BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 October, 2007, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یو پی کے سابق وزیر کو عمر قید
 امرمنی ترپاٹھی
امرمنی ترپاٹھی کو موت کی سزا دی جانی چاہیے تھی: مقتل کی بہن
ہندوستان کے شمالی شہر دہرادون کی ایک خصوصی عدالت نے شاعرہ مدھومیتا شکلا کےقتل کے مقدمے میں ریاست اترپردیش کے سابق ریاستی وزیر امر منی ترپاٹھی اور ان کی اہلیہ سمیت چار افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔

بدھ کو وی بی رائے کی عدالت نے امرمنی ترپاٹھی، ان کی اہلیہ مدھومنی، روہت چودھری اور سنتوش رائے کو عمر قید کی سزا سنائی ہے جبکہ ایک دیگر ملزم پرکاش پانڈے کوبری کر دیا ہے۔ عدالت نے چاروں پر پچاس پچاس ہزار روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

دہرادون میں بی بی سی کی نامہ نگار شالنی جوشی کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کے وکیل راج موہن چاند نے فیصلے کو اطمینان بخش قرار دیا ہے۔ بقول مسٹر چاند، ’ہمارے پاس پختہ ثبوت تھے۔‘

سال دو ہزار تین ميں شاعرہ مدھو میت شکلا کی پراسرار حالت ميں موت لکھنؤ میں واقع ان کے فلیٹ پر ہوگئی تھی۔ موت کے وقت مدھو میتا حمل سے تھیں اور ڈی این اے ٹسٹ کے مطابق ان کے سکم میں پل رہا بچہ امر منی ترپاٹھی کا تھا۔

ڈی این اے ٹسٹ
 سال دو ہزار تین ميں شاعرہ مدھو میت شکلا کی پراسرار حالت ميں موت لکھنؤ میں واقع ان کے فلیٹ پر ہوگئی تھی۔ موت کے وقت مدھو میتا حمل سے تھیں اور ڈی این اے ٹسٹ کے مطابق ان کے سکم میں پل رہا بچہ امر منی ترپاٹھی کا تھا۔
استغاثہ کے مطابق مدھومیتا کا حمل ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا کیونکہ ملزم ان کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے۔ خیال کیا جاتا کہ امرمنی کی بیوی کے اشارے پر مدھومیتا کا قتل کیا گيا کیوں کہ وہ مدھومیتا کواپنے شوہر سے الگ کرنا چاہتی تھیں۔

مدھومیتا کنواری تھی اور امرمنی سے ان کے تعلقات تھے۔ امر منی ترپاٹھی پر بھی مدھومیتا کے قتل کی سازش کا الزام ہے تاہم وہ اس الزم کا انکار کرتے رہے ہيں۔ ان کا کہنا رہا ہےکہ ان کے سیاسی کریئر کو نقصان پہنچانے کے لیے حزب مخالف سازش کر رہی ہے۔

زبردست سیاسی تنازعہ کے بعد اس قتل کے مقدمے کی تفتیش سی بی آئی کے حوالے کر دی گئی تھی اور امر منی کو اس وقت کی حکومت کے وزرات سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ بعد میں مسٹر ترپاٹھی بہوجن سماج وادی پارٹی سے الگ ہو کر سماج وادی پارٹی میں شامل ہوئے گئے اور اس وقت اترپردیش کے ریاستی اسمبلی کے رکن ہیں۔

گزشتہ مارچ اس مقدمے کی سماعت سپریم کورٹ کے حکم کے بعد لکھنؤ سے دہرادون منتقل کی گئی تھی کیوں کہ مقدمہ کی اہم گواہ اور مدھو میتا شکلا کی بہن نیہا شکلا نےعدالت سے درخواست کی تھی کہ اس معاملے کو لکھنؤ سے باہر منتقل کر دیا جائے ورنہ آبائی ریاست ميں امرمنی اس مقدمہ کے منصفانہ سماعت نہیں ہونے دیں گے۔

لکھنؤ میں بی بی سی کے نامہ نگار رام دت ترپاٹھی کا کہنا ہےکہ مدھو میتا کی بہن نیہا شکلا نے نامہ نگاروں کو آج کے فیصلے پر اپنی بے اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ محترمہ نیہا نے کہا کہ انہیں ’امرمنی سے جان کوخطرہ لاحق ہے اس لیے انہيں موت کی سزا ملنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں
سنجے پھرسلاخوں کے پیچھے
22 October, 2007 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد