BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 September, 2007, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہڑتال کی سیاست غلط ہے :عدالت
ہندوستانی سپریم کورٹ
ہڑتال پر عدالت کے سابقہ فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے بینچ نےاسےغیر قانونی اورغیر آ‏ئینی قرار دیا
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے تمل ناڈو میں ریاست کی حکمراں جماعت دراوڈ منیترم کزگم (ڈی ایم کے) کی جانب سے پیر کے روز اعلان شدہ ریاست گیر ہڑتال پر پابندی لگادی ہے۔

عدالت نے ہڑتال کی سیاست کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس دیے ہیں۔

ڈی ایم کے نے پیر کو سیتو سمندرم پراجیکٹ کی حمایت میں تمل ناڈو میں ہڑتال کرنے کا اعلان کیا تھا۔جبکہ اس کے خلاف وہاں حزب اختلاف کی جماعت آل انڈیا دراوڈ منیترم کزگم (اے آئی ڈی ایم کے) نے ہڑتال کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔

اتوار کو سپریم کورٹ میں تعطیل ہوتی ہے لیکن اس معاملے پر کارگزار چیف جسٹس بی این اگروال اور پی پی ناؤلیکر کی بینچ نے ایک خصوصی سماعت کے دوارن ڈی ایم کے اور ان کی اتحادی جماعتوں سے کہا ہےکہ کسی بھی سیاسی جماعت کی جانب سے ہڑتال کا اعلان غیر مناسب ہے کیوں کہ اس سے عام زندگی کوکافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ہڑتال پر عدالت کے سابقہ فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے بینچ نے اس سے غیر قانونی اور غیر آ‏ئینی قرار دیا۔

دوسری جانب عدالت کے فیصلے کے خلاف ڈی ایم کے کے رہنما ایم کروناندھی نے بھوک ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

عدالت میں دونوں فریقین نے تین گھنٹے تک اپنی اپنی دلیلیں دیں۔ اور اس دوران بینچ نے تلخ ریمارکس دیے۔عدالت نے کہا ’ اس ملک میں یہی مسئلہ ہے، ہمیں ہر معاملے میں سخت رخ اپنانا پڑے گا۔ نہیں تو بات نہیں بنے گی‘۔

اے آئی ڈی ایم کے کے وکیل این جیوتی نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے عدالت کے سامنے ہڑتال کے دوران عام آدمی کی تکلیفوں کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایم کے سیتو سمندرم معاملے کو طول دے کر تمل ناڈو میں نیاتنازعہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔

سیتو سمندرم پراجیکٹ ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو اور سری لنکا کے درمیان سمندری راستے بنانے کا پراجیکٹ ہے جسے حکومت پہلے ہی منظوری دے چکی ہے لیکن بعض ہندو سخت گیر جماعتیں اس کی مخالفت کررہی ہیں کیوں کہ ان کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ سے بھگوان رام کے ذریعہ بنائے گئے پل(رام سیتو) کو نقصان پہنچے گا۔

جس سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ محمکہ آثار قدیمہ کے مطابق رام سیتو پل ایک تصوراتی پل ہے اور اس کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد