچہ سمیت چار افراد موقع پر ہلاک ہوگئے۔

پولیس حکام کو شبہ ہے کہ اس واقعہ کے پیچھے علیحدگی پسند تنظیم یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام یعنی ’الفا‘ اور اس کے معاون شدت پسند گروپ کاربی نیشنل لبریشن فرنٹ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔

سینئر پولیس آفسر ایس کےگگوئی کا کہنا ہے کہ باغیوں نے کاربی آنگ لانگ ضلع کو اس لیے منتخب کیا ہے کیو ں کہ اس ضلع میں سیکورٹی اہلکاروں کی کمی ہے اور زیادہ تر سیکورٹی اہلکاروں کو آسام کے اوپری علاقوں میں تعینات کیا گیا ہے جہاں باغیوں نے اس برس کی شروعات میں غیر آسامی آبادیوں پر حملے کیے تھے۔

کاربی آنگ لانگ ضلع کے ڈپٹی کمشنر ایم انگاموتھو کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ غیر آسامی آبادی کو محفوظ جگہ پر پہنچانے کی کوشش کررہی ہے۔

 گزشتہ سال ستمبر میں حکومت اور ’الفا‘ کے درمیان امن مذاکرات ٹوٹ جانے کے بعد سے شدت پسندوں کے حملے تیز ہوگئے ہیں اور شدت پسند اب تک ہندی بولنے والے تقریباً ایک سو پچاس افراد کو ہلاک کر چکے ہیں

اس دوران خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے ہندی بولنے والی آبادی کےافراد کے قتل کی مذمت کی ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہےکہ وزیر اعظم کے دفتر کےایک ترجمان نے بتایا ہے کہ ریاستی حکومت سے وزیر اعظم رابطہ میں ہیں۔

دوسری جانب بہار کے وزیر اعلٰی نتیش کمار نے آسام میں ہلاکت پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور مرکزی حکومت سےجلد از جلد مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے ان کا کہنا تھا’ یہ پہلا موقع نہيں ہے جب آسام میں بہاری مزدوروں پر حملے ہوئے ہیں۔مرکزاور ریاست میں حکمراں کانگریس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس لسانی تشدد پر قابو پائے‘۔

واضح رہے کہ آسام میں باغیوں کے حملہ میں مارے جانے والے زيادہ تر افراد کا تعلق ریاست بہار سے ہے۔

گزشتہ سال ستمبر میں حکومت اور ’الفا‘ کے درمیان امن مذاکرات ٹوٹ جانے کے بعد سے شدت پسندوں کے حملے تیز ہوگئے ہیں اور شدت پسند اب تک ہندی بولنے والے تقریباً ایک سو پچاس افراد کو ہلاک کر چکے ہیں۔

الفا نےاپنی تحریک کے دوران اکثر و بیشتر بنگالی مسلمانوں سمیت بہار اور اتر پردیش کے مزدوروں کو نشانا بنایا ہے۔ الفا انیس سواناسی سے آسام کی آزادی کے لیے پر تشدد تحریک چلائے رہی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ باغیوں کا تازہ حملہ آزادی کے ساٹھ سالہ جشن کے موقع پر ہونے والی تقریب میں رخنہ ڈالنے کی کوشش ہے ۔ الفا اور دیگر باغی تنظیموں نے شمال مشرقی ریاستوں میں جشن آزادی کی تقریب سے عوام کو دور رہنے کا نعرہ دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد